بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
مقالات ومضامین مفتی محمد خالد سیف اللّٰہ قاسمی

تازہ مضامین

عید الفطر: ایک علمی و تحقیقی مطالعہ
(روحانیت، تاریخ اور سماجیات کے تناظر میں)

تہواروں کا عالمگیر تصور اور اسلامی انفرادیت

انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ "تہوار" کسی بھی معاشرے کی تہذیبی روح کا عکاس ہوتا ہے۔ اگر ہم عید الفطر کا موازنہ دنیا کے دیگر مذہبی اور قومی تہواروں سے کریں، تو پہلا بڑا فرق "محرک" (Motive) کا نظر آتا ہے۔ عام طور پر دنیا کے بیشتر تہوار کسی تاریخی واقعہ، موسمی تبدیلی یا کسی خاص شخصیت کی یاد پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، عید الفطر کا محرک نہ تو کوئی تاریخی یادگار ہے اور نہ ہی کوئی مادی خوشی، بلکہ یہ ایک کٹھن روحانی عبادت (روزہ) کی تکمیل کا ربانی تحفہ اور جشنِ تشکر ہے۔

جہاں دیگر تہواروں میں جشن کا آغاز مادی لذتوں اور رقص و سرور سے ہوتا ہے، وہاں اسلامی عید کا آغاز 'اللّٰہ اکبر' کی صداؤں اور سجدہ ریزی سے ہوتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اسلام خوشی کے لمحات میں بھی انسان کو اپنے خالق سے دور نہیں ہونے دیتا۔ لغوی اعتبار سے "عید" کا مادہ "ع و د" ہے، جس کا مطلب ہے "لوٹ کر آنا"۔ چونکہ یہ مبارک دن ہر سال ایک خاص وقفے کے بعد دوبارہ آتا ہے، اس لیے اسے عید کہا جاتا ہے۔ "فطر" کے معنی روزہ کھولنے کے ہیں۔ گویا یہ مادی وجود پر روحانی وجود کی فتح کا اعلان ہے۔


عید الفطر: ایک علمی و تحقیقی مطالعہ
(روحانیت، تاریخ اور سماجیات کے تناظر میں)

قرآنی و نبوی اساس (شرعی حیثیت)

عید الفطر کا تصور بنیادی طور پر ہدایت کی تکمیل اور شکر گزاری سے جڑا ہے۔ قرآن مجید میں اللّٰہ تعالیٰ نے رمضان کے احکامات کے اختتام پر اس دن کی حکمت بیان فرمائی ہے:

وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (سورہ البقرہ: ۱۸۵)

"اور تاکہ تم (روزوں کی) گنتی پوری کر لو اور اللّٰہ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائی بیان کرو اور تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ۔"

تاریخی اعتبار سے، ہجرتِ مدینہ کے بعد جب نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ جاہلیت کے رواج کے مطابق دو دن تہوار منایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے اس کی اصلاح فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

"إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا: يَوْمَ الْأَضْحَى وَيَوْمَ الْفِطْرِ" (سنن ابی داؤد: ۱۱۳۴)

"اللہ تعالیٰ نے تمہارے ان دونوں تہواروں کے بدلے میں تمہیں ان سے بہتر دو دن عطا کیے ہیں: یومِ عید الاضحیٰ اور یومِ عید الفطر۔"

عید کی فضیلت: "یوم الجائزہ" (انعام کا دن)

عید الفطر کو روحانیت کی زبان میں "یوم الجائزہ" یعنی انعامات کا دن کہا جاتا ہے۔ حدیثِ نبوی ﷺ کے مطابق، جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللّٰہ تعالیٰ فرشتوں سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ اس مزدور کی کیا جزا ہے جس نے اپنا کام مکمل کر لیا؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اسے پوری اجرت دی جائے۔ تب اللّٰہ تعالیٰ اعلان فرماتا ہے کہ میں نے اپنے ان بندوں کو بخش دیا۔

ایک اور روایت کے مطابق: "جو شخص عیدین کی راتوں میں عبادت کی نیت سے قیام کرتا ہے، اس کا دل اس دن بھی زندہ رہے گا جس دن تمام دل فوت ہو جائیں گے (یعنی قیامت کے دن)۔" (ابن ماجہ)

عید الفطر کا معاشی و اخلاقی پہلو: صدقہ فطر

عید الفطر کی ایک امتیازی خصوصیت "صدقہ فطر" کی ادائیگی ہے، جو اس جشن کو ایک سماجی فریضہ بنا دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو خوشی منانے سے پہلے یہ اطمینان کر لینے کا حکم دیتا ہے کہ معاشرے کا پس ماندہ طبقہ بھی اس میں شریک ہے۔ رسول اللّٰہ ﷺ نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

"فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَةً لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ" (سنن ابی داؤد: ۱۶۰۹)

"رسول اللّٰہ ﷺ نے صدقہ فطر کو روزے دار کے لیے لغویات و بیہودہ باتوں سے پاکی کا ذریعہ اور مسکینوں کے کھانے (کا انتظام کرنے) کے لیے فرض قرار دیا۔"

مسنون اعمال اور آدابِ عید

عید کا دن محض ایک روایتی میلہ نہیں بلکہ عبادت ہے، جس کے چند آداب درج ذیل ہیں:

تیاری: غسل کرنا، مسواک کرنا اور عمدہ لباس پہننا سنت ہے۔

کھانا: عیدگاہ جانے سے قبل طاق عدد (۱، ۳ یا ۵) میں کھجوریں کھانا سنتِ رسول ﷺ ہے۔

نمازِ عید: دو رکعت واجب نماز چھ زائد تکبیرات کے ساتھ ادا کرنا اور اس کے بعد خطبہ سننا۔

راستہ بدلنا: آپ ﷺ عیدگاہ جانے اور واپسی کے لیے مختلف راستے اختیار فرماتے تھے تاکہ شعائرِ اسلام کا اظہار ہو اور زیادہ سے زیادہ لوگوں سے ملاقات ہو۔

مبارکباد: صحابہ کرامؓ ایک دوسرے کو ان الفاظ میں ہدیہ تہنیت پیش کرتے تھے:

’’تَقَبَّلَ اللہُ مِنَّا وَمِنْکُمْ‘‘

’’اللّٰہ تعالیٰ ہماری اور آپ کی عبادات کو قبول فرمائے‘‘۔

عید کا تاریخی و علمی ارتقاء

عید الفطر کی تاریخ چودہ سو سالہ ارتقائی سفر کی عکاس ہے:

عہدِ رسالت و خلافت: یہ دور سادگی اور بندگی کا تھا جہاں عید کا مرکز 'مصلّٰی' (عیدگاہ) تھا۔

اموی و عباسی عہد: سلطنت کی توسیع کے ساتھ اس میں شاہی جاہ و جلال، "عیدیہ" کی تقسیم اور شاہی دسترخوانوں کا رواج پڑا۔

علاقائی رنگ: فاطمیوں کے دور میں مٹھائیوں کی تقسیم سے اسے "عیدِ حلویات" کہا گیا، جبکہ برصغیر میں مغلوں کے دور میں یہ ایک عظیم الشان مشترکہ تہذیبی میلے کی شکل اختیار کر گیا۔

جدید علمی تناظر میں، جہاں مغربی محققین (جیسے میشل فوکو یا لیلیٰ نبہان) عید کو محض ایک سماجی ڈھانچے یا "صارفانہ کلچر" کے طور پر دیکھتے ہیں، وہاں اس کی اصل حقیقت "خدائی مرکز" (God-centric) خوشی ہے، جو مادی لذتوں کے بجائے بندگیِ رب کے شکریے پر استوار ہے۔

حاصلِ بحث (نتیجہ)

تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عید الفطر محض ایک روایتی میلہ نہیں، بلکہ یہ عبادت کی تکمیل، سماجی ہم آہنگی اور تہذیبی تشخص کا ایک مربوط نظام ہے۔ یہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ حقیقی خوشی وہی ہے جس میں نظم و ضبط، مساوات اور یادِ الٰہی شامل ہو۔ ہمیں چاہیے کہ اس دن کو اسراف اور غیر شرعی خرافات سے پاک رکھ کر حقیقی اسلامی روح کے مطابق گزاریں، تاکہ ہم ان انعامات کے حقدار بن سکیں جن کا وعدہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے وفادار بندوں سے کیا ہے۔

مآخذ و مراجع:

  1. القرآن الکریم (سورہ البقرہ، آیت ۱۸۵)۔
  2. صحیح بخاری، کتاب العیدین (حدیث ۹۵۲)۔
  3. سنن ابی داؤد، کتاب الزکوٰۃ (حدیث ۱۶۰۹)۔
  4. ابن بطوطہ، "رحلہ ابن بطوطہ" (تاریخی مشاہدات)۔
  5. نبہان، لیلیٰ (1993)، "عید الفطر فی مصر: دراسة حول الأسس الدینیة"۔

شبِ قدر: فضیلت، اہمیت اور پیغامِ سعادت

"شبِ قدر" کائنات کی تمام راتوں میں سب سے بہترین اور عظیم الشان رات ہے۔ اللّٰہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے اسی مبارک شب میں قرآنِ مجید نازل فرمایا۔ ربِ ذوالجلال نے خود ہمیں اس کی عظمت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک رات "ہزار مہینوں" سے بہتر ہے، یہ سراپا برکت ہے اور اسی میں تمام حکمت والے معاملات کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ جیسا کہ سورۃ الدخان کے آغاز میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

حم ۝ وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ ۝ إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ ۝ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ ۝ أَمْرًا مِّنْ عِندِنَا إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ ۝ رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ۝ [الدخان:1-6]

ترجمہ: حٰمٓ! اس واضح کتاب کی قسم کہ ہم نے اس کو ایک برکت والی رات میں اُتارا ہے؛ (کیوں کہ) ہم خبر دار کرنے والے ہیں، اس رات میں ہمارے ہی حکم سے ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ کیا جاتا ہے، یقینًا ہم ہی (آپ کو) پیغمبر بنانے والے ہیں، جو آپ کے پروردگار کی رحمت ہے، یقیناً اللّٰہ بہت سننے والے اور جاننے والے ہیں۔

اسی طرح سورۃ القدر میں اس رات کی منزلت بیان کرتے ہوئے اللّٰہ عزوجل نے فرمایا:

إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ۝ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ۝ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ ۝ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ ۝ سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ ۝ [القدر:1-5]

ترجمہ: ہم نے قرآن کو شبِ قدر میں اُتارا ہے، اور آپ کو معلوم ہے کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جس میں فرشتے اور روح القدس (جبرئیلؑ) اپنے رب کی اجازت سے ہر حکم کو لے کر اُترتے ہیں، یہ رات سراپا سلامتی ہے، جو صبح ہونے تک رہتی ہے۔

یہ پوری سورت اس حقیقت کی شاہد ہے کہ اس ایک رات کی جانے والی عبادت، ہزار مہینوں کی راتوں کی عبادت سے افضل و برتر ہے۔ یہ اللّٰہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر خاص رحمت اور ایک ایسا عظیم احسان ہے جس کا شکر ادا کرنا انسانی بس سے باہر ہے۔ اس لیے مسلمانوں کے لیے یہ نہایت موزوں ہے کہ وہ اس رات کی قدر کریں اور خود کو مکمل طور پر عبادت کے لیے وقف کر دیں۔


شبِ قدر: فضیلت، اہمیت اور پیغامِ سعادت

حصولِ مغفرت اور فضیلتِ قیام

رسول اللّٰہ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے اس رات کے اجر کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا:

«مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» [البخاري: 7060]

ترجمہ: جس نے ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے (خلوصِ دل کے ساتھ) شبِ قدر میں قیام کیا (عبادت کی)، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے گئے۔

واضح رہے کہ اس رات کے قیام اور عبادت میں نماز، ذکرِ الٰہی، دعا، تلاوتِ قرآن اور دیگر تمام نیک اعمال شامل ہیں۔

تلاشِ شبِ قدر اور معمولِ نبوی ﷺ

رسول اللّٰہ ﷺ نے ہمیں ہدایت فرمائی کہ یہ مبارک رات رمضان کے آخری عشرے میں آتی ہے اور اس کے پچھلے پہر یا طاق راتوں میں اس کا امکان دیگر راتوں سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ آپ ﷺ کا فرمانِ مبارک ہے:

«الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، الْتَمِسُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ» [صحيح البخاري]

ترجمہ: اسے رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو اور ہر طاق رات میں تلاش کرو۔

احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ رات عشرہِ اخیرہ کی راتوں میں گردش کرتی رہتی ہے اور ہمیشہ کسی ایک مخصوص رات (جیسے صرف 27 ویں) میں مقید نہیں ہوتی۔ یہ 21 ویں، 23 ویں، 25 ویں، 27 ویں (جس کا امکان زیادہ ہے)، 29 ویں یا کبھی جفت (جوڑے عدد) والی راتوں میں بھی ہو سکتی ہے۔ لہٰذا جو شخص پورے آخری عشرے کی تمام دس راتیں ایمان اور احتساب کے ساتھ عبادت میں گزارے گا، وہ یقیناً اس خیرِ کثیر کو پا لے گا اور اس انعام کا مستحق ٹھہرے گا جس کا اللّٰہ نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللّٰہ ﷺ ان آخری دس راتوں میں عبادت کا وہ خاص اہتمام فرماتے تھے جو عام دنوں میں نہیں ہوتا تھا:

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ»

ترجمہ: رسول اللّٰہ ﷺ آخری عشرے میں جتنی محنت کرتے تھے اور دنوں میں اتنی محنت نہیں کرتے تھے۔

نیز آپؓ فرماتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا، تو آپ ﷺ رات بھر بیدار رہتے، گھر والوں کو جگاتے اور پوری تندہی سے عبادت میں جٹ جاتے۔

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَحْيَا اللَّيْلَ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ وَجَدَّ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ» [صحيح مسلم]

ترجمہ: جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی اکرم ﷺ رات کو جاگتے، اپنے گھر والوں کو جگاتے اور کمر کس لیتے۔ (کمر کس لینے سے مراد یا تو عبادت کے لیے انتہائی محنت کرنا ہے یا ازواجِ مطہرات سے علیحدگی اختیار کر کے تنہائی میں رب سے لو لگانا ہے)۔

اسی عشرے میں آپ ﷺ اکثر اعتکاف بھی فرمایا کرتے تھے۔ قرآن کہتا ہے: «لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» (ترجمہ: یقیناً تمہارے لیے رسول اللّٰہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے)۔

مسنون دعا

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللّٰہ کے رسول ﷺ! اگر مجھے شبِ قدر کا علم ہو جائے تو میں کیا دعا مانگوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کہو:

«اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي» [سنن الترمذي]

ترجمہ: اے اللّٰہ! تو معاف کرنے والا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے، لہٰذا مجھے معاف فرما دے۔

صحابہ کرامؓ اور صالحینِ امت ہمیشہ ان دس راتوں کی بے حد تعظیم کرتے اور ان میں خیر کے کاموں میں سبقت لے جاتے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے نبی ﷺ، صحابہؓ اور اسلاف کی پیروی کرتے ہوئے ان راتوں کو غفلت میں نہ گزاریں، بلکہ تلاوت، ذکر، استغفار اور توبہ میں مشغول رہیں تاکہ اللہ کے اجر کے مستحق بنیں۔

کبیرہ گناہوں سے بچنے کی شرط

یاد رہے کہ مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ ان لوگوں کے لیے ہے جو کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتے ہیں، جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

إِن تَجْتَنِبُواْ كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا [النساء:31]

ترجمہ: اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچو گے جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے، تو ہم تم سے تمہارے چھوٹے گناہ مٹا دیں گے اور تمہیں (عزت کے مقام) جنت میں داخل کریں گے۔

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ، مُكَفِّرَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِرُ» [صحيح مسلم]

ترجمہ: پانچوں وقت کی نمازیں، ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک ان دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے۔

توبہ میں استقامت اور ایک اہم تنبیہ

ایک اہم بات جس سے باخبر رہنا ضروری ہے وہ یہ کہ بعض لوگ صرف رمضان میں نیک بنتے ہیں اور پچھلے گناہوں پر توبہ کرتے ہیں، لیکن جوں ہی رمضان گزرتا ہے، وہ پھر سے انہی برے اعمال کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔ یہ ایک سنگین صورتحال اور بڑا خطرہ ہے۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت پر قائم رہے اور گناہوں کو مستقل چھوڑنے کا عزم کرے، کیونکہ اللہ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا:

وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ [الحجر:99]

ترجمہ: اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہیں موت (کا یقین) آ جائے۔

اور مزید ارشاد فرمایا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ [آل عمران:102]

ترجمہ: اے ایمان والو! اللّٰہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔

استقامت اختیار کرنے والوں کے لیے ربِ کریم کا انعام بہت بڑا ہے:

إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ استَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ ۝ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ ۝ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ ۝ [فصلت:30-32]

ترجمہ: بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللّٰہ ہے، پھر وہ ثابت قدم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوں گے اور کہیں گے کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو، بلکہ خوشخبری سنو اس جنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ دنیا اور آخرت میں ہم تمہارے ساتھی ہیں۔ اس میں تمہارے لیے وہ سب کچھ ہوگا جو تمہارا جی چاہے گا اور جو تم طلب کرو گے۔ یہ بخشنے والے مہربان (خدا) کی طرف سے مہمانی کے طور پر ہو گا۔

ان آیات کا مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ اللّٰہ پر ایمان لانے اور خلوصِ دل سے اس کی عبادت کرنے کے بعد اس پر ڈٹ جاتے ہیں، انہیں موت کے وقت فرشتے خوف اور غم سے نجات کی نوید دیتے ہیں۔ انہیں جنت کی خوشخبری سنائی جاتی ہے کیونکہ انہوں نے اللّٰہ کی اطاعت میں ثابت قدمی دکھائی، نافرمانیوں کو ترک کیا اور مخلصانہ زندگی گزاری۔

قرآنِ پاک کی بہت سی آیات اسی بات پر زور دیتی ہیں کہ حق پر جمے رہنا ضروری ہے اور نافرمانی پر اصرار کرنا ہلاکت کا باعث ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَسَارِعُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ ۝ الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاء وَالضَّرَّاء وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ۝ وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُواْ فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُواْ أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُواْ اللّهَ فَاسْتَغْفَرُواْ لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ اللّهُ وَلَمْ يُصِرُّواْ عَلَى مَا فَعَلُواْ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ۝ أُوْلَئِكَ جَزَآؤُهُم مَّغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَجَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ ۝ [آل عمران: 133-136]

ترجمہ: اور دوڑو (مسابقت کرو) اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین (کے پھیلاؤ) جتنی ہے، جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ (133) (یہ وہ لوگ ہیں) جو خوشحالی اور تنگدستی (ہر حال) میں خرچ کرتے ہیں، غصے کو پی جانے والے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دینے والے ہیں، اور اللّٰہ نیکی کرنے والوں (محسنین) سے محبت فرماتا ہے۔ (134) اور وہ لوگ کہ جب کوئی فحش کام کر بیٹھیں یا اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں — اور اللّٰہ کے سوا گناہوں کو کون بخش سکتا ہے؟ — اور وہ اپنے کیے پر جان بوجھ کر اصرار نہیں کرتے (یعنی ضد نہیں کرتے)۔ (135) یہی وہ لوگ ہیں جن کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور (نیک) عمل کرنے والوں کا کیا ہی اچھا اجر ہے! (136)

ان آیات کے اہم نکات

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے "متقین" (پرہیزگاروں) کی چند نہایت خوبصورت صفات بیان فرمائی ہیں:

سخاوت: صرف مالداری میں نہیں بلکہ مشکل وقت میں بھی اللّٰہ کی راہ میں دینا۔

ضبطِ نفس: غصے پر قابو پانا اور انتقام کی طاقت رکھنے کے باوجود معاف کر دینا۔

رجوع الی اللّٰہ: گناہ ہو جانے کی صورت میں فوراً توبہ کرنا اور اس پر قائم نہ رہنا۔

آخر میں ہم اللّٰہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو ان مبارک راتوں میں ان اعمال کی توفیق عطا فرمائے جن سے وہ راضی ہوتا ہے اور ہمیں نفس کے شر اور اعمال کی برائیوں سے محفوظ رکھے۔ بے شک وہ نہایت فیاض، کریم اور مہربان ہے۔

---

صدقہ: حقیقت، احکام اور ثمرات (ایک جامع علمی مطالعہ)

صدقہ کا مفہوم اور ایمانی بنیاد

صدقہ کا لغوی مادہ ’’صدق‘‘ ہے، جس کے معنی سچائی کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں اللّٰہ کی رضا کے لیے اپنا مال یا نفع بخش عمل دوسروں کے لیے وقف کرنا صدقہ کہلاتا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بندہ اپنے دعویٰ ایمان میں سچا ہے؛ کیوں کہ انسان کو اپنا مال جان سے عزیز ہوتا ہے اور عزیز چیز کو اللّٰہ کے لیے قربان کرنا ہی سچائی ہے۔

صدقہ: حقیقت، احکام اور ثمرات (ایک جامع علمی مطالعہ)
صدقہ: حقیقت، احکام اور ثمرات (ایک جامع علمی مطالعہ)

اللّٰہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

﴿لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ (آل عمران: 92)

ترجمہ: تم ہرگز نیکی (کے اعلیٰ درجے) کو نہیں پا سکتے جب تک کہ تم اپنی پسندیدہ چیزوں میں سے (اللّٰہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو، اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو اللّٰہ اُسے خوب جاننے والا ہے۔

اس میں اللّٰہ کی طرف سے بندوں کو ترغیب ہے کہ وہ نیکی کے کاموں میں خرچ کریں، چنانچہ فرمایا : ﴿لَن تَنَالُوا الْبِرَّ ﴾ ”تم ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے“ یعنی تم کبھی ’’بر“ حاصل نہیں کرسکو گے۔” بر“ میں ہر قسم کے نیکی اور ثواب کے کام شامل ہیں جو کرنے والے کو جنت میں پہنچاتے ہیں۔ ﴿حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ ”جب تک تم ان چیزوں میں سے جو تمہیں عزیز ہیں (اللّٰہ کی راہ میں) صرف نہ کرو گے۔“ یعنی جب تم مال کی محبت پر اللّٰہ کی محبت کو ترجیح دیتے ہوئے اللّٰہ کی رضامندی کے کاموں میں مال خرچ کرو گے تو اس سے ثابت ہوگا کہ تمہارا ایمان سچا ہے اور تمہارے دلوں میں نیکی اور تقویٰ موجود ہے۔ اس میں عمدہ اشیاء خرچ کرنا بھی شامل ہے اور خود ضرورت مند ہوتے ہوئے ضرورت کی چیز اللّٰہ کی راہ میں دے دینا بھی اور صحت کی حالت میں خرچ کرنا بھی۔

سیدنا انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ  تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللّٰہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے، اُنہوں نے عرض کیا کہ اے اللّٰہ کے رسول ﷺ! مجھے اپنے تمام باغات میں سے بئرحاء کا باغ سب سے زیادہ محبوب ہے۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بئرحاء تو فنا ہونے والا مال ہے (جبکہ اس کا اجر باقی رہیگا) یا فرمایا کہ بئر حاء بڑا نفع بخش باغ ہے۔“ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں اس باغ کے ذریعے سے اللّٰہ تعالیٰ کا قرب چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اپنے قرابت داروں میں تقسیم کردو۔“ چنانچہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللّٰہ عنہ نے اپنے قرابت داروں کو اس باغ کے باغیچے تقسیم کر دیئے۔ (صحيح ابن خزيمہ)

رسول اللّٰہ ﷺ نے اس کی اہمیت واضح کرتے ہوئے فرمایا:

«وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ» (صحیح مسلم)

ترجمہ: اور صدقہ (ایمان کی) دلیل ہے۔

صدقہ انسان کی سچائی، ایمان، اخلاص اور اللّٰہ پر بھروسے کی دلیل ہوتا ہے، جو اللّٰہ کے لیے دیتا ہے وہ اپنی محبتِ الٰہی کو ثابت کرتا ہے۔ صدقہ بندے کے ایمان اور اس کی خیر خواہی کی عملی شہادت ہے۔

صدقہ کی اقسام اور درجہ بندی

اسلام نے صدقہ کے دائرہ کار کو اس قدر وسیع رکھا ہے کہ ایک غریب انسان بھی اس کی فضیلت سے محروم نہیں رہتا، چنانچہ اسلامی شریعت میں صدقہ کی تقسیم ضرورت اور اہمیت کے لحاظ سے مختلف درجات میں کی گئی ہے:

صدقۂ واجبہ (فرض صدقات)

یہ وہ صدقات ہیں جو فرض یا واجب ہیں، جن کا ادا کرنا شرعاً لازم ہے، ان کا منکر کافر اور تارک گناہگار ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک زکوٰۃ ہے، اللّٰہ نے اسے نماز کے ساتھ جوڑ کر بیان فرمایا ہے:

﴿وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ

ترجمہ: اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔

زکوٰۃ اسلام کا تیسرا اہم رکن ہے اور صاحبِ نصاب مسلمان (عاقل و بالغ) پر فرض عین ہے، یہ سال میں ایک بار مالِ تجارت، سونا، چاندی یا نقدی پر واجب ہوتی ہے، یعنی جس کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا ان کی مالیت کے برابر نقدی یا تجارت کا سامان موجود ہو اور اس پر ایک سال گزر جائے تو ڈھائی فیصد (2.5%) کی شرح سے اس کی زکوٰۃ ادا کرنا اس پر واجب ہے، اور اِس کا مقصد معاشرتی فلاح اور غرباء و مستحقین کی مدد ہے۔

دوسرا صدقۂ فطر ہے، رسول اللہ ﷺ نے اسے روزوں کی پاکیزگی کے لیے مقرر فرمایا ہے:

«فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَةً لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ» (سنن ابی داؤد)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے زکوٰۃ الفطر (صدقۂ فطر) کو روزے دار کے لیے لغویات اور بے ہودہ باتوں سے پاکی اور مسکینوں کے کھانے کا انتظام کرنے کے لیے فرض قرار دیا۔

جو مسلمان اتنا مال دار ہے کہ اس پر زکاۃ واجب ہے یا اس پر زکاۃ واجب نہیں، لیکن قرض اور ضروری اسباب سے زائد اتنی قیمت کا مال یا اسباب اس کی ملکیت میں موجود ہے جس کی مالیت ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو اس پر عیدالفطر کے دن صدقہ دینا واجب ہے، چاہے وہ تجارت کا مال ہو یا تجارت کا مال نہ ہو، چاہے اس پر سال گزر چکا ہو یا نہ گزرا ہو۔ اس صدقہ کو صدقۂ فطر کہتے ہیں۔

جس طرح مال دار ہونے کی صورت میں مردوں پر صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے اسی طرح اگر عورت مال دار صاحب نصاب ہے یا اس کی ملکیت میں قرضہ اور ضروری اسباب سے زائد اتنی قیمت کا مال وغیرہ ہے جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے، مثلاً اس کے پاس زیور ہے جو والدین کی طرف سے ملا ہے یا شوہر نے نصاب کے برابر زیور عورت کو بطور ملکیت دیا ہے، یا مہر میں اتنا زیور ملا جو نصاب کے برابر ہے تو عورت کو بھی اپنی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے، ہاں اگرشوہر اس کی طرف سے اسے بتاکر ادا کردے تو ادا ہوجائے گا۔

مال دار عورت پر اپنا صدقۂ فطر ادا کرنا تو واجب ہے، لیکن اس پر کسی اور کی طرف سے ادا کرنا واجب نہیں، نہ بچوں کی طرف سے نہ ماں باپ کی طرف سے، نہ شوہر کی طرف سے۔

البتہ مال دار آدمی کے لیے صدقۂ فطر اپنی طرف سے بھی ادا کرنا واجب ہے، اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے بھی، نابالغ اولاد اگر مال دار ہو تو ان کے مال سے ادا کرے اور اگر مال دار نہیں ہے تو اپنے مال سے ادا کرے۔ بالغ اولاد اگر مال دار ہے تو ان کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا باپ پر واجب نہیں، ہاں اگر باپ ازخود ادا کردے گا تو صدقۂ فطر ادا ہوجائے گا۔

صدقۂ جاریہ (پائیدار صدقہ)

ایسی نیکی جس کا فائدہ طویل عرصے تک رہے اور مرنے کے بعد بھی ثواب ملتا رہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ» (صحیح مسلم)

ترجمہ: جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، یا ایسا علم جس سے نفع اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔

یہ حدیثِ نبوی ﷺ انسان کے لیے موت کے بعد بھی اعمالِ صالحہ کا ثواب جاری رکھنے کا عظیم نسخہ ہے۔ انسان کی موت کے بعد اعمال ختم ہو جاتے ہیں، لیکن یہ تین چیزیں اس کے لیے نیکیوں کا سلسلہ جاری رکھتی ہیں۔

صدقہ جاریہ (Ongoing Charity) ایسی نیکی ہے جس کا فائدہ طویل عرصے تک رہے، جیسے مساجد، ہسپتال، کنویں بنوانا، یا درخت لگانا، اس کا ثواب مسلسل ملتا رہتا ہے۔ یہ اعمال انسان کی قبر کی زندگی کو روشن اور آسان بنا دیتے ہیں۔

خلاصہ یہ کہ یہ حدیث مسلمانوں کو ترغیب دیتی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ایسے مستقل اعمال چھوڑ کر جائیں جن کا فائدہ ان کے بعد بھی دنیا کو پہنچتا رہے اور ان کا ’’نامۂ اعمال‘‘ قیامت تک کھلا رہے۔

صدقہ کے آداب اور شرائط

صدقہ کی قبولیت کے لیے چند اہم شرائط ہیں، جن کے بغیر وہ محض ایک دنیاوی خیرات بن کر رہ جاتا ہے:

اخلاص اور دکھاوے سے پرہیز

اخلاص کا مطلب ہر نیک عمل کو صرف اللہ کی رضا کے لیے خالص کرنا ہے، جبکہ دکھاوا (ریا کاری) عبادت کو برباد اور شرکِ اصغر کا باعث بنتا ہے۔ دکھاوے سے بچنے کے لیے نیت کی اصلاح، چھپ کر عبادت کرنے اور شہرت کی خواہش کو چھوڑنے کی ضرورت ہے، تاکہ اعمال مقبول ہوں۔

ارشاد باری تعالی ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ (البقرة: 264)

ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور تکلیف دے کر ضائع نہ کرو۔

اعمال میں خلوت (تنہائی) کو اختیار کرنا، اپنی نیتوں کا محاسبہ کرنا اور شہرت و نمائش سے دوری اختیار کرنا ریا کاری سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے۔

دکھاوے سے بچنے کا واحد حل یہ ہے کہ انسان اپنے ہر عمل میں صرف اللہ کی خوشنودی تلاش کرے، نہ کہ لوگوں کی تعریف۔

حلال کمائی کا ہونا

اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ چیز قبول فرماتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا» (صحیح مسلم)

ترجمہ: بیشک اللہ پاک ہے اور وہ صرف پاکیزہ (حلال) چیز ہی قبول فرماتا ہے۔

اس حدیثِ نبوی ﷺ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور افعال ہر قسم کے عیب اور ناپاکی سے پاک ہیں۔ اس لیے، اللہ تعالیٰ صرف حلال، جائز اور پاکیزہ کمائی، نیک اعمال اور سچے عقائد کو قبول فرماتا ہے۔ حرام کمائی، جیسے رشوت، سود، چوری یا ظلم سے حاصل کردہ مال سے کیا گیا صدقہ یا نیکی اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوتی۔ حرام کھانے والے کی دعا بھی قبول نہیں ہوتی۔ مختصراً، یہ حدیث اس بات پر زور دیتی ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں مقبولیت کے لیے مال، عمل اور نیت کا پاکیزہ ہونا ضروری ہے۔

پوشیدگی کا اہتمام

اگرچہ علانیہ دینا جائز ہے، مگر چھپا کر دینا اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ ۖ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ (البقرة: 271)

ترجمہ: اگر تم صدقات کو ظاہر کر کے دو تو یہ بھی اچھا ہے، اور اگر تم انہیں چھپاؤ اور فقیروں کو دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔

آیت کا مفہوم یہ ہے کہ”اگر تم صدقے خیرات کو ظاہر کرو۔“ یعنی علانیہ خیرات کرو، جبکہ اس کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہو” تو وہ بھی اچھا ہے۔“؛ کیونکہ اس سے مقصود حاصل ہوجاتا ہے۔” اور اگر تم اسے پوشیدہ مسکینوں کو دے دو، تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔“ اس میں یہ نکتہ ہے کہ غریب آدمی کو پوشیدہ طور پر صدقہ دینا، ظاہر کر کے دینے سے افضل ہے؛ لیکن جب غریبوں کو صدقات نہ دیے جا رہے ہوں تو اس آیت میں اشارہ ہے کہ اس صورت میں پوشیدہ طور پر صدقہ کرنا ظاہر کرنے سے افضل نہیں۔ یعنی اس کا دار و مدار مصلحت اور فائدے پر ہے۔ اگر اس کے ظاہر کرنے سے ایک دینی حکم کی اشاعت ہوتی ہو اور امید ہو کہ دوسرے لوگ بھی یہ نیک کام کرنے لگیں گے، تو چھپانے کی نسبت ظاہر کر کے دینا افضل ہوگا۔

