آزادی ہند، شیخ الہندؒ اور تحریکِ ریشمی رومال: تاریخ کا ایک سنہرا باب
ہندوستان کی تاریخِ آزادی کا مطالعہ اگر غیر جانبداری اور باریک بینی سے کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس دھرتی کو فرنگی تسلط سے آزاد کرانے کے لیے جہاں خون کی ندیاں بہائی گئیں، وہیں عزم و ہمت، تدبر اور حکمتِ عملی کے ایسے نادر دستانے بُنے گئے جن کی نظیر دنیا کی حریت پسند تحریکوں میں کم ہی ملتی ہے۔ انہی جلیل القدر مجاہدین میں ایک نمایاں نام حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ (معروف بہ شیخ الہند) کا ہے، جن کی قیادت میں ابھرنے والی "تحریکِ ریشمی رومال" (Silk Letter Movement) آزادیٔ ہند کی جدوجہد میں حکمت اور شجاعت کا ایک منفرد باب ہے۔
![]() |
| آزادی ہند، شیخ الہندؒ اور تحریکِ ریشمی رومال: تاریخ کا ایک سنہرا باب |
شیخ الہند اور فکرِ آزادی
دارالعلوم دیوبند کے پہلے طالب علم اور بعد میں اس کے صدر المدرسین، حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ (1851ء - 1920ء) صرف ایک قال قال الرسول کے مسند نشیں عالم نہیں تھے، بلکہ ان کے سینے میں آزادیِ ہند کی ایک تڑپتی ہوئی روح موجود تھی۔ وہ 1857ء کی جنگِ آزادی کی ناکامی اور اس کے بعد علمائے کرام پر ہونے والے مظالم کے چشم دید گواہ تھے۔ ان کا پختہ نظریہ تھا کہ جب تک انگریز کو اس ملک سے اقتدار سے بے دخل نہیں کیا جاتا، اس وقت تک نہ تو اس ملک کی عوام خوشحال ہو سکتی ہے اور نہ ہی تہذیبی و مذہبی آزادی ممکن ہے۔
تحریکِ ریشمی رومال: پس منظر اور منصوبہ
1914ء میں جب پہلی جنگِ عظیم چھڑی، تو شیخ الہندؒ نے اس موقع کو غنیمت جانا اور برطانیہ کے خلاف ایک بین الاقوامی محاذ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس تحریک کا مقصد ہندوستان کے اندر سے ایک ہمہ گیر بغاوت کی تیاری اور باہر سے مسلم ممالک (خصوصاً سلطنتِ عثمانیہ، افغانستان اور ایران) کی مدد سے انگریزوں پر حملہ آور ہونا تھا۔
اس خفیہ منصوبے کی ترتیب کچھ یوں تھی:
افغانستان کی سرحد پر مرکز: شیخ الہندؒ نے اپنے سب سے اعتماد والے شاگرد مولانا عبید اللہ سندھیؒ کو 1915ء میں کابل روانہ کیا تاکہ وہ وہاں کی حکومت کو انگریزوں کے خلاف تیار کریں اور بین الاقوامی روابط استوار کریں۔
عرب ممالک کا دورہ: شیخ الہندؒ خود 1915ء میں حجاز (سعودی عرب) تشریف لے گئے تاکہ وہاں موجود عثمانی گورنر غالب پاشا سے ملاقات کر کے ان کی حمایت حاصل کریں۔ غالب پاشا نے ان کی درخواست پر ایک تاریخی دستاویز جاری کی جسے "غالب نامہ" کہا جاتا ہے، جس میں انگریزوں کے خلاف جہاد کی حمایت کا اعلان کیا گیا تھا۔
ریشمی خطوط: راز کا افشا
اس تحریک کو "تحریکِ ریشمی رومال" کا نام اس لیے ملا کیونکہ اس کے خفیہ پیغامات اور خطوط پیلے رنگ کے ریشمی کپڑے پر مخصوص علامتوں اور کوڈ ورڈز (Code Words) کے ذریعے لکھے جاتے تھے تاکہ وہ کسی کی نظر میں نہ آئیں اور پانی یا دھول سے خراب نہ ہوں۔
