بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
مقالات ومضامین مفتی محمد خالد سیف اللّٰہ قاسمی
خوش آمدید

مقالات ومضامین

یہاں دینی، علمی، فکری، ادبی، تحقیقی اور اصلاحی موضوعات پر مفتی محمد خالد سیف اللّٰہ قاسمی کے مضامین و مقالات پیش کیے جاتے ہیں۔

تازہ مضامین

ہندوستان میں مدارس کا کردار، آئینی حیثیت اور بے بنیاد الزامات کی حقیقت

ہندوستان ایک ایسا عظیم جمہوری ملک ہے جس کی بنیاد مذہبی آزادی، ثقافتی تنوع اور آئین کی بالادستی پر قائم ہے۔ اس ملک کا آئین ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، اپنی مذہبی تعلیم کے مراکز قائم کرنے اور اپنی تہذیبی و تعلیمی شناخت کو محفوظ رکھنے کا بنیادی حق دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں نے اپنے اپنے تعلیمی، مذہبی اور سماجی ادارے قائم کیے ہیں، جنہیں آئین کی مکمل حفاظت حاصل ہے۔


ہندوستان میں مدارس کا کردار، آئینی حیثیت اور بے بنیاد الزامات کی حقیقت

مسلمانوں کے دینی تعلیمی مراکز، یعنی مدارس، بھی اسی آئینی حق کے تحت قائم ہیں۔ مدارس محض درس گاہیں نہیں بلکہ اخلاق، کردار، روحانیت، خدمتِ خلق اور دینی علوم کے مراکز ہیں۔ ان اداروں نے صدیوں سے ایسے افراد تیار کیے ہیں جنہوں نے معاشرے میں امن، رواداری، دیانت داری اور انسانی اقدار کو فروغ دیا ہے۔ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں بھی متعدد علماء اور مدارس سے وابستہ شخصیات نے نمایاں کردار ادا کیا، جس کا اعتراف تاریخ کے مستند صفحات میں موجود ہے۔

آج بھی ہزاروں مدارس ایسے علاقوں میں تعلیم کی خدمت انجام دے رہے ہیں جہاں غریب اور پسماندہ طبقے کے بچوں کے لیے معیاری تعلیم کے وسائل محدود ہیں۔ مدارس میں قرآن، حدیث، فقہ، عربی زبان اور اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ متعدد اداروں میں عصری مضامین بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ ان اداروں کا بنیادی مقصد بااخلاق، ذمہ دار اور قانون پسند شہری تیار کرنا ہے۔

افسوس کا مقام ہے کہ وقتاً فوقتاً بعض سیاسی شخصیات، مصنفین یا عوامی زندگی سے وابستہ افراد مدارس کے بارے میں ایسے بیانات دیتے ہیں جن میں انہیں شدت پسندی یا دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس نوعیت کے عمومی الزامات نہ صرف بے بنیاد ہوتے ہیں بلکہ وہ لاکھوں طلبہ، اساتذہ اور دینی خدمت انجام دینے والے افراد کی عزت و وقار کو بھی مجروح کرتے ہیں۔ اگر کسی فرد یا ادارے پر قانون شکنی کا کوئی الزام ہو تو اس کی جانچ اور فیصلہ قانون کے مطابق ہونا چاہیے، لیکن پورے نظامِ مدارس یا کسی مذہبی طبقے کو اجتماعی طور پر موردِ الزام ٹھہرانا انصاف، آئینی مساوات اور اخلاقی ذمہ داری کے خلاف ہے۔

اسی طرح کسی بھی ادیب، دانشور یا عوامی شخصیت کی طرف سے مدارس یا کسی مذہبی ادارے کے بارے میں تحقیر آمیز یا اشتعال انگیز زبان استعمال کرنا ایک مہذب اور کثرت پسند معاشرے کے شایانِ شان نہیں۔ اختلافِ رائے ہر جمہوریت کا حسن ہے، لیکن اختلاف کو نفرت، تمسخر یا عمومی الزام تراشی کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ دلیل کا جواب دلیل سے دیا جانا چاہیے، نہ کہ تعمیم، اشتعال انگیزی یا نفرت انگیز بیانات سے۔

