بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مقالات ومضامین مفتی محمد خالد سیف اللّٰہ قاسمی
خوش آمدید

مقالات ومضامین

یہاں دینی، علمی، فکری، ادبی، تحقیقی اور اصلاحی موضوعات پر مفتی محمد خالد سیف اللّٰہ قاسمی کے مضامین و مقالات پیش کیے جاتے ہیں۔

تازہ مضامین

ہندوستان کے سفرِ آزادی میں مجاہدین کی جدوجہد

دن نکلتا ہے تو سو رنگ بدلتا ہے فلک
یوں ہی قائم نہیں ہندوستان کا وقار
ہزاروں سرفروشوں نے دیا ہے خون کا نذرانہ
تب جا کے مہکی ہے گلشن میں یہ بہار

معزز قارئین!

آج مجھے جس تاریخی اور مقدس موضوع پر قلم اٹھانے کا موقع ملا ہے، وہ 1757ء سے 1947ء تک کے وہ 190 سال ہیں جنہوں نے ہمارے ملک کی تقدیر لکھی۔

آج ہم جس آزاد اور خودمختار ہندوستان میں سانس لے رہے ہیں، یہ کسی ایک دن کی محنت نہیں، بلکہ دو صدیوں پر محیط خون، پسینے، اور قربانیوں کا داستانِ عظیم ہے۔

ہندوستان کے سفرِ آزادی میں مجاہدین کی جدوجہد
ہندوستان کے سفرِ آزادی میں مجاہدین کی جدوجہد

پہلا دور (1757ء - 1803ء) : ایسٹ انڈیا کمپنی کا پھیلاؤ اور ابتدائی مقاومت

جدوجہدِ آزادی کا پہلا دَور 1757ء کی ’’جنگِ پلاسی‘‘ سے شروع ہوتا ہے۔

نواب سراج الدولہ:

جب ’’انگریزی ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ نے ’’بنگال‘‘ پر قبضہ کرنا چاہا، تو بنگال کے نوجوان نواب ’’سراج الدولہ‘‘ نے میدانِ جنگ میں ان کا مقابلہ کیا اور وطن کی حفاظت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔

شیرِ میسور ٹیپو سلطان (1782ء - 1799ء):

اس کے بعد ’’میسور‘‘ کی زمین پر ’’ٹیپو سلطان‘‘ اور ان کے والد ’’حیدر علی‘‘ نے انگریزوں کے خلاف تاریخی مقاومت کی۔ ٹیپو سلطان نے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا تھا کہ ’’گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے‘‘ — اور 1799ء میں سرنگا پٹم کے میدان میں لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔

دوسرا دور (1803ء - 1831ء) : شاہ عبدالعزیزؒ کا فتویٰ اور تحریکِ مجاہدین

پھر جب 1803ء میں انگریزوں نے دہلی پر قبضہ کر کے مغل شہنشاہ کو صرف برائے نام حکمران بنا دیا، تو اس وقت کے عظیم محدث حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے وہ تاریخی فتویٰ صادر فرمایا جس نے آزادی کی تحریک کو شرعی اور فکری بنیاد فراہم کی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ’’ہندوستان اب ’دارالحرب‘ بن چکا ہے۔ انگریزی سامراج کا غصب شدہ تسلط ختم کرنا اور آزادی کے لیے جدوجہد کرنا ہر ہندوستانی پر فرض ہے۔‘‘

اسی فتوے کی روشنی میں ان کے شاگرد سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ نے تحریکِ مجاہدین کی بنیاد رکھی اور 1831ء میں بالاکوٹ کے مقام پر انگریزوں اور ان کے اتحاد کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

تیسرا دور (1857ء) : پہلی جنگِ آزادی اور علمائے دیوبند کا کردار

پھر آیا 1857ء کا تاریخی سال، جب پورا ہندوستان انگریزوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آیا۔

عوامی و نظامی قیادت:

منگل پانڈے کی بغاوت، جھانسی کی رانی لکشمی بائی کا مردانہ وار مقابلہ، تاتیا ٹوپے اور آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے اس جنگ کی قیادت کی۔

میدانِ شاملی اور علمائے کرام:

اس جنگ میں علمائے کرام نے بھی پیش پیش ہو کر قیادت کی۔ حاجی امداد اللّٰہ مہاجر مکیؒ کی امارت میں مولانا قاسم نانوتویؒ (بانی دارالعلوم دیوبند) اور مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے شاملی کے میدان میں انگریزی فوج کا ڈٹ کر مردانہ وار مقابلہ کیا۔

سخت مظالم:

جنگ ناکام ہونے کے بعد انگریزوں نے انتقام کی آگ میں ہزاروں علماء کو درختوں پر پھانسیاں دیں اور جلاوطن کیا۔

دارالعلوم دیوبند کا قیام (1866ء):

1857ء کی ناکامی کے بعد مولانا قاسم نانوتویؒ نے 1866ء میں دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی۔ اس مدرسے کا مقصد صرف مذہبی تعلیم دینا نہیں تھا، بلکہ آزادی کے لیے فکری اور اخلاقی مجاہدین تیار کرنا تھا۔

چوتھا دور (1885ء - 1916ء) : سیاسی بیداری اور تحریکِ ریشمی رومال

1885ء میں انڈین نیشنل کانگریس کے قیام کے ساتھ جدوجہدِ آزادی سیاسی محاذ پر منتقل ہوئی جہاں دادا بھائی نوروجی اور بال گنگادھر تلک جیسے رہنماؤں نے عوام کو بیدار کیا۔

دوسری طرف، انگریزوں کو جڑ سے اکھاڑنے کا سب سے منظم اور خفیہ منصوبہ تحریکِ ریشمی رومال (Silk Letter Movement) کے نام سے شروع ہوا۔

شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کا منصوبہ:

دارالعلوم دیوبند کے پہلے طالب علم شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور ان کے شاگرد مولانا عبید اللّٰہ سندھیؒ نے ریشمی کپڑے پر خفیہ خطوط کے ذریعے افغانستان، ترکی اور حجاز کے ساتھ مل کر انگریزوں پر عالمی حملے کی منصوبہ بندی کی، لیکن یہ منصوبہ افشا ہو گیا۔

اسیرِ مالٹا:

جب یہ منصوبہ افشا ہوا، تو انگریزوں نے 1916ء میں شیخ الہندؒ اور ان کے جلیل القدر شاگرد مولانا حسین احمد مدنیؒ کو گرفتار کر کے بحیرہ روم کے جزیرے مالٹا کی جیل میں قید کر دیا۔

ہولناک مظالم:

80 سال کے ضعیف شیخ الہندؒ کی پیٹھ پر گرم لوہے کی سلاخیں داغی گئیں، لیکن اس مردِ مجاہد کے ایقان میں ذرہ برابر لغزش نہ آئی۔

پانچواں دور (1919ء - 1947ء): عوامی تحاریک، انقلابی اور حتمی آزادی

مالٹا سے رہائی کے بعد شیخ الہندؒ نے ملک میں سیاسی اور عوامی اتحاد پر زور دیا۔ 1919ء میں جمعیت علماء ہند اور کانگریس کے اشتراک سے ایک نیا باب شروع ہوا۔

گاندھیائی دور:

مہاتما گاندھی کی قیادت میں عدم تعاون تحریک، نمک ستیاگرہ، اور خلافت تحریک میں مولانا ابوالکلام آزادؒ، پنڈت نہرو، سردار پٹیل، اور خان عبدالغفار خان نے ملک کو ایک پرچم تلے جمع کیا۔

انقلابی شہداء:

دوسری جانب بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، اشفاق اللّٰہ خان، اور رام پرساد بسمل جیسے جوانوں نے اپنی جانیں قربان کر کے انقلاب کا نعرہ بلند کیا۔

آزاد ہند فوج:

نیتا جی سبھاش چندر بوس نے ’’آزاد ہند فوج‘‘ بنا کر مسلح جدوجہد کی اور نعرہ دیا: ’’تم مجھے خون دو، میں تمہیں آزادی دوں گا۔‘‘

ہندوستان چھوڑ دو (1942ء):

