سیرتِ نبوی ﷺ کے چراغ اور نسلِ نو کی علمی بیداری
مدرسہ روضۃ العلوم اسراہی میں منعقدہ سیرت النبی ﷺ کوئز مسابقے کی ایک ایمان افروز روداد اور چند تاثرات
![]() |
| سیرتِ نبوی ﷺ کے چراغ اور نسلِ نو کی علمی بیداری مدرسہ روضۃ العلوم اسراہی میں منعقدہ سیرت النبی ﷺ کوئز مسابقے کی ایک ایمان افروز روداد اور چند تاثرات |
سیرتِ نبوی ﷺ کی اہمیت اور نئی نسل کی تربیت
سیرتِ رسول ﷺ وہ آفتابِ ہدایت ہے جس کی تابناک کرنوں نے جہالت کی تاریکیوں کو دور کیا، انسانیت کو جینے کا سلیقہ سکھایا اور زندگی کے ہر شعبے میں رشد و ہدایت کے روشن نقوش ثبت کیے۔ آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ محض تاریخ کا ایک تابناک باب نہیں، بلکہ قیامت تک آنے والی انسانیت کے لیے ایک مکمل دستورِ حیات اور فلاح و کامیابی کا دائمی سرچشمہ ہے۔ قرآنِ کریم نے نہایت جامع اور بلیغ انداز میں اس حقیقت کا اعلان فرمایا ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ. (الأحزاب: ۲۱)
ترجمہ: یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔
اس آیتِ کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ محض حصولِ معلومات یا تاریخی واقعات سے واقفیت کا نام نہیں، بلکہ اس کا اصل مقصد اپنی زندگی کو اسوۂ رسول ﷺ کے سانچے میں ڈھالنا، اپنے اخلاق و کردار کو سنتِ نبوی سے آراستہ کرنا اور زندگی کے ہر موڑ پر آپ ﷺ کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرنا ہے۔
بالخصوص موجودہ دور میں، جب نئی نسل مختلف فکری، اخلاقی اور تہذیبی چیلنجوں سے دوچار ہے، سیرتِ نبوی ﷺ سے اس کا رشتہ مضبوط کرنا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ بچوں کے دلوں میں محبتِ رسول ﷺ کا چراغ روشن کرنا، ان کے ذہنوں کو سیرتِ طیبہ کے پاکیزہ نقوش سے منور کرنا اور انہیں اسلامی اخلاق و اقدار سے آشنا کرنا ایک عظیم دینی و تربیتی خدمت ہے۔
اس سلسلے میں دینی مدارس کا کردار نہایت اہم اور قابلِ قدر ہے۔ یہ ادارے نہ صرف قرآن و سنت کی تعلیم دیتے ہیں، بلکہ نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔ ان مدارس میں منعقد ہونے والے علمی و تربیتی مسابقے بچوں کے اندر علم کا شوق، مطالعے کا ذوق، قوتِ حافظہ، خود اعتمادی اور اظہارِ خیال کی صلاحیت پیدا کرنے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔
خصوصاً سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر منعقد ہونے والے مسابقے اس اعتبار سے بڑی اہمیت رکھتے ہیں کہ ان کے ذریعے بچوں کو اپنے محبوب نبی ﷺ کی مبارک زندگی سے واقفیت حاصل ہوتی ہے اور ان کے دلوں میں آپ ﷺ کی محبت و عظمت کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔
مدرسہ روضۃ العلوم اسراہی میں ایک قابلِ تحسین علمی کاوش
اسی مبارک مقصد کے پیشِ نظر مدرسہ روضۃ العلوم اسراہی میں طلبہ و طالبات کے درمیان سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر ایک علمی و تربیتی کوئز مسابقے کا انعقاد کیا گیا۔ اس بابرکت مجلس میں شرکت اور بحیثیتِ حکم بچوں کی علمی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کا موقع راقم الحروف کو بھی حاصل ہوا۔
