Bismillah

ماہِ صیام: تجلیاتِ الٰہی اور تزکیۂ نفس کا موسمِ بہار

 ماہِ صیام: تجلیاتِ الٰہی اور تزکیۂ نفس کا موسمِ بہار

خالقِ کائنات نے انسان کو اپنی تمام مخلوقات میں 'اشرف و اکرم' بنا کر منصبِ خلافت پر فائز کیا۔ انسانی فطرت کے خمیر میں نیکی و بدی، طاعت و سرکشی اور رفعت و پستی کے متضاد عناصر یکجا کر دیے گئے ہیں۔ یہی وہ دو راہا ہے جہاں انسان کے ارادے کا امتحان ہوتا ہے۔ جب کوئی بندہ اپنے نفسِ امّارہ کی سرکشی کو کچل کر، معصیت سے دامن بچاتے ہوئے اپنی حیاتِ مستعار کے لمحات کو حسنات کے نور سے مزین کر لیتا ہے، تو وہ خالق و مخلوق دونوں کی نگاہ میں معتبر ٹھہرتا ہے۔ شریعتِ مطہرہ کی اصطلاح میں اِسی کیفیت کا نام 'تقویٰ' ہے، اور اِسی جوہرِ نایاب کے حصول کا سب سے مؤثر ذریعہ 'روزہ' ہے۔

قرآنِ حکیم نے روزے کی غایت کو ان جامع الفاظ میں بیان فرمایا:

’’یٰأَیُّہَا الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔‘‘ (البقرۃ: ۱۸۳)

(اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا، جیسے تم سے اگلوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔)

ماہِ صیام: تجلیاتِ الٰہی اور تزکیۂ نفس کا موسمِ بہار
 ماہِ صیام: تجلیاتِ الٰہی اور تزکیۂ نفس کا موسمِ بہار

نیکیوں کی فروانی اور رحمتوں کا نزول

جب ماہِ شعبان رخصت ہوتا ہے اور آسمان کے افق پر رمضان کا ہلال نمودار ہوتا ہے، تو کائنات کی فضاؤں میں ایک روحانی انقلاب بپا ہو جاتا ہے۔ یہ مہینہ درحقیقت نیکیوں کا موسمِ بہار ہے۔ نبیِ رحمت ﷺ کا فرمان ہے کہ جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے وا کر دیے جاتے ہیں، دوزخ کے در بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو پابندِ سلاسل کر دیا جاتا ہے۔ یہ اس مبارک ماہ کی جلالت کا اعلان ہے کہ شر کے رستے مسدود کر کے خیر کی راہیں ہموار کر دی جاتی ہیں۔

اس مہینے کی سخاوت کا یہ عالم ہے کہ پروردگار ہر نیک عمل کا اجر کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ نفلی عبادت کا ثواب فرض کے برابر، اور ایک فرض کا اجر ستر فرائض کے مساوی کر دیا جاتا ہے۔ عام دنوں میں نیکی کا اجر دس سے سات سو گنا تک ملتا ہے، مگر روزے کے لیے ربِ ذوالجلال کا خصوصی اعلان ہے: 

’’روزہ صرف میرے لیے ہے اور اس کا اجر میں خود دوں گا۔‘‘

عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ يرويه عن ربكم قال: «لكل عمل كفارة، والصوم لي، وأنا أجزي به، ولخلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك». (صحيح البخاري، رقم: ٧٥٣٨)

قرآن اور رمضان: روح اور جسم کا رشتہ

رمضان اور قرآن کا باہمی ربط جسم اور روح کی مانند ہے۔ اسی ماہ کی ایک پُرنور رات 'شبِ قدر' میں لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر کلامِ الٰہی کا نزول ہوا۔ وہ رات جسے خالق نے ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا۔ جب یہ رات آتی ہے، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام فرشتوں کے جھرمٹ میں زمین پر اُترتے ہیں اور عبادت میں مشغول ہر بندے کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں۔

رمضانِ المبارک صبر، ہمدردی اور غم گساری کا مہینہ ہے۔ اس کا پہلا عشرہ رحمت، درمیانی عشرہ مغفرت اور آخری عشرہ جہنم سے آزادی کا پروانہ ہے۔ جو خوش نصیب اس ماہ میں ایمان اور احتساب کے ساتھ روزے رکھتا ہے اور راتوں کو قیامِ تراویح کرتا ہے، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔

عن أبي هريرة، عن النبيّ ﷺ قال: «من صام رمضان إيمانًا واحتسابًا غُفر له ما تقدّم من ذنبه، ومن قام ليلة القدر إيمانًا واحتسابًا غفر له ما تقدّم من ذنبه». (صحيح البخاري، رقم: ٢٠١٤)

اعتکاف: وصالِ الٰہی کی خلوت گاہ

رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہوتے ہی ایک مومن کے شوقِ عبادت میں ایک نیا تلاطم پیدا ہو جاتا ہے۔ اس عشرے کی سب سے ممتاز خصوصیت 'اعتکاف' ہے، جو درحقیقت دنیا کے ہنگاموں سے کٹ کر اللّٰہ کے گھر کی چوکھٹ پر پڑ جانے کا نام ہے۔

حقیقتِ اعتکاف:

اعتکاف 'خلوت در انجمن' کی وہ کیفیت ہے جہاں انسان تمام مادی سہارے چھوڑ کر صرف خالقِ حقیقی کے سہارے پر جینا سیکھتا ہے۔ معتکف اس فقیر کی مانند ہے جو کسی سخی کے دروازے پر اس عزم کے ساتھ بیٹھ جائے کہ جب تک سوال پورا نہیں ہوگا، یہاں سے ٹلوں گا نہیں۔

فضیلتِ اعتکاف:

حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اللہ کی رضا کی خاطر ایک دن کا بھی اعتکاف کیا، اللّٰہ اس کے اور دوزخ کے درمیان تین ایسی خندقیں حائل فرما دے گا جن کا درمیانی فاصلہ مشرق و مغرب کی مسافت سے بھی زیادہ ہوگا۔

عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من مشى في حاجة أخيه كان خيراً له من اعتكاف عشر سنين، ومن اعتكف يوماً ابتغاء وجه الله جعل الله بينه وبين النار ثلاث خنادق، كل خندق أبعد مما بين الخافقين»". (المعجم الأوسط)

شبِ قدر کی تلاش:

اعتکاف کا ایک بڑا مقصد 'لیلتہ القدر' کو پانا ہے۔ معتکف چونکہ ہمہ وقت مسجد میں ہوتا ہے، اس لیے اس کی نیند بھی عبادت، اس کا خاموش رہنا بھی ذکر اور اس کا ہر سانس تسبیح بن جاتا ہے۔

اسوۂ حسنہ اور روزے کا تقدس

نبی کریم ﷺ رمضان میں جود و سخا کے پیکر بن جاتے تھے۔ آپ ﷺ سحری و افطار کا اہتمام فرماتے، شب بیداری کرتے اور کثرت سے قرآن کی تلاوت فرماتے۔ آپ ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ روزے کا اصل مقصود محض پیاس برداشت کرنا نہیں، بلکہ روح کی تطہیر ہے۔ روزہ دار کے لیے لازم ہے کہ وہ غیبت، بہتان، گالی گلوچ اور ہر قسم کے گناہ سے پرہیز کرے۔ روزہ ایک ڈھال ہے، جب تک اسے جھوٹ اور غیبت سے چاک نہ کر دیا جائے۔

اس ماہِ مبارک کی حرمت کا یہ عالم ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم بھی اس کا احترام کرے تو رب کی رحمت جوش میں آ جاتی ہے۔ ایک روایت کے مطابق، ایک مجوسی (آتش پرست) نے اپنے بیٹے کو رمضان میں سرِعام کھاتے دیکھا تو اسے ٹوکا کہ مسلمانوں کے مہینے کا احترام کرو۔ اس ادب کی برکت سے مرنے سے قبل اسے ایمان کی دولت نصیب ہوئی۔

دعا

یہ مہینہ ہماری ایمانی قوت کو جلا بخشنے کے لیے آتا ہے۔ دعا ہے کہ ربِ ذوالجلال ہمیں رمضان المبارک کی ان بے پایاں برکتوں کو سمیٹنے، اس کی کامل حرمت بجا لانے اور اس کے شب و روز کو طاعات سے منور کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہماری سحر و افطار، رکوع و سجود اور اعتکاف کو شرفِ قبولیت بخشے اور آخرت میں حضور ﷺ کی شفاعت کا وسیلہ بنائے۔ آمین۔

وصلی اللّٰہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہٖ سیدنا محمد وعلیٰ آلہٖ وصحبہٖ أجمعین