ہندوستان کا آئین ہر مذہب کے پیروکاروں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنے مذہبی اور تعلیمی ادارے قائم کریں اور ان کا انتظام کریں، بشرطیکہ وہ ملک کے قوانین کی پابندی کریں۔ جس طرح ہندو، سکھ، عیسائی، بدھ، جین اور دیگر مذاہب کے تعلیمی و مذہبی اداروں کو اپنے عقائد کے مطابق کام کرنے کی آزادی حاصل ہے، اسی طرح مسلمانوں کے مدارس بھی اسی آئینی تحفظ اور مساوی احترام کے مستحق ہیں۔ جمہوری معاشرے میں کسی ایک مذہب کے اداروں کو نشانہ بنانا یا ان کے بارے میں عمومی منفی تاثر پیدا کرنا آئینی مساوات اور سماجی ہم آہنگی دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ مدارس کے لاکھوں فارغین مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ مساجد میں امامت و خطابت، دینی تعلیم، سماجی اصلاح، رفاہی خدمات، مصالحتی کردار، اخلاقی تربیت اور انسان دوستی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ قدرتی آفات اور انسانی بحرانوں کے مواقع پر بھی متعدد دینی ادارے اور ان کے وابستگان امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ اس لیے مدارس کو صرف تعصبات یا سیاسی بیانیوں کی بنیاد پر دیکھنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مدارس کے بارے میں گفتگو حقائق، تحقیق اور ذمہ دارانہ انداز میں کی جائے۔ اگر کسی تعلیمی ادارے میں بہتری کی ضرورت ہو تو اس پر تعمیری مکالمہ ہونا چاہیے، لیکن پورے نظام کو بدنام کرنا نہ علمی دیانت ہے اور نہ ہی جمہوری اقدار کے مطابق۔

ہندوستان کی اصل طاقت اس کی گنگا جمنی تہذیب، مذہبی رواداری اور آئینی مساوات میں پوشیدہ ہے۔ اس طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر مذہب کے ماننے والوں کے عقائد، عبادت گاہوں اور تعلیمی اداروں کا یکساں احترام کیا جائے۔ نفرت انگیز بیانات، اجتماعی الزام تراشی اور مذہبی منافرت نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ ملک کے آئینی اور جمہوری تشخص کو بھی کمزور کرتی ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ مدارس ہندوستان کی تعلیمی و مذہبی روایت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ان کے بارے میں کوئی بھی رائے حقائق، قانون اور انصاف کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے، نہ کہ تعصب یا سیاسی اختلاف پر۔ ایک مضبوط، پرامن اور ترقی یافتہ ہندوستان اسی وقت ممکن ہے جب تمام شہریوں اور تمام مذہبی اداروں کے آئینی حقوق کا احترام کیا جائے اور اختلافِ رائے کو شائستگی، انصاف اور باہمی احترام کے دائرے میں رکھا جائے۔

***

نئے ہجری سال 1448 کی آمد مبارک

"ہجری سال (Islamic Calendar)" مسلمانوں کا مذہبی تقویم (کیلنڈر) ہے، جس کا آغاز پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مکہ سے مدینہ ہجرت کے واقعے سے ہوتا ہے۔

اس کیلنڈر کے بارے میں کچھ اہم اور دلچسپ معلومات درج ذیل ہیں:


نئے ہجری سال 1448 کی آمد مبارک

بنیادی معلومات

قمری نظام: ہجری سال کا انحصار چاند کی گردش (Lunar System) پر ہوتا ہے۔ چاند کو دیکھ کر ہی نئے مہینے کا آغاز ہوتا ہے۔

دنوں کی تعداد: ایک ہجری سال میں 354 یا 355 دن ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ شمسی کیلنڈر (Gregorian Calendar) سے ہر سال تقریباً 10 سے 11 دن چھوٹا ہوتا ہے۔

شروعات: ہجری کیلنڈر کی باقاعدہ شروعات حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت میں ہوئی۔

ہجری سال کے 12 مہینے

ہجری سال میں بھی 12 مہینے ہوتے ہیں، جن کے نام ترتیب وار یہ ہیں:

  1. محرم الحرام (جس سے اسلامی نئے سال کا آغاز ہوتا ہے)

  2. صفر المظفر

  3. ربیع الاول

  4. ربیع الثانی

  5. جمادی الاول

  6. جمادی الثانی

  7. رجب المرجب

  8. شعبان المعظم

  9. رمضان المبارک (روزوں کا مہینہ)

  10. شوال المکرم (جس کی پہلی تاریخ کو عید الفطر ہوتی ہے)

  11. ذوالقعدہ

  12. ذوالحجہ (حج اور عید الاضحیٰ کا مہینہ)

🌙✨ عید الاضحیٰ مبارک ✨🌙


دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اس مقدس موقع پر آپ کی تمام عبادات، قربانی، دعائیں اور نیک تمنائیں اپنی بارگاہ میں شرفِ قبول عطا فرمائے، آپ کی زندگی کو خوشیوں، رحمتوں، برکتوں اور قلبی سکون سے بھر دے، اور آپ کو ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے۔

عید کی یہ سعید گھڑیاں آپ اور آپ کے اہلِ خانہ کے لیے امن، محبت، صحت، کامیابی اور دائمی مسرت کا ذریعہ بنیں۔

🌹 عید الاضحیٰ مبارک 🌹

رمضان : روح کی بیداری اور انقلاب کا پیش خیمہ

ماہِ نو سے عہدِ نو تک

رمضان المبارک محض ایک مہینہ نہیں، بلکہ ایک نظامِ زندگی ہے۔ یہ وہ مبارک ساعتیں ہیں جب آسمان سے رحمتوں کی رم جھم برستی ہے اور زمین کا چپہ چپہ نورِ الٰہی سے منور ہو جاتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم اکثر اسے ایک عارضی روحانی میلہ سمجھ لیتے ہیں۔ عید کا ہلال نظر آتے ہی مساجد کی رونقیں رخصت ہونے لگتی ہیں اور مصلوں پر گرد جمنے لگتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رمضان کا رخصت ہونا، نیک نیتی اور عبادت کا خاتمہ نہیں بلکہ اس تربیت کے نفاذ کا آغاز ہے جو ہم نے تیس دن تپتی دوپہروں اور جاگتی راتوں میں حاصل کی تھی۔


رمضان : روح کی بیداری اور انقلاب کا پیش خیمہ

روزے کا فلسفہِ اور قرآنی ہدایت

قرآن حکیم نے روزے کی فرضیت کا مقصد محض پیاس اور بھوک کی مشق نہیں، بلکہ "تقویٰ" قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (البقرة: 183)

ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

تقویٰ وہ ڈھال ہے جو سال بھر نفس کے حملوں سے بچاتی ہے۔ اگر رمضان کے بعد بھی ہمارے دل میں اللّٰہ کا ڈر اور گناہوں سے بچنے کی تڑپ باقی نہ رہی، تو ہمیں اپنے روزوں کے مغز پر غور کرنا چاہیے۔ اللّٰہ کا رب صرف رمضان کا رب نہیں، وہ ہر لمحہ اور ہر آن شاہد و ناظر ہے۔

فکرِ عمل اور تسلسلِ بندگی

عبادت میں استقامت: ایک ادبی زاویہ

ادب کی زبان میں کہا جائے تو رمضان ایک "تخلیقی عمل" ہے جو انسان کی شخصیت کی نوک پلک سنوارتا ہے۔ جس طرح ایک شاعر اپنے کلام کو بار بار تراشتا ہے، اسی طرح روزہ دار تیس دن اپنے نفس کو تراش کر ایک "کامل انسان" بننے کی کوشش کرتا ہے۔ رسول اللّٰہ ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے:

أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ. (صحیح بخاری)

ترجمہ: اللّٰہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جس میں ہمیشگی اور تسلسل ہو، چاہے وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔

رمضان کے بعد ہماری نمازوں کا تسلسل یہ ثابت کرتا ہے کہ ہماری پیشانی سجدوں کی لذت سے آشنا ہو چکی ہے۔ اگر فجر کی اذان پر مصلے اب بھی آباد ہیں، تو سمجھ لیجیے کہ رمضان کا پیغام روح میں اتر چکا ہے۔

تلاوتِ قرآن: زندگی کا دائمی دستور

رمضان "شہر القرآن" ہے، لیکن قرآن کا تعلق کسی ایک مہینے سے نہیں بلکہ یہ تو زندگی کے ہر اندھیرے میں روشنی کا مینار ہے۔

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَ (البقرة: 2)

ترجمہ: یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈر رکھنے والے ہیں۔

پورے سال کے تناظر میں یہ پیغام ہے کہ ہم تلاوت کو صرف ثواب کا ذریعہ نہ سمجھیں، بلکہ اسے فہمِ دین اور عمل کا ضابطہ بنائیں۔ قرآن کی ایک آیت پر غور کرنا، ہزار رکعت نفل سے بہتر ہے، بشرطیکہ وہ فکر و عمل میں تبدیلی لائے۔

سماجی خوشبو اور کردار کی پختگی

سخاوت اور ہمدردی کا آفاقی پیغام

رمضان ہمیں بھوک کا احساس دلا کر انسانیت کے دکھ درد سے جوڑتا ہے۔ نبی کریم ﷺ رمضان میں تیز ہوا سے بھی زیادہ سخاوت فرماتے تھے۔ ادبِ عالیہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان وہی ہے جو دوسروں کے کام آئے۔

ارشادِ نبوی ﷺ ہے:

خَيْرُ النَّاسِ مَنْ يَنْفَعُ النَّاسَ. (کنز العمال)