بالآخر 1942ء میں "Quit India" تحریک نے انگریزی سامراج کی آخری کیل ٹھونک دی۔

اختتامیہ

1757ء میں نواب سراج الدولہ کے خون سے شروع ہونے والا یہ سفر، شاہ عبدالعزیزؒ کے فتوے، 1857ء کے شہداء، شیخ الہندؒ کی مالٹا کی اسیری، گاندھی جی کی تحریکوں اور بھگت سنگھ و اشفاق اللّٰہ خان کی سولیوں سے ہوتا ہوا 15 اگست 1947ء کو آزادی کے سورج کی صورت میں طلوع ہوا۔

آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس آزادی کی قدر کریں، آپسی بھائی چارے اور اتحاد کو قائم رکھیں اور اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔

شہیدوں کی چتاؤں پر لگیں گے ہر برس میلے
وطن پر مرنے والوں کا یہی باقی نشاں ہوگا

ہندوستان زندہ باد

بہت بہت شکریہ

***

آزادی ہند، شیخ الہندؒ اور تحریکِ ریشمی رومال: تاریخ کا ایک سنہرا باب

ہندوستان کی تاریخِ آزادی کا مطالعہ اگر غیر جانبداری اور باریک بینی سے کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس دھرتی کو فرنگی تسلط سے آزاد کرانے کے لیے جہاں خون کی ندیاں بہائی گئیں، وہیں عزم و ہمت، تدبر اور حکمتِ عملی کے ایسے نادر دستانے بُنے گئے جن کی نظیر دنیا کی حریت پسند تحریکوں میں کم ہی ملتی ہے۔ انہی جلیل القدر مجاہدین میں ایک نمایاں نام حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ (معروف بہ شیخ الہند) کا ہے، جن کی قیادت میں ابھرنے والی "تحریکِ ریشمی رومال" (Silk Letter Movement) آزادیٔ ہند کی جدوجہد میں حکمت اور شجاعت کا ایک منفرد باب ہے۔

آزادی ہند، شیخ الہندؒ اور تحریکِ ریشمی رومال: تاریخ کا ایک سنہرا باب
 آزادی ہند، شیخ الہندؒ اور تحریکِ ریشمی رومال: تاریخ کا ایک سنہرا باب

شیخ الہند اور فکرِ آزادی

دارالعلوم دیوبند کے پہلے طالب علم اور بعد میں اس کے صدر المدرسین، حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ (1851ء - 1920ء) صرف ایک قال قال الرسول کے مسند نشیں عالم نہیں تھے، بلکہ ان کے سینے میں آزادیِ ہند کی ایک تڑپتی ہوئی روح موجود تھی۔ وہ 1857ء کی جنگِ آزادی کی ناکامی اور اس کے بعد علمائے کرام پر ہونے والے مظالم کے چشم دید گواہ تھے۔ ان کا پختہ نظریہ تھا کہ جب تک انگریز کو اس ملک سے اقتدار سے بے دخل نہیں کیا جاتا، اس وقت تک نہ تو اس ملک کی عوام خوشحال ہو سکتی ہے اور نہ ہی تہذیبی و مذہبی آزادی ممکن ہے۔

تحریکِ ریشمی رومال: پس منظر اور منصوبہ

1914ء میں جب پہلی جنگِ عظیم چھڑی، تو شیخ الہندؒ نے اس موقع کو غنیمت جانا اور برطانیہ کے خلاف ایک بین الاقوامی محاذ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس تحریک کا مقصد ہندوستان کے اندر سے ایک ہمہ گیر بغاوت کی تیاری اور باہر سے مسلم ممالک (خصوصاً سلطنتِ عثمانیہ، افغانستان اور ایران) کی مدد سے انگریزوں پر حملہ آور ہونا تھا۔

اس خفیہ منصوبے کی ترتیب کچھ یوں تھی:

  1. افغانستان کی سرحد پر مرکز: شیخ الہندؒ نے اپنے سب سے اعتماد والے شاگرد مولانا عبید اللہ سندھیؒ کو 1915ء میں کابل روانہ کیا تاکہ وہ وہاں کی حکومت کو انگریزوں کے خلاف تیار کریں اور بین الاقوامی روابط استوار کریں۔

  2. عرب ممالک کا دورہ: شیخ الہندؒ خود 1915ء میں حجاز (سعودی عرب) تشریف لے گئے تاکہ وہاں موجود عثمانی گورنر غالب پاشا سے ملاقات کر کے ان کی حمایت حاصل کریں۔ غالب پاشا نے ان کی درخواست پر ایک تاریخی دستاویز جاری کی جسے "غالب نامہ" کہا جاتا ہے، جس میں انگریزوں کے خلاف جہاد کی حمایت کا اعلان کیا گیا تھا۔

ریشمی خطوط: راز کا افشا

اس تحریک کو "تحریکِ ریشمی رومال" کا نام اس لیے ملا کیونکہ اس کے خفیہ پیغامات اور خطوط پیلے رنگ کے ریشمی کپڑے پر مخصوص علامتوں اور کوڈ ورڈز (Code Words) کے ذریعے لکھے جاتے تھے تاکہ وہ کسی کی نظر میں نہ آئیں اور پانی یا دھول سے خراب نہ ہوں۔

3 جولائی 1916ء کو مولانا عبید اللّٰہ سندھیؒ نے کابل سے شیخ الہندؒ کے نام (جو اس وقت حجاز میں تھے) اور دیگر ساتھیوں کے نام زرد ریشمی کپڑے پر تین اہم خطوط لکھے۔ ان خطوط میں:

  • تحریک کی پیش رفت اور افغانستان میں ہونے والے معاہدوں کی تفصیلی رپورٹ تھی۔

  • "الجنود الربانیہ" (خدائی فوج) کے نام سے ایک بین الاقوامی عسکری تنظیم کی تشکیل کا ذکر تھا، جس کا ہیڈکوارٹر مدینہ منورہ اور شاخیں مختلف ممالک میں رکھی جانی تھیں۔

بدقسمتی سے، یہ خطوط پنجاب کے ایک انگریز نواز زمیندار ربنواز کے ہاتھ لگ گئے، جس نے اپنے بیٹے عبدالحق کے ذریعے ان خطوط کو حکومت کے حوالے کر دیا۔ انگریز حکومت نے اگست 1916ء میں اس سازش کا سراغ لگا لیا اور یوں یہ عظیم منصوبہ تاریخ کے اوراق میں افشا ہو گیا۔

مالٹا کی قید اور عظیم قربانی

اس راز کے افشا ہوتے ہی انگریز حکومت نے وسیع پیمانے پر گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا۔ شریفِ مکہ (جس نے عثمانیوں کے خلاف بغاوت کر کے انگریزوں سے ہاتھ ملا لیا تھا) کے ذریعے شیخ الہندؒ اور ان کے وفادار ساتھیوں—مولانا حسین احمد مدنیؒ، مولانا وحید احمد فیض آبادیؒ، مولانا عزیز گلؒ اور حکیم نصرت حسینؒ—کو حجاز میں گرفتار کروا دیا گیا۔

1917ء میں ان جلیل القدر ہستیوں کو بحیرہ روم کے جزیرے **مالٹا** منتقل کر دیا گیا، جہاں انہوں نے تین سال سے زائد کا عرصہ سخت ترین قید و بند کی صعوبتوں میں گزارا۔ شدید سردی، نامساعد حالات اور جسمانی ایذارسانی کے باوجود شیخ الہندؒ کے عزم و استقلال میں ذرہ برابر لغزش نہ آئی۔

واپسی اور جانشینی کا پیغام

جون 1920ء میں قید سے رہائی کے بعد جب شیخ الہندؒ ہندوستان واپس لوٹے، تو ان کا جسم نڈھال ہو چکا تھا لیکن روح اب بھی بیدار تھی۔ گاندھی جی اور دیگر قومی رہنماؤں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ شیخ الہندؒ نے ہندو مسلم اتحاد کی اہمیت پر زور دیا اور عدم تعاون کی تحریک کی مکمل حمایت کی۔ نومبر 1920ء میں ان کا انتقال ہو گیا، لیکن ان کی جلائی ہوئی شمعِ آزادی نے آنے والی نسلوں کو راہ دکھائی۔

حاصلِ کلام

تحریکِ ریشمی رومال محض ایک ناکام خفیہ منصوبہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس حقیقت کا بین ثبوت تھا کہ ہندوستان کے علمائے کرام اور حریت پسند رہنما آزادی کے لیے کس حد تک بصیرت، عالمی سفارت کاری اور اعلیٰ درجے کی منصوبہ بندی کی صلاحیت رکھتے تھے۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی قربانی اور ان کی عسکری و سیاسی بصیرت تاریخِ ہند کا وہ روشن باب ہے جو ہمیشہ آنے والی نسلوں کو وطن سے محبت اور حق کے لیے سرفروشی کا سبق دیتا رہے گا۔

***

ہندوستان میں مدارس کا کردار، آئینی حیثیت اور بے بنیاد الزامات کی حقیقت

ہندوستان ایک ایسا عظیم جمہوری ملک ہے جس کی بنیاد مذہبی آزادی، ثقافتی تنوع اور آئین کی بالادستی پر قائم ہے۔ اس ملک کا آئین ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، اپنی مذہبی تعلیم کے مراکز قائم کرنے اور اپنی تہذیبی و تعلیمی شناخت کو محفوظ رکھنے کا بنیادی حق دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں نے اپنے اپنے تعلیمی، مذہبی اور سماجی ادارے قائم کیے ہیں، جنہیں آئین کی مکمل حفاظت حاصل ہے۔


ہندوستان میں مدارس کا کردار، آئینی حیثیت اور بے بنیاد الزامات کی حقیقت

مسلمانوں کے دینی تعلیمی مراکز، یعنی مدارس، بھی اسی آئینی حق کے تحت قائم ہیں۔ مدارس محض درس گاہیں نہیں بلکہ اخلاق، کردار، روحانیت، خدمتِ خلق اور دینی علوم کے مراکز ہیں۔ ان اداروں نے صدیوں سے ایسے افراد تیار کیے ہیں جنہوں نے معاشرے میں امن، رواداری، دیانت داری اور انسانی اقدار کو فروغ دیا ہے۔ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں بھی متعدد علماء اور مدارس سے وابستہ شخصیات نے نمایاں کردار ادا کیا، جس کا اعتراف تاریخ کے مستند صفحات میں موجود ہے۔

آج بھی ہزاروں مدارس ایسے علاقوں میں تعلیم کی خدمت انجام دے رہے ہیں جہاں غریب اور پسماندہ طبقے کے بچوں کے لیے معیاری تعلیم کے وسائل محدود ہیں۔ مدارس میں قرآن، حدیث، فقہ، عربی زبان اور اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ متعدد اداروں میں عصری مضامین بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ ان اداروں کا بنیادی مقصد بااخلاق، ذمہ دار اور قانون پسند شہری تیار کرنا ہے۔

افسوس کا مقام ہے کہ وقتاً فوقتاً بعض سیاسی شخصیات، مصنفین یا عوامی زندگی سے وابستہ افراد مدارس کے بارے میں ایسے بیانات دیتے ہیں جن میں انہیں شدت پسندی یا دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس نوعیت کے عمومی الزامات نہ صرف بے بنیاد ہوتے ہیں بلکہ وہ لاکھوں طلبہ، اساتذہ اور دینی خدمت انجام دینے والے افراد کی عزت و وقار کو بھی مجروح کرتے ہیں۔ اگر کسی فرد یا ادارے پر قانون شکنی کا کوئی الزام ہو تو اس کی جانچ اور فیصلہ قانون کے مطابق ہونا چاہیے، لیکن پورے نظامِ مدارس یا کسی مذہبی طبقے کو اجتماعی طور پر موردِ الزام ٹھہرانا انصاف، آئینی مساوات اور اخلاقی ذمہ داری کے خلاف ہے۔

اسی طرح کسی بھی ادیب، دانشور یا عوامی شخصیت کی طرف سے مدارس یا کسی مذہبی ادارے کے بارے میں تحقیر آمیز یا اشتعال انگیز زبان استعمال کرنا ایک مہذب اور کثرت پسند معاشرے کے شایانِ شان نہیں۔ اختلافِ رائے ہر جمہوریت کا حسن ہے، لیکن اختلاف کو نفرت، تمسخر یا عمومی الزام تراشی کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ دلیل کا جواب دلیل سے دیا جانا چاہیے، نہ کہ تعمیم، اشتعال انگیزی یا نفرت انگیز بیانات سے۔

