ہندوستان کے سفرِ آزادی میں مجاہدین کی جدوجہد
معزز قارئین!
آج مجھے جس تاریخی اور مقدس موضوع پر قلم اٹھانے کا موقع ملا ہے، وہ 1757ء سے 1947ء تک کے وہ 190 سال ہیں جنہوں نے ہمارے ملک کی تقدیر لکھی۔
آج ہم جس آزاد اور خودمختار ہندوستان میں سانس لے رہے ہیں، یہ کسی ایک دن کی محنت نہیں، بلکہ دو صدیوں پر محیط خون، پسینے، اور قربانیوں کا داستانِ عظیم ہے۔
![]() |
| ہندوستان کے سفرِ آزادی میں مجاہدین کی جدوجہد |
پہلا دور (1757ء - 1803ء) : ایسٹ انڈیا کمپنی کا پھیلاؤ اور ابتدائی مقاومت
جدوجہدِ آزادی کا پہلا دَور 1757ء کی ’’جنگِ پلاسی‘‘ سے شروع ہوتا ہے۔
نواب سراج الدولہ:
جب ’’انگریزی ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ نے ’’بنگال‘‘ پر قبضہ کرنا چاہا، تو بنگال کے نوجوان نواب ’’سراج الدولہ‘‘ نے میدانِ جنگ میں ان کا مقابلہ کیا اور وطن کی حفاظت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
شیرِ میسور ٹیپو سلطان (1782ء - 1799ء):
اس کے بعد ’’میسور‘‘ کی زمین پر ’’ٹیپو سلطان‘‘ اور ان کے والد ’’حیدر علی‘‘ نے انگریزوں کے خلاف تاریخی مقاومت کی۔ ٹیپو سلطان نے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا تھا کہ ’’گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے‘‘ — اور 1799ء میں سرنگا پٹم کے میدان میں لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔
دوسرا دور (1803ء - 1831ء) : شاہ عبدالعزیزؒ کا فتویٰ اور تحریکِ مجاہدین
پھر جب 1803ء میں انگریزوں نے دہلی پر قبضہ کر کے مغل شہنشاہ کو صرف برائے نام حکمران بنا دیا، تو اس وقت کے عظیم محدث حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے وہ تاریخی فتویٰ صادر فرمایا جس نے آزادی کی تحریک کو شرعی اور فکری بنیاد فراہم کی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ’’ہندوستان اب ’دارالحرب‘ بن چکا ہے۔ انگریزی سامراج کا غصب شدہ تسلط ختم کرنا اور آزادی کے لیے جدوجہد کرنا ہر ہندوستانی پر فرض ہے۔‘‘
اسی فتوے کی روشنی میں ان کے شاگرد سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ نے تحریکِ مجاہدین کی بنیاد رکھی اور 1831ء میں بالاکوٹ کے مقام پر انگریزوں اور ان کے اتحاد کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
تیسرا دور (1857ء) : پہلی جنگِ آزادی اور علمائے دیوبند کا کردار
پھر آیا 1857ء کا تاریخی سال، جب پورا ہندوستان انگریزوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آیا۔
عوامی و نظامی قیادت:
منگل پانڈے کی بغاوت، جھانسی کی رانی لکشمی بائی کا مردانہ وار مقابلہ، تاتیا ٹوپے اور آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے اس جنگ کی قیادت کی۔
میدانِ شاملی اور علمائے کرام:
اس جنگ میں علمائے کرام نے بھی پیش پیش ہو کر قیادت کی۔ حاجی امداد اللّٰہ مہاجر مکیؒ کی امارت میں مولانا قاسم نانوتویؒ (بانی دارالعلوم دیوبند) اور مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے شاملی کے میدان میں انگریزی فوج کا ڈٹ کر مردانہ وار مقابلہ کیا۔
سخت مظالم:
جنگ ناکام ہونے کے بعد انگریزوں نے انتقام کی آگ میں ہزاروں علماء کو درختوں پر پھانسیاں دیں اور جلاوطن کیا۔