3 جولائی 1916ء کو مولانا عبید اللّٰہ سندھیؒ نے کابل سے شیخ الہندؒ کے نام (جو اس وقت حجاز میں تھے) اور دیگر ساتھیوں کے نام زرد ریشمی کپڑے پر تین اہم خطوط لکھے۔ ان خطوط میں:
تحریک کی پیش رفت اور افغانستان میں ہونے والے معاہدوں کی تفصیلی رپورٹ تھی۔
"الجنود الربانیہ" (خدائی فوج) کے نام سے ایک بین الاقوامی عسکری تنظیم کی تشکیل کا ذکر تھا، جس کا ہیڈکوارٹر مدینہ منورہ اور شاخیں مختلف ممالک میں رکھی جانی تھیں۔
بدقسمتی سے، یہ خطوط پنجاب کے ایک انگریز نواز زمیندار ربنواز کے ہاتھ لگ گئے، جس نے اپنے بیٹے عبدالحق کے ذریعے ان خطوط کو حکومت کے حوالے کر دیا۔ انگریز حکومت نے اگست 1916ء میں اس سازش کا سراغ لگا لیا اور یوں یہ عظیم منصوبہ تاریخ کے اوراق میں افشا ہو گیا۔
مالٹا کی قید اور عظیم قربانی
اس راز کے افشا ہوتے ہی انگریز حکومت نے وسیع پیمانے پر گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا۔ شریفِ مکہ (جس نے عثمانیوں کے خلاف بغاوت کر کے انگریزوں سے ہاتھ ملا لیا تھا) کے ذریعے شیخ الہندؒ اور ان کے وفادار ساتھیوں—مولانا حسین احمد مدنیؒ، مولانا وحید احمد فیض آبادیؒ، مولانا عزیز گلؒ اور حکیم نصرت حسینؒ—کو حجاز میں گرفتار کروا دیا گیا۔
1917ء میں ان جلیل القدر ہستیوں کو بحیرہ روم کے جزیرے **مالٹا** منتقل کر دیا گیا، جہاں انہوں نے تین سال سے زائد کا عرصہ سخت ترین قید و بند کی صعوبتوں میں گزارا۔ شدید سردی، نامساعد حالات اور جسمانی ایذارسانی کے باوجود شیخ الہندؒ کے عزم و استقلال میں ذرہ برابر لغزش نہ آئی۔
واپسی اور جانشینی کا پیغام
جون 1920ء میں قید سے رہائی کے بعد جب شیخ الہندؒ ہندوستان واپس لوٹے، تو ان کا جسم نڈھال ہو چکا تھا لیکن روح اب بھی بیدار تھی۔ گاندھی جی اور دیگر قومی رہنماؤں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ شیخ الہندؒ نے ہندو مسلم اتحاد کی اہمیت پر زور دیا اور عدم تعاون کی تحریک کی مکمل حمایت کی۔ نومبر 1920ء میں ان کا انتقال ہو گیا، لیکن ان کی جلائی ہوئی شمعِ آزادی نے آنے والی نسلوں کو راہ دکھائی۔
حاصلِ کلام
تحریکِ ریشمی رومال محض ایک ناکام خفیہ منصوبہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس حقیقت کا بین ثبوت تھا کہ ہندوستان کے علمائے کرام اور حریت پسند رہنما آزادی کے لیے کس حد تک بصیرت، عالمی سفارت کاری اور اعلیٰ درجے کی منصوبہ بندی کی صلاحیت رکھتے تھے۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی قربانی اور ان کی عسکری و سیاسی بصیرت تاریخِ ہند کا وہ روشن باب ہے جو ہمیشہ آنے والی نسلوں کو وطن سے محبت اور حق کے لیے سرفروشی کا سبق دیتا رہے گا۔
***

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں