2025 کا احتساب اور 2026 کی تعمیر
ایک اسلامی فکری و عملی پیغام
وقت انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ جو وقت گزر جاتا ہے وہ واپس نہیں آتا، مگر وہ اپنے پیچھے ہمارے اعمال، رویے اور اثرات چھوڑ جاتا ہے۔ اسلام ہمیں وقت کے بہاؤ کو نظر انداز کرنے کے بجائے اس کا شعوری محاسبہ اور مثبت استعمال سکھاتا ہے۔
اسی تناظر میں 2025 کا احتساب اور 2026 کی تعمیر محض سالوں کی تبدیلی نہیں بلکہ سوچ، کردار اور سمت کی تبدیلی کی دعوت ہے۔
![]() |
| 2025 کا احتساب اور 2026 کی تعمیر ایک اسلامی فکری و عملی پیغام |
وقت کی قدر: قرآن کی روشنی میں
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں وقت کی قسم کھا کر فرماتا ہے:
"وَالۡعَصۡرِۙ، اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِىۡ خُسۡرٍۙ"
یہ آیت واضح پیغام دیتی ہے کہ اگر انسان وقت کو ایمان، نیک عمل، حق اور صبر کے ساتھ نہ گزارے تو وہ خسارے میں ہے۔ سال کا اختتام ہمیں یہ سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے:
کیا ہم واقعی فائدے میں ہیں یا خسارے میں؟
2025 کا احتساب: خود سے مکالمہ
حضرت عمر فاروقؓ کا قول ہے:
“اپنا محاسبہ خود کر لو، اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے۔”
احتساب کا مطلب صرف غلطیوں کو گننا نہیں بلکہ پوری زندگی پر ایک دیانت دار نظر ڈالنا ہے۔
ہم خود سے کیا سوال کریں؟
کیا ہمارا اللہ سے تعلق مضبوط ہوا یا کمزور؟
کیا ہماری نماز، دعا اور قرآن سے وابستگی بڑھی؟
کیا ہمارے اخلاق بہتر ہوئے یا ہم مزید سخت ہو گئے؟
کیا ہم نے دوسروں کے حقوق کا خیال رکھا؟
کیا ہم نے وقت، زبان اور صلاحیتوں کا درست استعمال کیا؟
یہ سوالات انسان کو جھنجھوڑتے ہیں، مگر یہی جھنجھوڑ اصلاح کا نقطۂ آغاز بنتا ہے۔
توبہ: احتساب کا سب سے حسین تحفہ
اسلام مایوسی کا دین نہیں۔ اگر کوتاہی ہو بھی جائے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو"
سچی توبہ انسان کو ماضی کے بوجھ سے آزاد کر دیتی ہے اور مستقبل کو روشن کر دیتی ہے۔
اگر 2025 کا حاصل سچی توبہ بن جائے تو یہی 2026 کی کامیاب تعمیر کی بنیاد ہے۔
2026 کی تعمیر: اصلاح کے بعد تشکیل
اسلام میں تعمیر صرف عمارتوں کی نہیں بلکہ انسان کی شخصیت، کردار اور فکر کی ہوتی ہے۔
2026 میں ہمیں کیا تعمیر کرنا ہے؟
1. ایمان کی مضبوطی
مضبوط ایمان ہی مضبوط فیصلے اور پاکیزہ کردار پیدا کرتا ہے۔
2. علم اور شعور
دینی علم کے ساتھ دنیاوی علم، دونوں نیتِ خیر کے ساتھ ہوں تو عبادت بن جاتے ہیں۔
3. مستقل نیک اعمال
چھوٹے مگر مستقل اعمال اللہ کو زیادہ پسند ہیں۔
جوش نہیں، استقامت اصل کامیابی ہے۔
4. اخلاقی کردار
سچائی، برداشت، حیا، دیانت اور رحم—یہی وہ خوبیاں ہیں جو فرد اور معاشرے دونوں کو سنوارتے ہیں۔
فرد سے معاشرہ: اجتماعی تعمیر
اسلام فرد کی اصلاح کو معاشرے سے جدا نہیں کرتا۔
بہتر فرد → بہتر خاندان
بہتر خاندان → بہتر معاشرہ
بہتر معاشرہ → مضبوط امت
2026 کی تعمیر کا مطلب ہے:
نفرت کے بجائے خیر خواہی
شکایت کے بجائے خدمت
انتشار کے بجائے اتحاد
دنیا اور آخرت: توازن کا راستہ
اسلام ہمیں دنیا سے فرار نہیں سکھاتا اور نہ ہی آخرت سے غفلت۔ اصل کامیابی توازن میں ہے:
"اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی"
اختتامیہ
2025 کا احتساب ہمیں جھکنا سکھاتا ہے،
2026 کی تعمیر ہمیں سنبھل کر آگے بڑھنا سکھاتی ہے۔
اگر ہم:
احتساب کو سچا بنا لیں
توبہ کو نصیب بنا لیں
تعمیر کو مقصد بنا لیں
تو ان شاء اللہ ہم آنے والا سال صرف نیا نہیں بلکہ بہتر بنا سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے وقت کا درست محاسبہ کرنے اور آنے والے سال کو ایمان، عمل اور خیر کے ساتھ تعمیر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