دارالعلوم دیوبند کا قیام (1866ء):
1857ء کی ناکامی کے بعد مولانا قاسم نانوتویؒ نے 1866ء میں دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی۔ اس مدرسے کا مقصد صرف مذہبی تعلیم دینا نہیں تھا، بلکہ آزادی کے لیے فکری اور اخلاقی مجاہدین تیار کرنا تھا۔
چوتھا دور (1885ء - 1916ء) : سیاسی بیداری اور تحریکِ ریشمی رومال
1885ء میں انڈین نیشنل کانگریس کے قیام کے ساتھ جدوجہدِ آزادی سیاسی محاذ پر منتقل ہوئی جہاں دادا بھائی نوروجی اور بال گنگادھر تلک جیسے رہنماؤں نے عوام کو بیدار کیا۔
دوسری طرف، انگریزوں کو جڑ سے اکھاڑنے کا سب سے منظم اور خفیہ منصوبہ تحریکِ ریشمی رومال (Silk Letter Movement) کے نام سے شروع ہوا۔
شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کا منصوبہ:
دارالعلوم دیوبند کے پہلے طالب علم شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور ان کے شاگرد مولانا عبید اللّٰہ سندھیؒ نے ریشمی کپڑے پر خفیہ خطوط کے ذریعے افغانستان، ترکی اور حجاز کے ساتھ مل کر انگریزوں پر عالمی حملے کی منصوبہ بندی کی، لیکن یہ منصوبہ افشا ہو گیا۔
اسیرِ مالٹا:
جب یہ منصوبہ افشا ہوا، تو انگریزوں نے 1916ء میں شیخ الہندؒ اور ان کے جلیل القدر شاگرد مولانا حسین احمد مدنیؒ کو گرفتار کر کے بحیرہ روم کے جزیرے مالٹا کی جیل میں قید کر دیا۔
ہولناک مظالم:
80 سال کے ضعیف شیخ الہندؒ کی پیٹھ پر گرم لوہے کی سلاخیں داغی گئیں، لیکن اس مردِ مجاہد کے ایقان میں ذرہ برابر لغزش نہ آئی۔
پانچواں دور (1919ء - 1947ء): عوامی تحاریک، انقلابی اور حتمی آزادی
مالٹا سے رہائی کے بعد شیخ الہندؒ نے ملک میں سیاسی اور عوامی اتحاد پر زور دیا۔ 1919ء میں جمعیت علماء ہند اور کانگریس کے اشتراک سے ایک نیا باب شروع ہوا۔
گاندھیائی دور:
مہاتما گاندھی کی قیادت میں عدم تعاون تحریک، نمک ستیاگرہ، اور خلافت تحریک میں مولانا ابوالکلام آزادؒ، پنڈت نہرو، سردار پٹیل، اور خان عبدالغفار خان نے ملک کو ایک پرچم تلے جمع کیا۔
انقلابی شہداء:
دوسری جانب بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، اشفاق اللّٰہ خان، اور رام پرساد بسمل جیسے جوانوں نے اپنی جانیں قربان کر کے انقلاب کا نعرہ بلند کیا۔
آزاد ہند فوج:
نیتا جی سبھاش چندر بوس نے ’’آزاد ہند فوج‘‘ بنا کر مسلح جدوجہد کی اور نعرہ دیا: ’’تم مجھے خون دو، میں تمہیں آزادی دوں گا۔‘‘
ہندوستان چھوڑ دو (1942ء):
بالآخر 1942ء میں "Quit India" تحریک نے انگریزی سامراج کی آخری کیل ٹھونک دی۔
اختتامیہ
1757ء میں نواب سراج الدولہ کے خون سے شروع ہونے والا یہ سفر، شاہ عبدالعزیزؒ کے فتوے، 1857ء کے شہداء، شیخ الہندؒ کی مالٹا کی اسیری، گاندھی جی کی تحریکوں اور بھگت سنگھ و اشفاق اللّٰہ خان کی سولیوں سے ہوتا ہوا 15 اگست 1947ء کو آزادی کے سورج کی صورت میں طلوع ہوا۔
آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس آزادی کی قدر کریں، آپسی بھائی چارے اور اتحاد کو قائم رکھیں اور اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔
وطن پر مرنے والوں کا یہی باقی نشاں ہوگا
ہندوستان زندہ باد
بہت بہت شکریہ





