جامعہ عائشہ صدیقہ نورچک میں قرأت، نعت اور خطابت کا ایمان افروز مسابقہ
طالبات کی علمی، دینی، فکری اور خطیبانہ صلاحیتوں کے فروغ کی ایک قابلِ تحسین کوشش
دینی مدارس کی عظیم خدمات، مسابقتی پروگراموں کی اہمیت، اساتذہ کی مخلصانہ تربیت اور اربابِ جامعہ کی بے لوث جدوجہد کے تناظر میں ایک خصوصی تحریر
اسلام ایک ایسا جامع اور ہمہ گیر دین ہے جو انسان کی ظاہری و باطنی زندگی کو سنوارتا، اس کے قلب و نظر کو پاکیزگی عطا کرتا اور اس کی خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرکے اسے انسانیت کے لیے نفع بخش بناتا ہے۔ اسلام کی نظر میں تعلیم محض چند کتابوں کے پڑھ لینے، معلومات کے ذخیرے جمع کرلینے یا اسناد حاصل کرلینے کا نام نہیں، بلکہ تعلیم کا اصل مقصد انسان کی شخصیت کی تعمیر، اس کے اخلاق و کردار کی اصلاح، اس کے اندر دینی شعور کی بیداری اور اسے معاشرے کا ایک باکردار، باصلاحیت اور ذمہ دار فرد بنانا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام نے علم کے ساتھ عمل، معرفت کے ساتھ تربیت، اور تعلیم کے ساتھ تہذیبِ نفس کو غیرمعمولی اہمیت عطا کی ہے۔ خصوصاً نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت اور اس کی فکری و عملی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا ایک ایسی عظیم ذمہ داری ہے جس کی ادائیگی میں دینی مدارس صدیوں سے نمایاں کردار ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔
انہی عظیم دینی و تربیتی مقاصد کی تکمیل کی ایک خوش آئند اور قابلِ تقلید مثال جامعہ عائشہ صدیقہ نورچک میں يكم و دوم جمادي الأولى ٰ ۱۴۴۸ھ مطابق 11 و 12 اکتوبر 2026ء کو طالبات کے درمیان منعقد ہونے والا قرأتِ قرآن کریم، نعت گوئی اور خطابت کا شاندار مسابقہ ہے، جو بانی و ناظمِ جامعہ حضرت مولانا مفتی محمد حسنین صاحب قاسمی کی سرپرستی میں، ان کے فرزند مولانا انعام اللہ کی خصوصی کوششوں سے منعقد ہوا۔
یہ مسابقہ نہایت شاندار اور کامیاب رہا۔ اس کی کامیابی محض ایک تقریب کی کامیابی نہیں، بلکہ اس فکر کی کامیابی ہے جو دینی تعلیم کے ساتھ طالبات کی صلاحیتوں کو نکھارنے، ان میں خوداعتمادی پیدا کرنے اور انہیں مستقبل کی دینی و اصلاحی ذمہ داریوں کے لیے تیار کرنے کو ضروری سمجھتی ہے۔
مسابقتی پروگراموں کی اہمیت وافادیت
تعلیم و تربیت کی دنیا میں مسابقتی پروگراموں کو ہمیشہ ایک خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ انسان کی فطرت میں آگے بڑھنے، بہتر کارکردگی دکھانے اور اپنی صلاحیتوں کو دوسروں کے سامنے پیش کرنے کا جذبہ ودیعت کیا گیا ہے۔ جب اس فطری جذبے کو صحیح رخ دیا جائے تو یہی جذبہ ترقی، محنت، لگن اور حسنِ کارکردگی کا بہترین ذریعہ بن جاتا ہے۔
قرآن مجید نے نیکی اور بھلائی کے کاموں میں سبقت لے جانے کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
﴿فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ﴾ (البقرۃ: ۱۴۸)
’’پس تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔‘‘