ترجمہ: بہترین انسان وہ ہے جو انسانوں کو نفع پہنچائے۔

رمضان کے بعد بھی یتیموں کی کفالت، بیواؤں کی مدد اور طالبِ علموں کی سرپرستی کا جذبہ مدہم نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ہم نے رمضان میں زکوٰۃ و صدقات دے کر اپنا ہاتھ روک لیا، تو یہ بخل ہوگا، جبکہ اسلام ہمیں فیاضی کا عادی بنانا چاہتا ہے۔

حاصلِ کلام: ایک عہدِ وفا

رمضان کی تربیت کا نچوڑ یہ ہے کہ ہم اپنے اخلاق کو مہکائیں۔ زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ خوشبو دار ہو، آنکھوں میں حیا کا نور ہو اور ہاتھوں میں خیر کی قوت ہو۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:

مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ. (صحیح بخاری)

ترجمہ: جو شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے، اللّٰہ کو اس کے کھانا پینا چھڑوانے کی کوئی حاجت نہیں۔

آئیں آج یہ عہد کریں کہ ہم رمضان کی شمع کو بجھنے نہیں دیں گے۔ عید کا دن دراصل خوشی کا نہیں بلکہ ذمہ داری کا دن ہے کہ ہم نے جو نور حاصل کیا ہے، اسے پورے سال اندھیروں میں بانٹنا ہے۔ اللّٰہ ہمیں استقامت عطا فرمائے اور ہمارے کردار کو اسلام کا آئینہ بنا دے۔

---


عید الفطر: ایک علمی و تحقیقی مطالعہ
(روحانیت، تاریخ اور سماجیات کے تناظر میں)

تہواروں کا عالمگیر تصور اور اسلامی انفرادیت

انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ "تہوار" کسی بھی معاشرے کی تہذیبی روح کا عکاس ہوتا ہے۔ اگر ہم عید الفطر کا موازنہ دنیا کے دیگر مذہبی اور قومی تہواروں سے کریں، تو پہلا بڑا فرق "محرک" (Motive) کا نظر آتا ہے۔ عام طور پر دنیا کے بیشتر تہوار کسی تاریخی واقعہ، موسمی تبدیلی یا کسی خاص شخصیت کی یاد پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، عید الفطر کا محرک نہ تو کوئی تاریخی یادگار ہے اور نہ ہی کوئی مادی خوشی، بلکہ یہ ایک کٹھن روحانی عبادت (روزہ) کی تکمیل کا ربانی تحفہ اور جشنِ تشکر ہے۔

جہاں دیگر تہواروں میں جشن کا آغاز مادی لذتوں اور رقص و سرور سے ہوتا ہے، وہاں اسلامی عید کا آغاز 'اللّٰہ اکبر' کی صداؤں اور سجدہ ریزی سے ہوتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اسلام خوشی کے لمحات میں بھی انسان کو اپنے خالق سے دور نہیں ہونے دیتا۔ لغوی اعتبار سے "عید" کا مادہ "ع و د" ہے، جس کا مطلب ہے "لوٹ کر آنا"۔ چونکہ یہ مبارک دن ہر سال ایک خاص وقفے کے بعد دوبارہ آتا ہے، اس لیے اسے عید کہا جاتا ہے۔ "فطر" کے معنی روزہ کھولنے کے ہیں۔ گویا یہ مادی وجود پر روحانی وجود کی فتح کا اعلان ہے۔


عید الفطر: ایک علمی و تحقیقی مطالعہ
(روحانیت، تاریخ اور سماجیات کے تناظر میں)

قرآنی و نبوی اساس (شرعی حیثیت)

عید الفطر کا تصور بنیادی طور پر ہدایت کی تکمیل اور شکر گزاری سے جڑا ہے۔ قرآن مجید میں اللّٰہ تعالیٰ نے رمضان کے احکامات کے اختتام پر اس دن کی حکمت بیان فرمائی ہے:

وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (سورہ البقرہ: ۱۸۵)

"اور تاکہ تم (روزوں کی) گنتی پوری کر لو اور اللّٰہ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائی بیان کرو اور تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ۔"

تاریخی اعتبار سے، ہجرتِ مدینہ کے بعد جب نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ جاہلیت کے رواج کے مطابق دو دن تہوار منایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے اس کی اصلاح فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

"إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا: يَوْمَ الْأَضْحَى وَيَوْمَ الْفِطْرِ" (سنن ابی داؤد: ۱۱۳۴)

"اللہ تعالیٰ نے تمہارے ان دونوں تہواروں کے بدلے میں تمہیں ان سے بہتر دو دن عطا کیے ہیں: یومِ عید الاضحیٰ اور یومِ عید الفطر۔"

عید کی فضیلت: "یوم الجائزہ" (انعام کا دن)

عید الفطر کو روحانیت کی زبان میں "یوم الجائزہ" یعنی انعامات کا دن کہا جاتا ہے۔ حدیثِ نبوی ﷺ کے مطابق، جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللّٰہ تعالیٰ فرشتوں سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ اس مزدور کی کیا جزا ہے جس نے اپنا کام مکمل کر لیا؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اسے پوری اجرت دی جائے۔ تب اللّٰہ تعالیٰ اعلان فرماتا ہے کہ میں نے اپنے ان بندوں کو بخش دیا۔

ایک اور روایت کے مطابق: "جو شخص عیدین کی راتوں میں عبادت کی نیت سے قیام کرتا ہے، اس کا دل اس دن بھی زندہ رہے گا جس دن تمام دل فوت ہو جائیں گے (یعنی قیامت کے دن)۔" (ابن ماجہ)

عید الفطر کا معاشی و اخلاقی پہلو: صدقہ فطر

عید الفطر کی ایک امتیازی خصوصیت "صدقہ فطر" کی ادائیگی ہے، جو اس جشن کو ایک سماجی فریضہ بنا دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو خوشی منانے سے پہلے یہ اطمینان کر لینے کا حکم دیتا ہے کہ معاشرے کا پس ماندہ طبقہ بھی اس میں شریک ہے۔ رسول اللّٰہ ﷺ نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

"فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَةً لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ" (سنن ابی داؤد: ۱۶۰۹)

"رسول اللّٰہ ﷺ نے صدقہ فطر کو روزے دار کے لیے لغویات و بیہودہ باتوں سے پاکی کا ذریعہ اور مسکینوں کے کھانے (کا انتظام کرنے) کے لیے فرض قرار دیا۔"

مسنون اعمال اور آدابِ عید

عید کا دن محض ایک روایتی میلہ نہیں بلکہ عبادت ہے، جس کے چند آداب درج ذیل ہیں:

تیاری: غسل کرنا، مسواک کرنا اور عمدہ لباس پہننا سنت ہے۔

کھانا: عیدگاہ جانے سے قبل طاق عدد (۱، ۳ یا ۵) میں کھجوریں کھانا سنتِ رسول ﷺ ہے۔

نمازِ عید: دو رکعت واجب نماز چھ زائد تکبیرات کے ساتھ ادا کرنا اور اس کے بعد خطبہ سننا۔

راستہ بدلنا: آپ ﷺ عیدگاہ جانے اور واپسی کے لیے مختلف راستے اختیار فرماتے تھے تاکہ شعائرِ اسلام کا اظہار ہو اور زیادہ سے زیادہ لوگوں سے ملاقات ہو۔

مبارکباد: صحابہ کرامؓ ایک دوسرے کو ان الفاظ میں ہدیہ تہنیت پیش کرتے تھے:

’’تَقَبَّلَ اللہُ مِنَّا وَمِنْکُمْ‘‘

’’اللّٰہ تعالیٰ ہماری اور آپ کی عبادات کو قبول فرمائے‘‘۔

عید کا تاریخی و علمی ارتقاء

عید الفطر کی تاریخ چودہ سو سالہ ارتقائی سفر کی عکاس ہے:

عہدِ رسالت و خلافت: یہ دور سادگی اور بندگی کا تھا جہاں عید کا مرکز 'مصلّٰی' (عیدگاہ) تھا۔

اموی و عباسی عہد: سلطنت کی توسیع کے ساتھ اس میں شاہی جاہ و جلال، "عیدیہ" کی تقسیم اور شاہی دسترخوانوں کا رواج پڑا۔

علاقائی رنگ: فاطمیوں کے دور میں مٹھائیوں کی تقسیم سے اسے "عیدِ حلویات" کہا گیا، جبکہ برصغیر میں مغلوں کے دور میں یہ ایک عظیم الشان مشترکہ تہذیبی میلے کی شکل اختیار کر گیا۔

جدید علمی تناظر میں، جہاں مغربی محققین (جیسے میشل فوکو یا لیلیٰ نبہان) عید کو محض ایک سماجی ڈھانچے یا "صارفانہ کلچر" کے طور پر دیکھتے ہیں، وہاں اس کی اصل حقیقت "خدائی مرکز" (God-centric) خوشی ہے، جو مادی لذتوں کے بجائے بندگیِ رب کے شکریے پر استوار ہے۔

حاصلِ بحث (نتیجہ)

تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عید الفطر محض ایک روایتی میلہ نہیں، بلکہ یہ عبادت کی تکمیل، سماجی ہم آہنگی اور تہذیبی تشخص کا ایک مربوط نظام ہے۔ یہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ حقیقی خوشی وہی ہے جس میں نظم و ضبط، مساوات اور یادِ الٰہی شامل ہو۔ ہمیں چاہیے کہ اس دن کو اسراف اور غیر شرعی خرافات سے پاک رکھ کر حقیقی اسلامی روح کے مطابق گزاریں، تاکہ ہم ان انعامات کے حقدار بن سکیں جن کا وعدہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے وفادار بندوں سے کیا ہے۔