مسابقے میں حکم کے فرائض راقم الحروف کے ساتھ مدرسے کے ناظمِ تعلیمات مولانا مصباح الاسلام اشاعتی نے انجام دیے۔
یہ مسابقہ کئی اعتبار سے نہایت خوش آئند اور حوصلہ افزا رہا۔ ننھے منے بچوں اور بچیوں نے جس دلچسپی، اعتماد اور عمدہ تیاری کے ساتھ سوالات کے جوابات دیے، وہ یقیناً قابلِ تحسین تھا۔ ان کے چہروں پر علم حاصل کرنے کا شوق، اندازِ بیان میں اعتماد اور جوابات میں پختگی نمایاں تھی۔
سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ رہی کہ تمام شرکاء نے اپنی یادداشت اور حاصل کردہ معلومات کے اعتبار سے سو فیصد کامیابی کا مظاہرہ کیا۔ سوالات کے جوابات اس قدر درست اور اطمینان بخش تھے کہ بحیثیتِ حکم کسی ایک شریک کو دوسرے پر ترجیح دینا ایک دشوار مرحلہ بن گیا۔
یہ منظر دیکھ کر دل میں بے اختیار مسرت و اطمینان کی کیفیت پیدا ہوئی کہ الحمد للہ ہماری نئی نسل کے اندر دینی علوم کے حصول کا شوق اور سیرتِ رسول ﷺ سے واقفیت کی تڑپ موجود ہے۔ ضرورت صرف اس جذبے کی مناسب آبیاری اور مسلسل رہنمائی کی ہے۔
جب فیصلہ کرنا دشوار ہو گیا
کسی بھی مسابقے میں کامیاب شرکاء کے درمیان اول، دوم اور سوم پوزیشن کا تعین ایک طے شدہ اصول ہوتا ہے، لیکن جب تمام شرکاء اپنی معلومات اور قوتِ حافظہ کے اعتبار سے یکساں عمدہ کارکردگی پیش کریں تو فیصلہ کرنا آسان نہیں رہتا۔
اس مسابقے میں بھی یہی صورتِ حال پیش آئی۔ تمام بچوں اور بچیوں نے سوالات کے درست جوابات دیے اور اپنی بہترین تیاری کا ثبوت پیش کیا۔ ایسے میں محض معلومات اور یادداشت کی بنیاد پر امتیاز قائم کرنا ممکن نہ تھا۔
چنانچہ فیصلہ کرتے وقت الفاظ کی درست ادائیگی، تلفظ کی صحت، زبان کی روانی اور جواب پیش کرنے کی سلاست کو معیار بنایا گیا، اور انہی باریک پہلوؤں کی بنیاد پر پوزیشنوں کا تعین عمل میں آیا۔
اس موقع پر یہ حقیقت بھی نمایاں ہوئی کہ کسی مسابقے میں پوزیشن حاصل نہ کر پانا علمی ناکامی کی دلیل نہیں ہوتا۔ بسا اوقات تمام شرکاء اپنی جگہ کامیاب ہوتے ہیں، البتہ مسابقے کے مقررہ اصولوں کے تحت چند افراد کو نمایاں قرار دینا پڑتا ہے۔
درحقیقت ایسے علمی مقابلوں کی اصل کامیابی انعامات اور پوزیشنوں میں نہیں، بلکہ اس محنت، ذوقِ علم اور تعلیمی جذبے میں پوشیدہ ہوتی ہے جو بچوں کو مطالعے، یادداشت اور علمی تیاری پر آمادہ کرتا ہے۔
ایک مشفقانہ فیصلہ، جو دلوں کو چھو گیا
اس مسابقے کا ایک نہایت دل نشیں اور قابلِ ذکر پہلو وہ موقع تھا جب تیسری پوزیشن کے لیے تین طالبات کے نام سامنے آئے، جبکہ انعام صرف ایک مقرر تھا۔
منتظمین نے ابتدا میں یہ مناسب سمجھا کہ تینوں طالبات سے مزید چند سوالات کیے جائیں اور ان کے جوابات کی بنیاد پر کسی ایک کو تیسری پوزیشن کے انعام کا مستحق قرار دیا جائے۔
لیکن مدرسے کے مہتمم محترم مولانا لقمان صاحب نے بچوں کی نفسیات اور ان کے جذبات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ایک نہایت مشفقانہ اور حوصلہ افزا فیصلہ فرمایا۔ انہوں نے ہدایت دی کہ تینوں طالبات کو تیسری پوزیشن کا انعام دیا جائے، چنانچہ مدرسے کی جانب سے تینوں کو انعامات سے نوازا گیا۔