اس قرآنی ہدایت سے معلوم ہوتا ہے کہ خیر و بھلائی کے میدان میں مسابقت ایک پسندیدہ اور محمود عمل ہے، بشرطیکہ اس کا مقصد محض شہرت، تفاخر اور دوسروں پر برتری جتانا نہ ہو، بلکہ اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانا، علم و عمل میں ترقی کرنا اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہو۔
مدارس میں منعقد ہونے والے قرأت، نعت، تقریر، حفظ، تحریر اور دیگر علمی مسابقے اسی مثبت مسابقت کی عملی صورتیں ہیں۔
ان پروگراموں کے ذریعے طالبات میں محنت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، مطالعے کا ذوق بڑھتا ہے، تلفظ اور اندازِ بیان میں نکھار آتا ہے، سامعین کے سامنے اظہارِ خیال کی جھجھک دور ہوتی ہے اور ان کے اندر اعتماد و حوصلے کی ایک نئی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔
خصوصاً وہ طالبات جو فطری طور پر کم گو یا جھجک محسوس کرنے والی ہوتی ہیں، ایسے پروگراموں میں مسلسل شرکت کے ذریعے رفتہ رفتہ اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے اور ان سے فائدہ اٹھانے لگتی ہیں۔
اس اعتبار سے ایک کامیاب مسابقہ محض انعامات کی تقسیم یا اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ وہ ایک ایسی تربیت گاہ ہے جہاں ہر شریک طالبہ کچھ نہ کچھ سیکھتی ہے اور اپنی شخصیت میں ایک مثبت تبدیلی محسوس کرتی ہے۔
مسابقۂ قرأتِ قرآن کریم: کلامِ الٰہی سے تعلق کی تجدید
قرآن مجید اللہ رب العزت کا آخری کلام، ہدایت کا سرچشمہ، دلوں کی شفا اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا ضامن ہے۔ اس کی تلاوت بجائے خود عظیم عبادت ہے، اور اسے صحیح تلفظ، درست مخارج، قواعدِ تجوید اور حسنِ صوت کے ساتھ پڑھنا ایک نہایت مبارک عمل ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا﴾ (المزمل: ۴)
’’اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔‘‘
«خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ» (صحيح البخاري)
’’تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔‘‘
قرأتِ قرآن کریم کے مسابقے کی سب سے بڑی افادیت یہ ہے کہ اس کے ذریعے طالبات میں قرآن مجید کو درست پڑھنے، تجوید کے قواعد کی رعایت کرنے اور اپنی تلاوت کو بہتر بنانے کا شوق پیدا ہوتا ہے۔
جب ایک طالبہ یہ جانتی ہے کہ اسے مجمع کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کرنی ہے تو وہ اپنی تیاری میں زیادہ محنت کرتی ہے، اپنے تلفظ کو درست کرنے کی کوشش کرتی ہے، اساتذہ سے اصلاح لیتی ہے اور بار بار مشق کرتی ہے۔ یوں ایک مسابقہ اس کی قرآنی تعلیم میں غیرمعمولی دلچسپی پیدا کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
البتہ قرأت کے مسابقے میں یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ حسنِ صوت کے ساتھ صحتِ قرأت، تجوید کی پابندی، آیات کے احترام اور کلامِ الٰہی کے شایانِ شان وقار کو بنیادی اہمیت حاصل رہے۔
جامعہ عائشہ صدیقہ نورچک میں قرأت کے مسابقے کا انعقاد اس بات کی روشن علامت ہے کہ یہاں طالبات کو محض قرآن پڑھانے ہی پر اکتفا نہیں کیا جاتا، بلکہ ان کے اندر قرآن مجید سے محبت، اس کی درست تلاوت کا ذوق اور اس کے ساتھ قلبی تعلق پیدا کرنے کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔
مسابقۂ نعت گوئی: محبتِ رسول ﷺ کے جذبات کی آبیاری
ایمان کی حقیقی حلاوت اور دینی زندگی کی روح رسول اللہ ﷺ کی سچی محبت اور آپ کی کامل اتباع میں پوشیدہ ہے۔ محبتِ رسول ﷺ وہ عظیم سرمایہ ہے جس کے بغیر ایمان کی مطلوبہ کیفیت کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:
«لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» (صحيح البخاري، صحيح مسلم)
’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔‘‘
نعت گوئی حضور اکرم ﷺ کی مدح و ثنا، آپؐ کے اوصافِ حمیدہ، سیرتِ طیبہ اور عظمتِ کردار کے بیان کا ایک مؤثر ادبی و جذباتی ذریعہ ہے۔ جب اسے شرعی حدود، درست عقائد اور ادب و احترام کے تقاضوں کے ساتھ انجام دیا جائے تو یہ دلوں میں محبتِ رسول ﷺ کے جذبات کو تازگی بخشنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
مدارس میں نعت گوئی کے مسابقے طالبات کو اس بات کا موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی عظمت و محبت سے متعلق پاکیزہ اشعار کو یاد کریں، ان کے معانی کو سمجھیں اور مؤدبانہ انداز میں پیش کریں۔
اس عمل سے نہ صرف ان کے اندر نعتیہ ادب کا ذوق پیدا ہوتا ہے، بلکہ سیرتِ نبوی ﷺ کے مطالعے اور آپؐ کی تعلیمات کو جاننے کی رغبت بھی بڑھ سکتی ہے۔
یہاں اس حقیقت کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے کہ محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی معیار صرف نعت پڑھنا نہیں، بلکہ آپ ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنا، آپ کے اخلاق کو اپنانا اور زندگی کے ہر شعبے میں آپ کی تعلیمات کو رہنما بنانا ہے۔
جامعہ عائشہ صدیقہ نورچک میں نعت گوئی کے مسابقے کا اہتمام اسی مبارک مقصد کی طرف ایک قابلِ قدر قدم ہے، جس سے طالبات کے اندر دینی جذبات کے ساتھ ادبی ذوق، خوش الحانی اور حسنِ ادائیگی کی صلاحیتوں کو بھی فروغ ملتا ہے۔
مسابقۂ خطابت: دعوت و اصلاح کی صلاحیتوں کی تعمیر
انسان کو اللہ تعالیٰ نے جن عظیم نعمتوں سے نوازا ہے، ان میں قوتِ گویائی اور اظہارِ بیان کی صلاحیت بھی ایک بے مثال نعمت ہے۔
قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ (الرحمن: ۳-۴)
’’اسی نے انسان کو پیدا کیا، اسی نے اسے بیان کرنا سکھایا۔‘‘
خطابت محض خوب صورت الفاظ ادا کرنے یا بلند آواز سے تقریر کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ خیالات کو منظم کرنے، حقائق کو مؤثر انداز میں پیش کرنے، دلائل کے ذریعے بات سمجھانے اور مخاطبین کے دل و دماغ پر مثبت اثر ڈالنے کا ایک اہم فن ہے۔
اسلامی تاریخ میں دعوت و تبلیغ، اصلاحِ معاشرہ، تعلیم و تربیت اور حق کی ترجمانی میں مؤثر بیان اور خطابت نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
موجودہ دور میں جب معاشرہ مختلف فکری، اخلاقی اور تہذیبی چیلنجوں سے دوچار ہے، اس فن کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
خصوصاً خواتین کی دینی تعلیم و تربیت کے میدان میں ایسی باصلاحیت، باکردار اور صاحبِ علم خواتین کی ضرورت ہے جو شرعی آداب و حدود کی رعایت کرتے ہوئے خواتین کے اجتماعات، تعلیمی مجالس اور اصلاحی نشستوں میں دین کی صحیح تعلیمات کو مؤثر انداز میں پیش کرسکیں۔
ایک تعلیم یافتہ اور باصلاحیت خاتون نہ صرف اپنے گھر اور خاندان کی دینی تربیت میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے، بلکہ دیگر خواتین اور نئی نسل کی فکری و اخلاقی اصلاح کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
اسی لیے مدارسِ بنات میں خطابت کے مسابقوں کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔
ایسے مسابقوں کے ذریعے طالبات میں موضوع کے انتخاب، مواد کی ترتیب، دلائل کی تلاش، الفاظ کے درست استعمال، زبان کی شستگی، اندازِ بیان کی پختگی اور سامعین کے سامنے اعتماد کے ساتھ گفتگو کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔
جو طالبہ آج مدرسے کے ایک محدود اجتماع میں چند منٹ کی تقریر کرتی ہے، وہ مناسب تعلیم و تربیت اور مسلسل مشق کے ذریعے مستقبل میں ایک مؤثر معلمہ، مربیہ، مبلغہ اور مصلحہ بن سکتی ہے۔
اس اعتبار سے جامعہ عائشہ صدیقہ نورچک میں خطابت کا مسابقہ محض ایک وقتی سرگرمی نہیں، بلکہ مستقبل کی دینی و اصلاحی خدمات کے لیے صلاحیت سازی کی ایک بامقصد کوشش ہے۔
مدارسِ دینیہ: تعلیم، تربیت اور تعمیرِ شخصیت کے عظیم مراکز
برصغیر میں مدارسِ دینیہ کی تاریخ علمی، دینی، اخلاقی اور سماجی خدمات کے روشن نقوش سے عبارت ہے۔ ان اداروں نے مختلف ادوار میں قرآن و حدیث کی تعلیم، اسلامی علوم کی حفاظت، دینی اقدار کے فروغ اور نئی نسل کی تربیت میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔
یہ مدارس محض درس گاہیں نہیں، بلکہ ایمان و یقین کی حفاظت، اسلامی تہذیب کی بقا، اخلاق و کردار کی تعمیر اور معاشرے میں دینی شعور کی بیداری کے اہم مراکز ہیں۔
بالخصوص مدارسِ بنات کی اہمیت اس لیے بھی غیرمعمولی ہے کہ ان کا تعلق معاشرے کے اس طبقے کی تعلیم و تربیت سے ہے جو خاندان اور نئی نسل کی تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
ایک دینی تعلیم یافتہ خاتون جب علم، تقویٰ، حسنِ اخلاق، فہم و فراست اور تربیتی صلاحیتوں سے آراستہ ہوتی ہے تو اس کی علمی و اخلاقی روشنی صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس کے اثرات خاندان اور معاشرے تک پہنچتے ہیں۔
تاہم موجودہ زمانے میں مدارسِ بنات کے لیے صرف نصابی تعلیم پر اکتفا کرنا کافی نہیں، بلکہ طالبات میں اظہارِ خیال، علمی تحقیق، تحریر و تقریر، تدریس، دعوت و اصلاح اور عملی زندگی کے تقاضوں سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیتیں بھی پیدا کرنا ضروری ہے۔
مسابقتی پروگرام اس ضرورت کی تکمیل کا ایک نہایت مفید ذریعہ ہیں۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ جامعہ عائشہ صدیقہ نورچک میں منعقدہ مسابقہ اسی وسیع تر تعلیمی و تربیتی تصور کی عکاسی کرتا ہے، جس میں نصابی تعلیم کے ساتھ طالبات کی عملی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کی فکر بھی شامل ہے۔