مآخذ و مراجع:

  1. القرآن الکریم (سورہ البقرہ، آیت ۱۸۵)۔
  2. صحیح بخاری، کتاب العیدین (حدیث ۹۵۲)۔
  3. سنن ابی داؤد، کتاب الزکوٰۃ (حدیث ۱۶۰۹)۔
  4. ابن بطوطہ، "رحلہ ابن بطوطہ" (تاریخی مشاہدات)۔
  5. نبہان، لیلیٰ (1993)، "عید الفطر فی مصر: دراسة حول الأسس الدینیة"۔

شبِ قدر: فضیلت، اہمیت اور پیغامِ سعادت

"شبِ قدر" کائنات کی تمام راتوں میں سب سے بہترین اور عظیم الشان رات ہے۔ اللّٰہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے اسی مبارک شب میں قرآنِ مجید نازل فرمایا۔ ربِ ذوالجلال نے خود ہمیں اس کی عظمت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک رات "ہزار مہینوں" سے بہتر ہے، یہ سراپا برکت ہے اور اسی میں تمام حکمت والے معاملات کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ جیسا کہ سورۃ الدخان کے آغاز میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

حم ۝ وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ ۝ إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ ۝ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ ۝ أَمْرًا مِّنْ عِندِنَا إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ ۝ رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ۝ [الدخان:1-6]

ترجمہ: حٰمٓ! اس واضح کتاب کی قسم کہ ہم نے اس کو ایک برکت والی رات میں اُتارا ہے؛ (کیوں کہ) ہم خبر دار کرنے والے ہیں، اس رات میں ہمارے ہی حکم سے ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ کیا جاتا ہے، یقینًا ہم ہی (آپ کو) پیغمبر بنانے والے ہیں، جو آپ کے پروردگار کی رحمت ہے، یقیناً اللّٰہ بہت سننے والے اور جاننے والے ہیں۔

اسی طرح سورۃ القدر میں اس رات کی منزلت بیان کرتے ہوئے اللّٰہ عزوجل نے فرمایا:

إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ۝ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ۝ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ ۝ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ ۝ سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ ۝ [القدر:1-5]

ترجمہ: ہم نے قرآن کو شبِ قدر میں اُتارا ہے، اور آپ کو معلوم ہے کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جس میں فرشتے اور روح القدس (جبرئیلؑ) اپنے رب کی اجازت سے ہر حکم کو لے کر اُترتے ہیں، یہ رات سراپا سلامتی ہے، جو صبح ہونے تک رہتی ہے۔

یہ پوری سورت اس حقیقت کی شاہد ہے کہ اس ایک رات کی جانے والی عبادت، ہزار مہینوں کی راتوں کی عبادت سے افضل و برتر ہے۔ یہ اللّٰہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر خاص رحمت اور ایک ایسا عظیم احسان ہے جس کا شکر ادا کرنا انسانی بس سے باہر ہے۔ اس لیے مسلمانوں کے لیے یہ نہایت موزوں ہے کہ وہ اس رات کی قدر کریں اور خود کو مکمل طور پر عبادت کے لیے وقف کر دیں۔


شبِ قدر: فضیلت، اہمیت اور پیغامِ سعادت

حصولِ مغفرت اور فضیلتِ قیام

رسول اللّٰہ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے اس رات کے اجر کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا:

«مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» [البخاري: 7060]

ترجمہ: جس نے ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے (خلوصِ دل کے ساتھ) شبِ قدر میں قیام کیا (عبادت کی)، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے گئے۔

واضح رہے کہ اس رات کے قیام اور عبادت میں نماز، ذکرِ الٰہی، دعا، تلاوتِ قرآن اور دیگر تمام نیک اعمال شامل ہیں۔

تلاشِ شبِ قدر اور معمولِ نبوی ﷺ

رسول اللّٰہ ﷺ نے ہمیں ہدایت فرمائی کہ یہ مبارک رات رمضان کے آخری عشرے میں آتی ہے اور اس کے پچھلے پہر یا طاق راتوں میں اس کا امکان دیگر راتوں سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ آپ ﷺ کا فرمانِ مبارک ہے:

«الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، الْتَمِسُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ» [صحيح البخاري]

ترجمہ: اسے رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو اور ہر طاق رات میں تلاش کرو۔

احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ رات عشرہِ اخیرہ کی راتوں میں گردش کرتی رہتی ہے اور ہمیشہ کسی ایک مخصوص رات (جیسے صرف 27 ویں) میں مقید نہیں ہوتی۔ یہ 21 ویں، 23 ویں، 25 ویں، 27 ویں (جس کا امکان زیادہ ہے)، 29 ویں یا کبھی جفت (جوڑے عدد) والی راتوں میں بھی ہو سکتی ہے۔ لہٰذا جو شخص پورے آخری عشرے کی تمام دس راتیں ایمان اور احتساب کے ساتھ عبادت میں گزارے گا، وہ یقیناً اس خیرِ کثیر کو پا لے گا اور اس انعام کا مستحق ٹھہرے گا جس کا اللّٰہ نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللّٰہ ﷺ ان آخری دس راتوں میں عبادت کا وہ خاص اہتمام فرماتے تھے جو عام دنوں میں نہیں ہوتا تھا:

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ»

ترجمہ: رسول اللّٰہ ﷺ آخری عشرے میں جتنی محنت کرتے تھے اور دنوں میں اتنی محنت نہیں کرتے تھے۔

نیز آپؓ فرماتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا، تو آپ ﷺ رات بھر بیدار رہتے، گھر والوں کو جگاتے اور پوری تندہی سے عبادت میں جٹ جاتے۔

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَحْيَا اللَّيْلَ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ وَجَدَّ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ» [صحيح مسلم]

ترجمہ: جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی اکرم ﷺ رات کو جاگتے، اپنے گھر والوں کو جگاتے اور کمر کس لیتے۔ (کمر کس لینے سے مراد یا تو عبادت کے لیے انتہائی محنت کرنا ہے یا ازواجِ مطہرات سے علیحدگی اختیار کر کے تنہائی میں رب سے لو لگانا ہے)۔

اسی عشرے میں آپ ﷺ اکثر اعتکاف بھی فرمایا کرتے تھے۔ قرآن کہتا ہے: «لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» (ترجمہ: یقیناً تمہارے لیے رسول اللّٰہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے)۔

مسنون دعا

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللّٰہ کے رسول ﷺ! اگر مجھے شبِ قدر کا علم ہو جائے تو میں کیا دعا مانگوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کہو:

«اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي» [سنن الترمذي]

ترجمہ: اے اللّٰہ! تو معاف کرنے والا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے، لہٰذا مجھے معاف فرما دے۔

صحابہ کرامؓ اور صالحینِ امت ہمیشہ ان دس راتوں کی بے حد تعظیم کرتے اور ان میں خیر کے کاموں میں سبقت لے جاتے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے نبی ﷺ، صحابہؓ اور اسلاف کی پیروی کرتے ہوئے ان راتوں کو غفلت میں نہ گزاریں، بلکہ تلاوت، ذکر، استغفار اور توبہ میں مشغول رہیں تاکہ اللہ کے اجر کے مستحق بنیں۔

کبیرہ گناہوں سے بچنے کی شرط

یاد رہے کہ مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ ان لوگوں کے لیے ہے جو کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتے ہیں، جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

إِن تَجْتَنِبُواْ كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا [النساء:31]

ترجمہ: اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچو گے جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے، تو ہم تم سے تمہارے چھوٹے گناہ مٹا دیں گے اور تمہیں (عزت کے مقام) جنت میں داخل کریں گے۔

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ، مُكَفِّرَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِرُ» [صحيح مسلم]

ترجمہ: پانچوں وقت کی نمازیں، ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک ان دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے۔

توبہ میں استقامت اور ایک اہم تنبیہ

ایک اہم بات جس سے باخبر رہنا ضروری ہے وہ یہ کہ بعض لوگ صرف رمضان میں نیک بنتے ہیں اور پچھلے گناہوں پر توبہ کرتے ہیں، لیکن جوں ہی رمضان گزرتا ہے، وہ پھر سے انہی برے اعمال کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔ یہ ایک سنگین صورتحال اور بڑا خطرہ ہے۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت پر قائم رہے اور گناہوں کو مستقل چھوڑنے کا عزم کرے، کیونکہ اللہ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا:

وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ [الحجر:99]

ترجمہ: اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہیں موت (کا یقین) آ جائے۔

اور مزید ارشاد فرمایا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ [آل عمران:102]

ترجمہ: اے ایمان والو! اللّٰہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔

استقامت اختیار کرنے والوں کے لیے ربِ کریم کا انعام بہت بڑا ہے:

إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ استَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ ۝ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ ۝ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ ۝ [فصلت:30-32]