یہ فیصلہ محض انعامات کی تقسیم کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ اس میں تربیت، شفقت، حسنِ تدبیر اور بچوں کی دل جوئی کا ایک خوب صورت پیغام پوشیدہ تھا۔
تعلیم و تربیت کے میدان میں بچوں کی حوصلہ افزائی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ کبھی ایک محبت بھرا جملہ، کبھی شفقت کی ایک نظر اور کبھی کسی چھوٹی سی کامیابی کی قدر افزائی بچے کے اندر آگے بڑھنے کا ایسا حوصلہ پیدا کر دیتی ہے جو مدتوں باقی رہتا ہے۔
مولانا لقمان صاحب کا یہ فیصلہ اسی تربیتی بصیرت کا مظہر تھا، جس میں مقابلے کے اصولوں کے ساتھ بچوں کے جذبات اور ان کی حوصلہ افزائی کو بھی اہمیت دی گئی۔
اساتذہ کی خاموش محنتوں کا روشن ثمرہ
اس مسابقے میں بچوں کی عمدہ کارکردگی جہاں ان کی ذاتی محنت اور دلچسپی کی آئینہ دار تھی، وہیں اس کے پس منظر میں اساتذۂ کرام کی مسلسل جدوجہد، توجہ اور مخلصانہ رہنمائی کا بھی نمایاں حصہ تھا۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی تعلیمی ادارے کے طلبہ کی عمدہ کارکردگی اس ادارے کے تعلیمی ماحول اور اساتذہ کی محنتوں کی بہترین ترجمان ہوتی ہے۔
اساتذہ محض کتابوں کے اسباق نہیں پڑھاتے، بلکہ وہ ذہنوں کی تعمیر، صلاحیتوں کی نشوونما اور کردار کی تشکیل کا عظیم فریضہ انجام دیتے ہیں۔ ان کی خاموش محنتیں ہی مستقبل کے باصلاحیت افراد کی بنیاد بنتی ہیں۔
اس مسابقے میں بھی بچوں کی زبانوں پر رواں جوابات، معلومات کی پختگی اور اندازِ پیشکش میں اعتماد اس حقیقت کی گواہی دے رہے تھے کہ ان کی تیاری کے پیچھے اساتذہ کی بھرپور توجہ اور محنت کارفرما رہی ہے۔
خصوصاً مدرسے کے ناظمِ تعلیمات مولانا مصباح الاسلام اشاعتی نے مسابقے کی ترتیب و نظامت کو نہایت حسن و خوبی کے ساتھ انجام دیا، جبکہ دیگر اساتذۂ کرام بھی مسلسل معاون و مددگار رہے۔ ان سب کی مشترکہ کوششوں سے یہ علمی و تربیتی پروگرام خوش اسلوبی کے ساتھ پایۂ تکمیل کو پہنچا۔
اس موقع پر گاؤں کی معزز شخصیت جناب تمنے صاحب کی موجودگی بھی باعثِ مسرت رہی۔ انہوں نے بچوں کی عمدہ کارکردگی اور مدرسے کی اس تعلیمی کاوش پر خوشی کا اظہار کیا۔
بلاشبہ مدرسے کے مہتمم، ناظمِ تعلیمات، تمام اساتذہ اور منتظمین اس کامیاب انعقاد پر دلی مبارکباد کے مستحق ہیں۔
سیرت کا علم، سیرت پر عمل کا پیش خیمہ بنے
اس موقع پر ایک اہم حقیقت کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری ہے کہ سیرتِ نبوی ﷺ کے مسابقوں کا اصل مقصد محض سوالات کے جوابات یاد کرنا یا انعامات حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ان کے ذریعے بچوں کے اندر رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کرنے کا جذبہ بھی پیدا ہونا چاہیے۔
اگر کوئی بچہ رسول اللہ ﷺ کی صداقت و امانت سے متعلق واقعات تو یاد کر لے، لیکن اپنی زندگی میں سچائی اور امانت داری اختیار نہ کرے، تو سیرت کے مطالعے کا مطلوبہ تربیتی فائدہ حاصل نہیں ہو سکے گا۔
اسی طرح اگر بچے آپ ﷺ کے حسنِ اخلاق، رحم دلی، عفو و درگزر اور بڑوں کے احترام سے متعلق سوالات کے درست جوابات دیں، تو ضروری ہے کہ ان کے عملی رویوں میں بھی ان اوصاف کی جھلک نظر آئے۔
علم کی حقیقی برکت اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ انسان کے کردار اور عمل پر اثر انداز ہو۔
لہٰذا اساتذہ اور سرپرستوں کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو سیرتِ نبوی ﷺ کے واقعات یاد کرانے کے ساتھ ان واقعات سے حاصل ہونے والے عملی اسباق بھی سمجھائیں، تاکہ سیرت کا علم ان کے لیے اصلاحِ نفس اور تعمیرِ کردار کا ذریعہ بن سکے۔
مسابقے سے آگے بھی محنت کا سفر جاری رہے
اس مسابقے میں شریک تمام طلبہ و طالبات کی عمدہ کارکردگی یقیناً امید افزا ہے، تاہم یہ کامیابی ان کے تعلیمی سفر کی آخری منزل نہیں، بلکہ مزید محنت اور ترقی کی ایک خوب صورت ابتدا ہے۔
بچوں کو چاہیے کہ جس ذوق، محنت، پابندی اور لگن کے ساتھ انہوں نے اس مسابقے کی تیاری کی، اسی جذبے کے ساتھ اپنی روزمرہ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھیں۔
علم ایک ایسا بیش قیمت سرمایہ ہے جو مسلسل محنت، وقت کی قدر، اساتذہ کے ادب اور مستقل مزاجی سے حاصل ہوتا ہے۔ جو بچے ابتدا ہی سے ان اوصاف کو اپنا لیتے ہیں، ان کے لیے علمی و عملی ترقی کی راہیں آسان ہو جاتی ہیں۔
یہ بات بھی ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ حقیقی کامیابی دوسروں سے آگے نکلنے کا نام نہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے، اپنے علم میں اضافہ کرنے اور اپنے کردار کو سنوارنے کا نام ہے۔
مسابقے میں اول، دوم یا سوم پوزیشن حاصل کرنا یقیناً خوشی کی بات ہے، لیکن اس سے کہیں زیادہ خوش آئند بات یہ ہے کہ بچے علمِ دین سے محبت کریں، اساتذہ کی رہنمائی میں آگے بڑھیں اور اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق بنانے کی کوشش کریں۔
مدرسہ روضۃ العلوم اسراہی میں منعقد ہونے والا یہ سیرت النبی ﷺ کوئز مسابقہ اپنی نوعیت کی ایک قابلِ قدر علمی و تربیتی کاوش تھی، جس نے بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو نمایاں کرنے، ان کے اندر علمی ذوق پیدا کرنے اور سیرتِ رسول ﷺ سے ان کی وابستگی مضبوط کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا۔
اس مسابقے کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ تمام شرکاء نے اپنی بہترین تیاری سے یہ ثابت کیا کہ اگر بچوں کو مناسب رہنمائی، سازگار تعلیمی ماحول اور حوصلہ افزائی میسر ہو تو وہ اپنی صلاحیتوں کا نہایت عمدہ مظاہرہ کر سکتے ہیں۔
امید ہے کہ مدرسے کے ذمہ داران آئندہ بھی اس نوعیت کے علمی، دینی اور تربیتی پروگراموں کا سلسلہ جاری رکھیں گے، تاکہ نئی نسل کے دلوں میں علم و عمل، محبتِ رسول ﷺ اور دینی شعور کے چراغ روشن ہوتے رہیں۔
اللہ تعالیٰ مدرسہ روضۃ العلوم اسراہی کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، اس کے اساتذہ و منتظمین کی مخلصانہ کاوشوں کو قبول فرمائے، اور یہاں تعلیم حاصل کرنے والے تمام طلبہ و طالبات کو علمِ نافع، عملِ صالح، حسنِ اخلاق اور سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کی سچی پیروی نصیب فرمائے۔
اللہ تعالیٰ ان بچوں کو ان کے والدین کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک، اساتذہ کے لیے صدقۂ جاریہ اور امتِ مسلمہ کے لیے نفع بخش بنائے۔
آمین یا رب العالمین.