مستحقینِ صدقہ (کس کا حق زیادہ ہے؟)

مستحقینِ صدقہ (واجبہ و فطرہ) وہ غریب، محتاج اور ضرورت مند افراد ہیں جو صاحبِ نصاب نہ ہوں، یعنی ان کے پاس ضروریاتِ اصلیہ کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کا سونا/چاندی یا نقدی نہ ہو۔

مستحقینِ صدقہ کے سلسلے میں قرآن و حدیث نے ترجیحات طے کی ہیں؛ تاکہ معاشرے کا نظام مربوط رہے۔

رشتہ دار: اس کو دینے میں دو گنا اجرو ثواب ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ: صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ» (جامع ترمذی)

ترجمہ: مسکین کو صدقہ دینا ایک صدقہ ہے، اور رشتہ دار کو دینا دو (نیکیاں) ہیں: ایک صدقہ اور دوسرا صلہ رحمی۔

مفلس ومحتاج قرابت دار اپنے قرب کی وجہ سے زیادہ مستحق ہے، لہٰذا اسے دینے میں دگنا ثواب ہے۔ صدقے کا بھی اور صلہ رحمی کا بھی، مگر جس قرابت دار کے اخراجات کی ذمہ داری زکاۃ دینے والے پر ہے، اسے وہ زکاۃ نہیں دے سکتا، مثلاً: بیوی، بچے، ماں، باپ۔ البتہ بہن بھائیوں کو، جو الگ رہتے ہوں، زکاۃ دے سکتا ہے۔

یتامیٰ اور بیوائیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا» (صحیح البخاری)

ترجمہ: میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے (اور آپ ﷺ نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی سے اشارہ فرمایا)۔

الغرض رشتہ داروں، علمائے کرام، طلبہٴ عظام مقروض اور سخت ضرورت مند لوگوں کو دیگر مستحقین زکاة پر مقدم رکھنا افضل وبہتر ہے۔

صدقہ کے فوائد اور ثمرات

صدقہ کے روحانی، مادی اور اخروی فوائد اور ثمرات بے حساب ہیں، صدقہ اسلام میں ایک اہم ترین نیکی ہے جو اللہ کی رضا، بلاؤں سے حفاظت، رزق میں برکت، گناہوں کی معافی، اور قیامت کے دن سائے کا باعث بنتا ہے۔ یہ نہ صرف مال کی حفاظت کرتا ہے بلکہ دل کو سکون دیتا ہے اور عذاب قبر و جہنم سے بچاتا ہے۔

مال میں برکت اور اضافہ

صدقہ مال اور رزق میں برکت کا سبب ہے، لہٰذا یہ گمان کہ صدقہ کرنے سے مال گھٹ جائے گا، یہ شیطانی دھوکہ اور نفسانی وسوسہ ہے، شیطان دل میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ صدقہ سے مال گھٹ جائے گا، اللہ کہتا ہے: میں بڑھاؤں گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ (البقرة: 276)

ترجمہ: اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔

مصیبتوں اور بیماریوں سے بچاؤ

صدقہ بیماریاں اور مصیبتیں ٹالتا ہے، کیونکہ یہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا عمل ہے جو انسان کو مشکلات سے بچاتا ہے۔ صدقہ کے ذریعہ سے بلاؤں کاٹلنامختلف احادیث میں منقول ہے، جیساکہ صحیح الجامع میں ہے:

«دَاوُوا مَرْضَاكُمْ بِالصَّدَقَةِ» (صحیح الجامع)

ترجمہ: اپنے مریضوں کا علاج صدقہ کے ذریعے کرو۔

اور حضرت انسؓ سے مرفوعاً روایت ہے:

«ما عولج مريض بدواء أفضل من الصدقة» (المقاصد الحسنة، ص: 309)

ترجمہ: کسی بیمار کے علاج کے لیے صدقے سے بہتر کوئی دوا نہیں ہے۔

یہ کلام نبوی ﷺ کے مفہوم پر مبنی ہے، جو بتاتا ہے کہ مادی ادویات کے ساتھ ساتھ صدقہ (خیرات) روحانی اور جسمانی شفا کا ایک انتہائی مؤثر ذریعہ ہے، جو بیماریوں اور آفات کو ٹالتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ طبی علاج کے ساتھ صدقہ کرنا شفا کی امید کو بڑھاتا ہے اور اللہ کی رحمت کو متوجہ کرتا ہے اور یہ کہ مادی علاج (دوا) کے ساتھ ساتھ صدقہ کرنا بیمار کی جلد صحت یابی کے لیے ایک عظیم روحانی نسخہ ہے۔

غضبِ الٰہی اور بری موت سے حفاظت

اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے گناہوں کی وجہ سے آنے والا اللہ کا غضب ختم ہوتا ہے اور انسان اچانک یا عبرت ناک موت جیسی آفتوں سے محفوظ رہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إن الصدقة لتطفئ غضب الرب وتدفع عن ميته السوء» (سنن الترمذی)

ترجمہ: صدقہ اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرتاہے اور بری موت سے بچاتاہے۔

یہ حدیث ہمیں ترغیب دیتی ہے کہ آفات سے بچنے اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے صدقہ و خیرات کو معمول بنائیں۔

قیامت کے دن کا سایہ

وہ دن جب کوئی سایہ نہ ہوگا، صدقہ بندے کا سائبان بنے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«كُلُّ امْرِئٍ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ حَتَّى يُفْصَلَ بَيْنَ النَّاسِ» (مسند احمد)

ترجمہ: ہر آدمی (قیامت کے دن) اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے۔

یہ حدیث صدقہ کی فضیلت اور اہمیت کو بیان کرتی ہے اور مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ خیرات کرنے کی ترغیب دیتی ہے، تاکہ وہ آخرت کے دن اللہ کے سائے میں رہ سکیں۔ قیامت کے ہولناک دن، جب سورج قریب ہوگا، انسان کی دی گئی صدقہ و خیرات اسے گرمی اور پریشانی سے بچائے گی اور اس کے لیے سایہ اور تحفظ کا ذریعہ بنے گی۔

صدقہ اور جدید دور

جدید دور میں صدقہ کے تقاضے بدل گئے ہیں۔ اب محض روٹی کھلا دینا کافی نہیں، بلکہ معاشرے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ضروری ہے۔ جیسے کہ تعلیمی تعاون مثلاً کسی غریب بچے کو تعلیم دلوانا تاکہ وہ نسلوں کی غربت مٹا سکے۔ طبی سہولیات مثلاً ہسپتالوں میں آلات یا ادویات فراہم کرنا۔ پانی کا انتظام مثلاً واٹر فلٹریشن پلانٹ لگانا، جو کہ بہترین صدقہ ہے:

«أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: سَقْيُ الْمَاءِ» (سنن نسائی)