ترجمہ: بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللّٰہ ہے، پھر وہ ثابت قدم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوں گے اور کہیں گے کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو، بلکہ خوشخبری سنو اس جنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ دنیا اور آخرت میں ہم تمہارے ساتھی ہیں۔ اس میں تمہارے لیے وہ سب کچھ ہوگا جو تمہارا جی چاہے گا اور جو تم طلب کرو گے۔ یہ بخشنے والے مہربان (خدا) کی طرف سے مہمانی کے طور پر ہو گا۔

ان آیات کا مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ اللّٰہ پر ایمان لانے اور خلوصِ دل سے اس کی عبادت کرنے کے بعد اس پر ڈٹ جاتے ہیں، انہیں موت کے وقت فرشتے خوف اور غم سے نجات کی نوید دیتے ہیں۔ انہیں جنت کی خوشخبری سنائی جاتی ہے کیونکہ انہوں نے اللّٰہ کی اطاعت میں ثابت قدمی دکھائی، نافرمانیوں کو ترک کیا اور مخلصانہ زندگی گزاری۔

قرآنِ پاک کی بہت سی آیات اسی بات پر زور دیتی ہیں کہ حق پر جمے رہنا ضروری ہے اور نافرمانی پر اصرار کرنا ہلاکت کا باعث ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَسَارِعُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ ۝ الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاء وَالضَّرَّاء وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ۝ وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُواْ فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُواْ أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُواْ اللّهَ فَاسْتَغْفَرُواْ لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ اللّهُ وَلَمْ يُصِرُّواْ عَلَى مَا فَعَلُواْ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ۝ أُوْلَئِكَ جَزَآؤُهُم مَّغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَجَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ ۝ [آل عمران: 133-136]

ترجمہ: اور دوڑو (مسابقت کرو) اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین (کے پھیلاؤ) جتنی ہے، جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ (133) (یہ وہ لوگ ہیں) جو خوشحالی اور تنگدستی (ہر حال) میں خرچ کرتے ہیں، غصے کو پی جانے والے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دینے والے ہیں، اور اللّٰہ نیکی کرنے والوں (محسنین) سے محبت فرماتا ہے۔ (134) اور وہ لوگ کہ جب کوئی فحش کام کر بیٹھیں یا اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں — اور اللّٰہ کے سوا گناہوں کو کون بخش سکتا ہے؟ — اور وہ اپنے کیے پر جان بوجھ کر اصرار نہیں کرتے (یعنی ضد نہیں کرتے)۔ (135) یہی وہ لوگ ہیں جن کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور (نیک) عمل کرنے والوں کا کیا ہی اچھا اجر ہے! (136)

ان آیات کے اہم نکات

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے "متقین" (پرہیزگاروں) کی چند نہایت خوبصورت صفات بیان فرمائی ہیں:

سخاوت: صرف مالداری میں نہیں بلکہ مشکل وقت میں بھی اللّٰہ کی راہ میں دینا۔

ضبطِ نفس: غصے پر قابو پانا اور انتقام کی طاقت رکھنے کے باوجود معاف کر دینا۔

رجوع الی اللّٰہ: گناہ ہو جانے کی صورت میں فوراً توبہ کرنا اور اس پر قائم نہ رہنا۔

آخر میں ہم اللّٰہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو ان مبارک راتوں میں ان اعمال کی توفیق عطا فرمائے جن سے وہ راضی ہوتا ہے اور ہمیں نفس کے شر اور اعمال کی برائیوں سے محفوظ رکھے۔ بے شک وہ نہایت فیاض، کریم اور مہربان ہے۔

---

مقالات ومضامین

خوش آمدید، یہاں آپ کی آمد ہمارے لیے باعثِ افتخار ہے۔ یہ بلاگ فکر، تہذیب، اور معاشرت کے مختلف پہلوؤں کا آئینہ ہے۔ اگر کوئی تحریر دل کو چھو جائے، سوچ کو مہمیز دے یا نظر کو نیا زاویہ عطا کرے تو یہی اس بلاگ کی اصل کامیابی ہے۔ خوش رہیے، پڑھتے رہیے، اور اظہارِ رائے سے ضرور نوازئے۔ آپ کی رائے ہمارے لیے رہنمائی، اور آپ کی موجودگی حوصلہ افزائی کا باعث ہوگی۔ مفتی محمد خالد سیف اللّٰہ قاسمی ابن محمد جہانگیر اُسراہی، استاذ جامعہ عائشہ صدیقہؓ نورچک

مفتی محمد خالد سیف اللّٰہ قاسمی

استاذ، جامعہ عائشہ صدیقہ نورچک، بسفی، مدھوبنی، بہار۔ علمی، دینی، ادبی اور تحقیقی مضامین کے مصنف۔

مزید تعارف پڑھیں →