جامعہ عائشہ صدیقہ نورچک: ایک روشن تعلیمی و تربیتی کوشش
کسی بھی دینی ادارے کی حقیقی عظمت محض اس کی عمارت، ظاہری وسائل یا طلبہ و طالبات کی تعداد سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس کا اصل معیار وہاں فراہم کی جانے والی تعلیم کا معیار، تربیت کا ماحول، اساتذہ کا اخلاص اور ذمہ داران کی تعلیمی فکر ہوتی ہے۔
جامعہ عائشہ صدیقہ نورچک میں طالبات کے درمیان قرأت، نعت اور خطابت کا کامیاب مسابقہ اس ادارے کی تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کا ایک قابلِ تحسین پہلو ہے۔
اس پروگرام کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں طالبات کی تین اہم صلاحیتوں کو نمایاں کرنے کا موقع فراہم کیا گیا: قرآن مجید کی درست اور خوش الحان تلاوت، رسول اللہ ﷺ کی محبت و عظمت کا مؤدبانہ اظہار، اور دینی و اصلاحی موضوعات پر مؤثر انداز میں گفتگو کرنے کی استعداد۔
یہ تینوں شعبے اپنی اپنی جگہ اہم ہیں اور ان کا باہمی امتزاج طالبات کی متوازن دینی شخصیت کی تعمیر میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
اس نوعیت کے پروگراموں سے ادارے کے تعلیمی ماحول میں تازگی پیدا ہوتی ہے، طالبات کے اندر آگے بڑھنے کی امنگ بیدار ہوتی ہے اور اساتذہ کو بھی اپنی شاگردات کی پوشیدہ صلاحیتوں کو پہچاننے کا موقع ملتا ہے۔
اس اعتبار سے جامعہ کا یہ اقدام نہ صرف قابلِ تعریف ہے، بلکہ دیگر دینی اداروں کے لیے بھی ایک مفید اور قابلِ تقلید مثال بن سکتا ہے۔
حضرت مولانا مفتی محمد حسنین قاسمی کی دینی فکر اور قابلِ قدر جدوجہد
کسی بھی ادارے کی بنیاد رکھنا ایک اہم کام ہے، لیکن اس کی ذمہ داریوں کو سنبھالنا، اس کے تعلیمی و تربیتی مقاصد کو زندہ رکھنا اور اسے مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی کوشش کرنا اس سے کہیں زیادہ صبر آزما اور محنت طلب عمل ہے۔
اس کے لیے اخلاص، عزم و استقلال، قربانی، حسنِ تدبیر، وسعتِ نظر اور دین کی خدمت کا سچا جذبہ درکار ہوتا ہے۔
جامعہ عائشہ صدیقہ نورچک کے بانی و ناظم حضرت مولانا مفتی محمد حسنین صاحب قاسمی کی خدمات کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
دینی تعلیم کے فروغ اور خصوصاً طالبات کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک ادارے کی بنیاد رکھنا بذاتِ خود ایک قابلِ قدر دینی خدمت ہے۔ اس ادارے کی نگرانی اور اس میں تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کی سرپرستی ایک مستقل ذمہ داری ہے۔
جامعہ میں منعقد ہونے والا یہ کامیاب مسابقہ حضرت مفتی صاحب کی سرپرستی میں جاری تعلیمی و تربیتی کوششوں کا ایک خوش آئند ثمرہ ہے۔
یہ بات اہلِ علم و بصیرت سے مخفی نہیں کہ دینی اداروں کی خدمت کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ ادارے کے انتظامی معاملات، تعلیمی ضروریات، اساتذہ اور طالبات کی رہنمائی، وسائل کی فراہمی اور تعلیمی معیار کی بہتری جیسے امور مسلسل توجہ اور محنت کا تقاضا کرتے ہیں۔
ایسی ذمہ داریوں کو دینی جذبے کے ساتھ انجام دینا ایک بڑی سعادت ہے۔
حضرت مولانا مفتی محمد حسنین صاحب قاسمی کی دینی خدمات کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ ان کی سرپرستی میں طالبات کو صرف درس گاہ کی چار دیواری تک محدود رکھنے کے بجائے ان کی علمی، لسانی اور عملی صلاحیتوں کو نکھارنے کے مواقع بھی فراہم کیے جارہے ہیں۔
یہ تعلیمی فکر یقیناً قابلِ ستائش ہے۔
امید کی جاسکتی ہے کہ ان کی سرپرستی میں جامعہ کا یہ علمی و تربیتی سفر مزید استحکام حاصل کرے گا اور یہاں سے ایسی باعلم، باعمل، بااخلاق اور باصلاحیت طالبات تیار ہوں گی جو مستقبل میں دین و ملت کی خدمت انجام دے سکیں گی۔
مولانا انعام اللہ کی خصوصی کوششیں: نئی نسل کے لیے ایک حوصلہ افزا مثال
اس کامیاب مسابقے کے انعقاد میں مولانا انعام اللہ ابن حضرت مولانا مفتی محمد حسنین قاسمی کی کوششیں خصوصی طور پر قابلِ ذکر اور لائقِ تحسین ہیں۔
کسی بھی تعلیمی و تربیتی پروگرام کا تصور پیش کرنا ایک مرحلہ ہے، لیکن اسے عملی صورت دینا، طالبات کو اس کے لیے آمادہ کرنا، تیاری کا ماحول پیدا کرنا اور پروگرام کو کامیابی سے ہم کنار کرنے کی کوشش کرنا ایک مستقل محنت کا کام ہے۔
مولانا انعام اللہ کی کوشش سے جامعہ میں اس بامقصد مسابقے کا انعقاد اس امر کی علامت ہے کہ نئی نسل کے ذمہ داران میں بھی دینی تعلیم کے ساتھ طالبات کی عملی تربیت اور ان کی صلاحیتوں کے فروغ کا شعور موجود ہے۔
یہ نہایت خوش آئند بات ہے کہ ادارے کی سرپرستی کے ساتھ نوجوان اہلِ علم بھی تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
دراصل دینی اداروں کی ترقی کے لیے بزرگوں کے تجربے اور نوجوانوں کے جذبۂ عمل کا امتزاج بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ جب بزرگوں کی رہنمائی اور نئی نسل کی محنت ایک ساتھ جمع ہوجائے تو ادارے کی تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں میں نئی روح پیدا ہوتی ہے۔
مولانا انعام اللہ کی یہ کوشش اسی مثبت فکر کی ایک قابلِ قدر مثال ہے۔
اللہ تعالیٰ انہیں مزید اخلاص، ہمت، حوصلہ اور دینی خدمت کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی کوششوں کو جامعہ اور اس کی طالبات کے لیے نفع بخش بنائے۔
اساتذہ کی محنت: مسابقے کی کامیابی کا بنیادی ستون
کسی بھی تعلیمی مسابقے کی ظاہری کامیابی میں منتظمین کی کوششیں یقیناً اہم ہوتی ہیں، لیکن اس کی حقیقی بنیاد ان اساتذہ کی محنت ہوتی ہے جو طالبات کو مسلسل تعلیم دیتے، ان کی غلطیوں کی اصلاح کرتے، انہیں مشق کراتے اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے وقت اور توجہ صرف کرتے ہیں۔
ایک اچھی تلاوت کے پیچھے تجوید کی بار بار مشق، مخارج کی اصلاح اور استاد کی مسلسل نگرانی ہوتی ہے۔
ایک مؤثر نعت خوانی کے پس منظر میں الفاظ کی درست ادائیگی، اشعار کے انتخاب، معانی کی تفہیم اور اندازِ پیش کش کی تربیت شامل ہوتی ہے۔
اسی طرح ایک کامیاب تقریر کے پیچھے موضوع کی تیاری، مواد کی ترتیب، زبان و بیان کی اصلاح، مناسب تلفظ، آواز کے اتار چڑھاؤ اور اعتماد کے ساتھ اظہارِ خیال کی طویل مشق ہوتی ہے۔
بسا اوقات ایک طالبہ چند منٹ کے لیے اسٹیج پر آتی ہے، لیکن ان چند منٹوں کی کارکردگی کے پیچھے اساتذہ کی کئی دنوں کی توجہ اور محنت کارفرما ہوتی ہے۔
اس لیے کسی مسابقے میں صرف نمایاں کارکردگی دکھانے والی طالبات ہی مبارک باد کی مستحق نہیں ہوتیں، بلکہ ان کی تربیت کرنے والے اساتذہ بھی بجا طور پر تحسین و اعتراف کے مستحق ہوتے ہیں۔
جامعہ عائشہ صدیقہ نورچک کے اس مسابقے کی کامیابی کے موقع پر وہاں کے اساتذہ اور معلمات کی تعلیمی و تربیتی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔
اساتذہ کا کام محض معلومات منتقل کرنا نہیں، بلکہ طالبات کے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کو دریافت کرنا، ان کی کمزوریوں کو دور کرنا، ان میں خوداعتمادی پیدا کرنا اور انہیں بہتر سے بہتر کارکردگی کے لیے آمادہ کرنا بھی ہے۔
یہی وہ خاموش خدمت ہے جس کے ثمرات وقت گزرنے کے ساتھ نمایاں ہوتے ہیں۔
ایک مخلص استاد یا معلمہ کی محنت سے تیار ہونے والی طالبہ جب مستقبل میں ایک اچھی معلمہ، صالحہ خاتون یا مؤثر داعیہ بنتی ہے تو اس کی کامیابی میں اس کے اساتذہ کی تربیت کا بھی بڑا حصہ ہوتا ہے۔
اس لیے جامعہ کے اساتذہ و معلمات کی خدمات کا اعتراف کرنا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا نہایت ضروری ہے۔
طالبات کی شرکت اور ان کے روشن مستقبل کی امیدیں
اس مسابقے کی کامیابی کا ایک اہم پہلو خود طالبات کی شرکت اور ان کی محنت ہے۔
کسی بھی مسابقے میں شریک ہونا ہمت، تیاری اور خوداعتمادی کا تقاضا کرتا ہے۔ خصوصاً کم عمری میں مجمع کے سامنے تلاوت کرنا، نعت پیش کرنا یا تقریر کرنا ایک ایسی مشق ہے جو طالبات کی شخصیت پر دیرپا مثبت اثرات مرتب کرسکتی ہے۔
اس لیے مسابقے میں شریک ہونے والی ہر طالبہ حوصلہ افزائی کی مستحق ہے، خواہ اسے کوئی نمایاں مقام حاصل ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ مسابقے کی اصل کامیابی صرف اول پوزیشن حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنی سابقہ کارکردگی سے بہتر کارکردگی پیش کرنے میں ہے۔
جو طالبہ آج جھجکتے ہوئے چند جملے بولتی ہے، وہ کل اعتماد کے ساتھ ایک مکمل تقریر کرسکتی ہے۔ جو طالبہ آج تلاوت میں معمولی غلطیاں کرتی ہے، وہ مسلسل مشق سے بہترین قاریہ بن سکتی ہے۔ اور جو طالبہ آج نعت کے چند اشعار پیش کرتی ہے، وہ مستقبل میں دینی ادب اور سیرتِ نبوی ﷺ کے مطالعے سے گہرا تعلق قائم کرسکتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مسابقے کے بعد بھی طالبات کی تربیت کا سلسلہ جاری رہے، ان کی خامیوں کی محبت و شفقت کے ساتھ اصلاح کی جائے اور انہیں مزید مواقع فراہم کیے جائیں۔
کامیاب طالبات کی حوصلہ افزائی کے ساتھ دیگر تمام شرکاء کے حوصلوں کو بھی بلند رکھنا چاہیے، تاکہ مسابقہ باہمی رقابت کے بجائے مثبت مسابقت، باہمی احترام اور اجتماعی ترقی کا ذریعہ بنے۔
مسابقتی پروگراموں کا تسلسل وقت کی اہم ضرورت
جامعہ عائشہ صدیقہ نورچک میں منعقد ہونے والے اس کامیاب مسابقے سے یہ امید وابستہ کی جاسکتی ہے کہ آئندہ بھی اس نوعیت کی علمی، ادبی اور تربیتی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔
دینی اداروں میں سال بھر کے دوران مختلف عنوانات پر مسابقوں اور تربیتی نشستوں کا اہتمام کیا جائے تو طالبات کی صلاحیتوں میں نمایاں بہتری پیدا ہوسکتی ہے۔
قرأت و تجوید، حفظِ قرآن، نعت گوئی، سیرت النبی ﷺ، اسلامی معلومات، تقریر، مضمون نویسی، عربی و اردو زبان اور دیگر مفید علمی موضوعات پر مناسب وقفوں سے پروگرام منعقد کیے جاسکتے ہیں۔
اسی کے ساتھ طالبات کی عمر، تعلیمی سطح اور استعداد کے مطابق ان کی تربیت کا انتظام ہونا چاہیے، تاکہ ہر طالبہ کو اپنی صلاحیت کے اظہار کا منصفانہ موقع مل سکے۔
مسابقوں میں فیصلہ سازی کے واضح اصول، شفاف طریقۂ انتخاب، تعمیری اصلاح اور تمام شرکاء کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
اگر ان امور کی رعایت کے ساتھ ایسے پروگراموں کا تسلسل برقرار رکھا جائے تو یہ سرگرمیاں ادارے کے تعلیمی معیار اور طالبات کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔
ایک مبارک کوشش، ایک روشن پیغام
جامعہ عائشہ صدیقہ نورچک میں قرأتِ قرآن کریم، نعت گوئی اور خطابت کا کامیاب مسابقہ یقیناً ایک خوش آئند، قابلِ قدر اور لائقِ تحسین تعلیمی و تربیتی اقدام ہے۔
یہ پروگرام اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ دینی تعلیم کی حقیقی افادیت اسی وقت زیادہ نمایاں ہوتی ہے جب علم کے ساتھ عمل، تعلیم کے ساتھ تربیت اور نصابی سرگرمیوں کے ساتھ طالبات کی فطری صلاحیتوں کے فروغ کا بھی اہتمام کیا جائے۔
اس بامقصد پروگرام کے انعقاد پر جامعہ کے بانی و ناظم حضرت مولانا مفتی محمد حسنین صاحب قاسمی، اس کے لیے خصوصی کوشش کرنے والے مولانا انعام اللہ، طالبات کی تیاری میں حصہ لینے والے اساتذہ و معلمات اور مسابقے میں شریک تمام طالبات مبارک باد اور حوصلہ افزائی کی مستحق ہیں۔
بالخصوص حضرت مفتی محمد حسنین صاحب قاسمی کی دینی و تعلیمی خدمات اور مولانا انعام اللہ کی مساعی اس اعتبار سے قابلِ قدر ہیں کہ ان کی سرپرستی اور کوششوں سے طالبات کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور ان میں مزید بہتری پیدا کرنے کا موقع ملا۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت جامعہ عائشہ صدیقہ نورچک کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، اسے علم و عمل، تقویٰ و طہارت اور دعوت و اصلاح کا ایک مثالی مرکز بنائے۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا مفتی محمد حسنین صاحب قاسمی کی عمر، علم، عمل اور خدمات میں برکت عطا فرمائے، مولانا انعام اللہ کی کوششوں کو شرفِ قبولیت بخشے، اساتذہ و معلمات کی محنتوں کو قبول فرمائے اور تمام طالبات کو قرآن و سنت کی سچی خادمات بنائے۔
اللہ تعالیٰ اس ادارے سے ایسی باعلم، باعمل، باحیا، باکردار اور باصلاحیت خواتین تیار فرمائے جو اپنے گھروں کو ایمان و عمل سے روشن کریں، نئی نسل کی صالح تربیت کا ذریعہ بنیں اور معاشرے میں دینِ اسلام کی صحیح تعلیمات کو عام کرنے کا فریضہ انجام دیں۔
آمين يا رب العالمين