ہندوستان کا آئین ہر مذہب کے پیروکاروں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنے مذہبی اور تعلیمی ادارے قائم کریں اور ان کا انتظام کریں، بشرطیکہ وہ ملک کے قوانین کی پابندی کریں۔ جس طرح ہندو، سکھ، عیسائی، بدھ، جین اور دیگر مذاہب کے تعلیمی و مذہبی اداروں کو اپنے عقائد کے مطابق کام کرنے کی آزادی حاصل ہے، اسی طرح مسلمانوں کے مدارس بھی اسی آئینی تحفظ اور مساوی احترام کے مستحق ہیں۔ جمہوری معاشرے میں کسی ایک مذہب کے اداروں کو نشانہ بنانا یا ان کے بارے میں عمومی منفی تاثر پیدا کرنا آئینی مساوات اور سماجی ہم آہنگی دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ مدارس کے لاکھوں فارغین مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ مساجد میں امامت و خطابت، دینی تعلیم، سماجی اصلاح، رفاہی خدمات، مصالحتی کردار، اخلاقی تربیت اور انسان دوستی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ قدرتی آفات اور انسانی بحرانوں کے مواقع پر بھی متعدد دینی ادارے اور ان کے وابستگان امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ اس لیے مدارس کو صرف تعصبات یا سیاسی بیانیوں کی بنیاد پر دیکھنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مدارس کے بارے میں گفتگو حقائق، تحقیق اور ذمہ دارانہ انداز میں کی جائے۔ اگر کسی تعلیمی ادارے میں بہتری کی ضرورت ہو تو اس پر تعمیری مکالمہ ہونا چاہیے، لیکن پورے نظام کو بدنام کرنا نہ علمی دیانت ہے اور نہ ہی جمہوری اقدار کے مطابق۔

ہندوستان کی اصل طاقت اس کی گنگا جمنی تہذیب، مذہبی رواداری اور آئینی مساوات میں پوشیدہ ہے۔ اس طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر مذہب کے ماننے والوں کے عقائد، عبادت گاہوں اور تعلیمی اداروں کا یکساں احترام کیا جائے۔ نفرت انگیز بیانات، اجتماعی الزام تراشی اور مذہبی منافرت نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ ملک کے آئینی اور جمہوری تشخص کو بھی کمزور کرتی ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ مدارس ہندوستان کی تعلیمی و مذہبی روایت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ان کے بارے میں کوئی بھی رائے حقائق، قانون اور انصاف کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے، نہ کہ تعصب یا سیاسی اختلاف پر۔ ایک مضبوط، پرامن اور ترقی یافتہ ہندوستان اسی وقت ممکن ہے جب تمام شہریوں اور تمام مذہبی اداروں کے آئینی حقوق کا احترام کیا جائے اور اختلافِ رائے کو شائستگی، انصاف اور باہمی احترام کے دائرے میں رکھا جائے۔

***

نئے ہجری سال 1448 کی آمد مبارک

"ہجری سال (Islamic Calendar)" مسلمانوں کا مذہبی تقویم (کیلنڈر) ہے، جس کا آغاز پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مکہ سے مدینہ ہجرت کے واقعے سے ہوتا ہے۔

اس کیلنڈر کے بارے میں کچھ اہم اور دلچسپ معلومات درج ذیل ہیں:


نئے ہجری سال 1448 کی آمد مبارک

بنیادی معلومات

قمری نظام: ہجری سال کا انحصار چاند کی گردش (Lunar System) پر ہوتا ہے۔ چاند کو دیکھ کر ہی نئے مہینے کا آغاز ہوتا ہے۔

دنوں کی تعداد: ایک ہجری سال میں 354 یا 355 دن ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ شمسی کیلنڈر (Gregorian Calendar) سے ہر سال تقریباً 10 سے 11 دن چھوٹا ہوتا ہے۔

شروعات: ہجری کیلنڈر کی باقاعدہ شروعات حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت میں ہوئی۔

ہجری سال کے 12 مہینے

ہجری سال میں بھی 12 مہینے ہوتے ہیں، جن کے نام ترتیب وار یہ ہیں:

  1. محرم الحرام (جس سے اسلامی نئے سال کا آغاز ہوتا ہے)

  2. صفر المظفر

  3. ربیع الاول

  4. ربیع الثانی

  5. جمادی الاول

  6. جمادی الثانی

  7. رجب المرجب

  8. شعبان المعظم

  9. رمضان المبارک (روزوں کا مہینہ)

  10. شوال المکرم (جس کی پہلی تاریخ کو عید الفطر ہوتی ہے)

  11. ذوالقعدہ

  12. ذوالحجہ (حج اور عید الاضحیٰ کا مہینہ)

🌙✨ عید الاضحیٰ مبارک ✨🌙


دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اس مقدس موقع پر آپ کی تمام عبادات، قربانی، دعائیں اور نیک تمنائیں اپنی بارگاہ میں شرفِ قبول عطا فرمائے، آپ کی زندگی کو خوشیوں، رحمتوں، برکتوں اور قلبی سکون سے بھر دے، اور آپ کو ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے۔

عید کی یہ سعید گھڑیاں آپ اور آپ کے اہلِ خانہ کے لیے امن، محبت، صحت، کامیابی اور دائمی مسرت کا ذریعہ بنیں۔

🌹 عید الاضحیٰ مبارک 🌹

رمضان : روح کی بیداری اور انقلاب کا پیش خیمہ

ماہِ نو سے عہدِ نو تک

رمضان المبارک محض ایک مہینہ نہیں، بلکہ ایک نظامِ زندگی ہے۔ یہ وہ مبارک ساعتیں ہیں جب آسمان سے رحمتوں کی رم جھم برستی ہے اور زمین کا چپہ چپہ نورِ الٰہی سے منور ہو جاتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم اکثر اسے ایک عارضی روحانی میلہ سمجھ لیتے ہیں۔ عید کا ہلال نظر آتے ہی مساجد کی رونقیں رخصت ہونے لگتی ہیں اور مصلوں پر گرد جمنے لگتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رمضان کا رخصت ہونا، نیک نیتی اور عبادت کا خاتمہ نہیں بلکہ اس تربیت کے نفاذ کا آغاز ہے جو ہم نے تیس دن تپتی دوپہروں اور جاگتی راتوں میں حاصل کی تھی۔


رمضان : روح کی بیداری اور انقلاب کا پیش خیمہ

روزے کا فلسفہِ اور قرآنی ہدایت

قرآن حکیم نے روزے کی فرضیت کا مقصد محض پیاس اور بھوک کی مشق نہیں، بلکہ "تقویٰ" قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (البقرة: 183)

ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

تقویٰ وہ ڈھال ہے جو سال بھر نفس کے حملوں سے بچاتی ہے۔ اگر رمضان کے بعد بھی ہمارے دل میں اللّٰہ کا ڈر اور گناہوں سے بچنے کی تڑپ باقی نہ رہی، تو ہمیں اپنے روزوں کے مغز پر غور کرنا چاہیے۔ اللّٰہ کا رب صرف رمضان کا رب نہیں، وہ ہر لمحہ اور ہر آن شاہد و ناظر ہے۔

فکرِ عمل اور تسلسلِ بندگی

عبادت میں استقامت: ایک ادبی زاویہ

ادب کی زبان میں کہا جائے تو رمضان ایک "تخلیقی عمل" ہے جو انسان کی شخصیت کی نوک پلک سنوارتا ہے۔ جس طرح ایک شاعر اپنے کلام کو بار بار تراشتا ہے، اسی طرح روزہ دار تیس دن اپنے نفس کو تراش کر ایک "کامل انسان" بننے کی کوشش کرتا ہے۔ رسول اللّٰہ ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے:

أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ. (صحیح بخاری)

ترجمہ: اللّٰہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جس میں ہمیشگی اور تسلسل ہو، چاہے وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔

رمضان کے بعد ہماری نمازوں کا تسلسل یہ ثابت کرتا ہے کہ ہماری پیشانی سجدوں کی لذت سے آشنا ہو چکی ہے۔ اگر فجر کی اذان پر مصلے اب بھی آباد ہیں، تو سمجھ لیجیے کہ رمضان کا پیغام روح میں اتر چکا ہے۔