ترجمہ: کون سا صدقہ سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پانی پلانا۔

خلاصہ کلام

صدقہ وہ بیج ہے جو زمین پر بویا جاتا ہے مگر اس کا پھل عرشِ الٰہی کے سائے میں ملتا ہے۔ یہ بخل کی زنجیریں توڑنے اور انسانیت سے محبت کرنے کا نام ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ ہم پر رحم کرے، تو ہمیں اس کے بندوں پر خرچ کرنا ہوگا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنفُسِكُمْ (البقرة: 272)

ترجمہ: اور تم جو کچھ بھی بھلائی (مال) خرچ کرتے ہو، وہ تمہارے اپنے ہی فائدے کے لیے ہے۔

***

اعتکاف: بارگاہِ ایزدی میں بندگی کی معراج اور توبہ کی پناہ گاہ

اسلامی عبادات کے گلستاں میں ’’اعتکاف‘‘ ایک ایسا مہکتا ہوا پھول ہے جس کی خوشبو قرونِ اولیٰ سے انسانی روح کو معطر کرتی چلی آ رہی ہے۔ یہ محض ایک گوشہ نشینی نہیں، بلکہ کائنات کے خالق سے لو لگانے، دنیا کے ہنگاموں سے کنارہ کش ہونے اور اپنے رب کی چوکھٹ پر دستِ سوال دراز کر کے بیٹھ جانے کا نام ہے۔

اعتکاف: بارگاہِ ایزدی میں بندگی کی معراج اور توبہ کی پناہ گاہ

اعتکاف کی تاریخی قدامت اور قرآنی سند

اعتکاف کی جڑیں تاریخِ انسانی کے قدیم انبیائی تسلسل سے جڑی ہیں۔ یہ وہ عبادت ہے جسے اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ نے سابقہ انبیاءِ کرام علیہم السلام کے دور میں بھی مشروع فرمایا۔ قرآنِ مجید شاہد ہے کہ جب سیدنا ابراہیم خلیل اللّٰہ اور سیدنا اسماعیل علیہما السلام نے بیت اللّٰہ کی تعمیرِ نو فرمائی، تو باری تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اس گھر کو معتکفین کے لیے پاک صاف رکھیں۔ 

﴿وَ اِذۡ جَعَلۡنَا الۡبَیۡتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمۡنًا ؕ وَ اتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰہٖمَ مُصَلًّی ؕ وَ عَہِدۡنَاۤ اِلٰۤی اِبۡرٰہٖمَ وَ اِسۡمٰعِیۡلَ اَنۡ طَہِّرَا بَیۡتِیَ لِلطَّآئِفِیۡنَ وَ الۡعٰکِفِیۡنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ (سورة البقرة: ۱۲۵)

ترجمہ: اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے بیت اللّٰہ کو لوگوں کے لیے ایسی جگہ بنایا جس کی طرف وہ لوٹ لوٹ کر جائیں اور جو سراپا امن ہو ۔ ( ٨١ ) اور تم مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو ۔ ( ٨٢ ) اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو یہ تاکید کی کہ : تم دونوں میرے گھر کو ان لوگوں کے لیے پاک کرو جو ( یہاں ) طواف کریں اور اعتکاف میں بیٹھیں اور رکوع اور سجدہ بجا لائیں ۔

گویا طواف کرنے والوں اور نماز پڑھنے والوں کی طرح اعتکاف کرنے والے بھی اس مقدس گھر کے خاص مہمان ہیں۔ اور اللّٰہ تعالیٰ اپنے جلیل القدر پیغمبروں کو جن کی خدمت پر مامور فرما رہا ہے، وہ ’’معتکفین‘‘ ہیں۔

سنتِ نبوی ﷺ اور دوامِ اعتکاف

سرورِ کائنات ﷺ کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف آپ ﷺ کی مستقل سنت تھی۔ آپ ﷺ نے مدنی زندگی میں کبھی اس عظیم عبادت کو ترک نہیں فرمایا۔ امام زہریؒ اس پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ لوگ سنتِ اعتکاف کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں، جبکہ حضور ﷺ کی شان یہ تھی کہ آپ ﷺ بعض نفل کام کرتے بھی تھے اور چھوڑ بھی دیتے تھے، مگر ہجرت سے لے کر وفات تک آپ ﷺ نے اعتکاف کبھی ترک نہیں فرمایا۔

اس ہمیشگی کا تذکرہ احادیثِ مبارکہ میں یوں ملتا ہے:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ» (صحیح البخاری)

ترجمہ: حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔

اسی طرح ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں:

«أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ». (صحیح البخاری)

ترجمہ: نبی کریم ﷺ وفات تک مسلسل رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف فرماتے رہے، پھر آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات نے بھی اعتکاف کا اہتمام کیا۔

اعتکاف میں کثرت اور امت کو پیغام

نبی کریم ﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ کے آخری سال اس عمل میں مزید اضافہ فرمایا، جو اس عبادت کی غیر معمولی اہمیت پر دال ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے:

«كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فِي كُلِّ رَمَضَانَ عَشْرَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ يَوْمًا» (صحیح البخاری)

ترجمہ: رسول اللّٰہ ﷺ ہر رمضان میں دس دن اعتکاف فرماتے تھے، لیکن جس سال آپ ﷺ کی وفات ہوئی، اس سال آپ ﷺ نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔

علماء فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کو اپنی وفات کا قرب منکشف ہو چکا تھا، اس لیے آپ ﷺ نے امت کو یہ پیغام دیا کہ آخری لمحاتِ زندگی میں اعمالِ خیر میں مزید جدوجہد کرنی چاہیے۔

اعتکاف کا فلسفہ اور شبِ قدر کی تلاش

اعتکاف کا اصل مقصد دنیاوی آلائشوں سے کٹ کر ’’شبِ قدر‘‘ کو پانا ہے، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللّٰہ عنہ ایک طویل روایت میں بیان فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے پہلے عشرے کا اعتکاف کیا، پھر دوسرے کا، اور پھر جب فرشتے کے ذریعے علم ہوا کہ شبِ قدر آخری عشرے میں ہے، تو آپ ﷺ نے خیمے سے سر مبارک نکال کر صحابہ سے فرمایا:

«مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي، فَلْيَعْتَكِفِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ، وَقَدْ أُرِيتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا، وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ مِنْ صَبِيحَتِهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، وَالْتَمِسُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ» (صحیح البخاری)

ترجمہ: جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ آخری عشرے کا بھی اعتکاف کرے، مجھے یہ رات دکھائی گئی پھر بھلا دی گئی، میں نے دیکھا کہ میں اس کی صبح گارے اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں، پس اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔

گناہوں سے ڈھال اور نیکیوں کا بہاؤ

معتکف کی مثال اس سائل کی سی ہے جو کسی سخی کے دروازے پر دھرنا دے کر بیٹھ جائے کہ جب تک مراد پوری نہ ہوگی، یہاں سے نہ اٹھوں گا۔ اللّٰہ تعالیٰ معتکف کو اپنی پناہ میں لے لیتا ہے۔ ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:

«هُوَ يَعْكِفُ الذُّنُوبَ، وَيُجْرَى لَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ كَعَامِلِ الْحَسَنَاتِ كُلِّهَا» (سنن ابن ماجہ)

ترجمہ: معتکف گناہوں سے رکا رہتا ہے (محفوظ رہتا ہے) اور اس کے لیے تمام نیکیاں (جو وہ اعتکاف کی وجہ سے نہیں کر پاتا، جیسے عیادت یا جنازہ) اسی طرح لکھی جاتی ہیں جیسے ان نیکیوں کے کرنے والے کے لیے۔

جہنم سے دوری اور رضائے الٰہی کا حصول

ایک دن کا اعتکاف بھی اگر خلوصِ دل سے ہو تو وہ انسان اور دوزخ کے درمیان عظیم فاصلہ پیدا کر دیتا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:

«وَمَنْ اعْتَكَفَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ جَعَلَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ ثَلَاثَ خَنَادِقَ، كُلُّ خَنْدَقٍ أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ» (المعجم الأوسط)

ترجمہ: جس نے اللّٰہ کی رضا کے لیے ایک دن کا اعتکاف کیا، اللّٰہ اس کے اور جہنم کے درمیان تین ایسی خندقیں حائل کر دیتا ہے جن کی چوڑائی مشرق سے مغرب (آسمان و زمین) کے درمیانی فاصلے سے بھی زیادہ ہے۔

اسی حدیث کے آغاز میں آپ ﷺ نے یہ بھی خوشخبری سنائی کہ ’’جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے چلتا ہے، وہ اس کے لیے دس سال کے اعتکاف سے بہتر ہے‘‘۔ یہ جملہ اعتکاف کی عظمت کو مزید اجاگر کرتا ہے کہ جب ایک دن کا اعتکاف جہنم سے اتنا دور کر دیتا ہے، تو اعتکاف کی حقیقت کیا ہوگی۔

اعتکاف کے اہم فقہی مسائل

اعتکاف کی تین اقسام ہیں: واجب (منت ماننا)، سنتِ مؤکدہ (رمضان کے آخری دس دن)، اور نفل (کسی بھی وقت کی نیت)۔

۱۔ اعتکاف کے فرائض اور شرائط

نیت: دل میں اعتکاف کا ارادہ کرنا شرط ہے۔

مسجد: مردوں کے لیے ایسی مسجد جہاں باجماعت نماز ہوتی ہو۔ خواتین اپنے گھر میں نماز کی جگہ (مسجدِ بیت) کو مخصوص کر لیں۔

روزہ: مسنون اور واجب اعتکاف کے لیے روزہ رکھنا ضروری ہے۔

۲ـ۔ مسجد سے نکلنے کے احکامات

معتکف (اعتکاف کرنے والا) مسجد کی حدود سے صرف دو ضرورتوں کے لیے نکل سکتا ہے:

طبعی ضرورت:  پیشاب، پاخانہ، غسلِ جنابت (اگر ضرورت ہو) اور وضو کے لیے۔

شرعی ضرورت: نمازِ جمعہ کے لیے (اگر مسجد میں جمعہ نہ ہوتا ہو)۔

تنبیہ: بلا ضرورتِ شرعی یا طبعی ایک لمحہ کے لیے بھی مسجد کی حدود سے باہر نکلنے سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔

۳۔ اعتکاف میں کیا جائز ہے اور کیا نہیں؟

جائز امور: کھانا پینا (مسجد کے اندر)، سونا، ضروری بات چیت، اور نکاح پڑھانا۔

ممنوع امور: جماع (بیوی سے قربت)، بحث و مباحثہ، لڑائی جھگڑا، اور بلا ضرورت خاموشی کو عبادت سمجھ کر چپ سادھ لینا۔

اعتکاف کے دوران مسنون اذکار اور عبادات

اعتکاف کا وقت بہت قیمتی ہے، اسے فضول باتوں کے بجائے درج ذیل اعمال میں صرف کرنا چاہیے:

۱۔ تلاوتِ قرآن کریم

یہ اعتکاف کی بہترین مصروفیت ہے۔ کوشش کریں کہ ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ قرآن پڑھیں تاکہ اللّٰہ کے احکامات کو سمجھ سکیں۔

۲۔ کثرتِ استغفار اور توبہ

آخری عشرہ جہنم سے آزادی کا ہے، لہذا درج ذیل دعا کثرت سے پڑھیں:

أَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ.

۳۔ لیلۃ القدر کی خاص دعا

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا نے جب نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ اگر مجھے شبِ قدر کا پتا چل جائے تو کیا پڑھوں؟ آپ ﷺ نے یہ دعا سکھائی:

اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي.

(اے اللّٰہ ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے۔)

۴۔ درود شریف کی کثرت

نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنا دعاؤں کی قبولیت کا سبب ہے اور اس سے دل کو سکون ملتا ہے۔

حاصلِ کلام

اعتکاف محض مسجد کے ایک کونے میں بیٹھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ دل کو غیر اللّٰہ سے خالی کر کے اللّٰہ سے بھر لینے کی مشق ہے۔ یہ مغفرت کا پروانہ حاصل کرنے کی بہترین تدبیر اور ربِ کریم کی رحمتوں کو سمیٹنے کا سنہری موقع ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں رمضان کے مبارک لمحات میں اللّٰہ کے گھر کی میزبانی نصیب ہوتی ہے۔

مقالات ومضامین

خوش آمدید، یہاں آپ کی آمد ہمارے لیے باعثِ افتخار ہے۔ یہ بلاگ فکر، تہذیب، اور معاشرت کے مختلف پہلوؤں کا آئینہ ہے۔ اگر کوئی تحریر دل کو چھو جائے، سوچ کو مہمیز دے یا نظر کو نیا زاویہ عطا کرے تو یہی اس بلاگ کی اصل کامیابی ہے۔ خوش رہیے، پڑھتے رہیے، اور اظہارِ رائے سے ضرور نوازئے۔ آپ کی رائے ہمارے لیے رہنمائی، اور آپ کی موجودگی حوصلہ افزائی کا باعث ہوگی۔ مفتی محمد خالد سیف اللّٰہ قاسمی ابن محمد جہانگیر اُسراہی، استاذ جامعہ عائشہ صدیقہؓ نورچک

مفتی محمد خالد سیف اللّٰہ قاسمی

استاذ، جامعہ عائشہ صدیقہ نورچک، بسفی، مدھوبنی، بہار۔ علمی، دینی، ادبی اور تحقیقی مضامین کے مصنف۔

مزید تعارف پڑھیں →