تلاوتِ قرآن: زندگی کا دائمی دستور

رمضان "شہر القرآن" ہے، لیکن قرآن کا تعلق کسی ایک مہینے سے نہیں بلکہ یہ تو زندگی کے ہر اندھیرے میں روشنی کا مینار ہے۔

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَ (البقرة: 2)

ترجمہ: یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈر رکھنے والے ہیں۔

پورے سال کے تناظر میں یہ پیغام ہے کہ ہم تلاوت کو صرف ثواب کا ذریعہ نہ سمجھیں، بلکہ اسے فہمِ دین اور عمل کا ضابطہ بنائیں۔ قرآن کی ایک آیت پر غور کرنا، ہزار رکعت نفل سے بہتر ہے، بشرطیکہ وہ فکر و عمل میں تبدیلی لائے۔

سماجی خوشبو اور کردار کی پختگی

سخاوت اور ہمدردی کا آفاقی پیغام

رمضان ہمیں بھوک کا احساس دلا کر انسانیت کے دکھ درد سے جوڑتا ہے۔ نبی کریم ﷺ رمضان میں تیز ہوا سے بھی زیادہ سخاوت فرماتے تھے۔ ادبِ عالیہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان وہی ہے جو دوسروں کے کام آئے۔

ارشادِ نبوی ﷺ ہے:

خَيْرُ النَّاسِ مَنْ يَنْفَعُ النَّاسَ. (کنز العمال)

ترجمہ: بہترین انسان وہ ہے جو انسانوں کو نفع پہنچائے۔

رمضان کے بعد بھی یتیموں کی کفالت، بیواؤں کی مدد اور طالبِ علموں کی سرپرستی کا جذبہ مدہم نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ہم نے رمضان میں زکوٰۃ و صدقات دے کر اپنا ہاتھ روک لیا، تو یہ بخل ہوگا، جبکہ اسلام ہمیں فیاضی کا عادی بنانا چاہتا ہے۔

حاصلِ کلام: ایک عہدِ وفا

رمضان کی تربیت کا نچوڑ یہ ہے کہ ہم اپنے اخلاق کو مہکائیں۔ زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ خوشبو دار ہو، آنکھوں میں حیا کا نور ہو اور ہاتھوں میں خیر کی قوت ہو۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:

مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ. (صحیح بخاری)

ترجمہ: جو شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے، اللّٰہ کو اس کے کھانا پینا چھڑوانے کی کوئی حاجت نہیں۔

آئیں آج یہ عہد کریں کہ ہم رمضان کی شمع کو بجھنے نہیں دیں گے۔ عید کا دن دراصل خوشی کا نہیں بلکہ ذمہ داری کا دن ہے کہ ہم نے جو نور حاصل کیا ہے، اسے پورے سال اندھیروں میں بانٹنا ہے۔ اللّٰہ ہمیں استقامت عطا فرمائے اور ہمارے کردار کو اسلام کا آئینہ بنا دے۔

---


مقالات ومضامین

خوش آمدید، یہاں آپ کی آمد ہمارے لیے باعثِ افتخار ہے۔ یہ بلاگ فکر، تہذیب، اور معاشرت کے مختلف پہلوؤں کا آئینہ ہے۔ اگر کوئی تحریر دل کو چھو جائے، سوچ کو مہمیز دے یا نظر کو نیا زاویہ عطا کرے تو یہی اس بلاگ کی اصل کامیابی ہے۔ خوش رہیے، پڑھتے رہیے، اور اظہارِ رائے سے ضرور نوازئے۔ آپ کی رائے ہمارے لیے رہنمائی، اور آپ کی موجودگی حوصلہ افزائی کا باعث ہوگی۔ مفتی محمد خالد سیف اللّٰہ قاسمی ابن محمد جہانگیر اُسراہی، استاذ جامعہ عائشہ صدیقہؓ نورچک

مفتی محمد خالد سیف اللّٰہ قاسمی

استاذ، جامعہ عائشہ صدیقہ نورچک، بسفی، مدھوبنی، بہار۔ علمی، دینی، ادبی اور تحقیقی مضامین کے مصنف۔

مزید تعارف پڑھیں →