بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سیرتِ رسول ﷺ سے وابستگی کا ایک مؤثر اور منفرد انداز
دارالسلام ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ، چھتون، دربھنگہ میں سیرت النبی ﷺ کوئز پروگرام میں حاضری

سیرتِ رسول ﷺ سے وابستگی کا ایک مؤثر اور منفرد انداز
 سیرتِ رسول ﷺ سے وابستگی کا ایک مؤثر اور منفرد انداز
دارالسلام ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ، چھتون، دربھنگہ میں سیرت النبی ﷺ کوئز پروگرام

ربیع الاول کا بابرکت مہینہ امتِ مسلمہ کے لیے محبت، عقیدت اور تجدیدِ عہد کا پیغام لے کر آتا ہے۔ یہی وہ مبارک مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اپنے محبوب، سرورِ عالم، خاتم النبیین، رحمۃ للعالمین، صادق و امین، سراجِ منیر، احمدِ مجتبیٰ، محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت سے منور فرمایا۔ آپ ﷺ کی تشریف آوری محض ایک عظیم شخصیت کی ولادت نہ تھی، بلکہ انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت، عدل، اخلاق اور فلاح کے ایک نئے عہد کا آغاز تھا۔

اس مبارک مہینے میں دنیا بھر کے مسلمان اپنے اپنے انداز میں رسولِ اکرم ﷺ سے محبت و وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔ کہیں جلسۂ سیرت منعقد ہوتا ہے، کہیں نعتیہ مجالس سجتی ہیں، کہیں جلوس نکالے جاتے ہیں اور کہیں آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے مختلف گوشوں پر خطابات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ تمام سرگرمیاں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن محبتِ رسول ﷺ کا سب سے بامقصد اظہار شاید یہ ہے کہ نئی نسل کو رسول اللہ ﷺ کی زندگی، تعلیمات، اخلاق اور اسوۂ حسنہ سے اس طرح روشناس کرایا جائے کہ سیرتِ نبوی ﷺ ان کے ذہن و شعور کا حصہ بن جائے۔

اسی فکر کا ایک نہایت خوب صورت اور قابلِ تقلید مظاہرہ دارالسلام ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ، چھتون، دربھنگہ، بہار میں دیکھنے کو ملا، جہاں ربیع الاول کی مناسبت سے سیرت النبی ﷺ کوئز مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔ اس بامقصد پروگرام میں حاضری میرے لیے نہایت خوش گوار، یادگار اور حوصلہ افزا تجربہ رہی۔

دارالسلام ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ، جس کے بانی (Founder) محترم مولانا بختیار ثاقب قاسمی صاحب ہیں، دینی اور عصری تعلیم کے حسین امتزاج کا ایک منفرد ادارہ ہے۔ یہاں طلبہ و طالبات کو خالص اسلامی ماحول میں دینی اقدار اور اسلامی تہذیب و اخلاق کی پاس داری کے ساتھ عصری علوم سے آراستہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ موجودہ دور میں، جب تعلیم کو اکثر محض روزگار اور مادی ترقی کا وسیلہ سمجھ لیا گیا ہے، ایسے اداروں کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے جو علم کے ساتھ کردار، تہذیب، ایمان اور اخلاق کی آبیاری کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

ادارے نے ربیع الاول کے موقع پر محبتِ رسول ﷺ کے اظہار کے لیے روایتی انداز تک خود کو محدود رکھنے کے بجائے ایک تعلیمی اور فکری طریقہ اختیار کیا۔ طلبہ و طالبات کے درمیان سیرت النبی ﷺ کوئز مقابلہ منعقد کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ بچے رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کو محض چند واقعات یا تاریخوں کی صورت میں نہ جانیں، بلکہ آپ ﷺ کی پوری زندگی کے مختلف پہلوؤں سے واقف ہوں۔

اس مقابلے کی ایک نمایاں خوبی اس کا جامع موضوعاتی دائرہ تھا۔ سوالات سیرتِ طیبہ کے اہم ترین پہلوؤں پر مشتمل تھے؛ ان میں رسول اکرم ﷺ کی انفرادی زندگی اور اخلاق و کردار، خاندانی و سماجی زندگی، دعوت و تبلیغ، سیاست و حکمرانی، نیز عسکری و دفاعی حکمتِ عملی اور غزوات جیسے اہم موضوعات شامل تھے۔ یوں طلبہ و طالبات کو یہ سمجھنے کا موقع ملا کہ سیرتِ رسول ﷺ صرف چند تاریخی واقعات کا مجموعہ نہیں، بلکہ انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کے لیے ایک مکمل اور روشن رہنمائی ہے۔

اس پروگرام کا سب سے خوش کن پہلو طلبہ و طالبات کی غیر معمولی تیاری تھی۔ بچوں نے جس دلچسپی، انہماک اور محنت کے ساتھ سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کیا تھا، اس کا اندازہ ان کے جوابات سے بخوبی ہورہا تھا۔ بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات نے سو فیصد نمبر حاصل کر لیے۔ صورتِ حال یہاں تک پہنچی کہ اول، دوم اور سوم پوزیشن کا فیصلہ کرنا بھی آسان نہ رہا۔ ممتحن کو امتیازی پوزیشنوں کے تعین کے لیے سوال و جواب کے کئی اضافی راؤنڈ کرانے پڑے۔ بظاہر یہ مقابلے کا ایک مرحلہ تھا، لیکن حقیقت میں یہ اس بات کی خوش آئند علامت تھی کہ بچوں نے سیرتِ رسول ﷺ کو کتنی محنت اور شوق سے پڑھا اور سمجھا ہے۔

یہ منظر دیکھ کر دل میں یہ خیال بار بار ابھرتا رہا کہ محبت جب علم سے وابستہ ہوجائے تو اس کی تاثیر کہیں زیادہ گہری اور دیرپا ہوجاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے محبت ہمارے ایمان کا تقاضا ہے، لیکن اس محبت کا حقیقی حسن اس وقت سامنے آتا ہے جب ہم آپ ﷺ کو جانیں، آپ ﷺ کی تعلیمات کو سمجھیں، آپ ﷺ کے اخلاق سے واقف ہوں اور آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اپنی عملی زندگی کا نمونہ بنانے کی کوشش کریں۔ جس نبی ﷺ سے محبت کا دعویٰ ہو، ان کی زندگی سے واقفیت بھی اسی محبت کا لازمی تقاضا ہے۔

اسی لیے میری نظر میں سیرتِ طیبہ کے عنوان سے ہونے والے مختلف پروگراموں میں سیرت النبی ﷺ کوئز مقابلے کی افادیت غیر معمولی ہے۔ ایک جلسے میں سامع کچھ دیر تقریر سنتا ہے اور ممکن ہے اس کا کچھ حصہ جلد ذہن سے محو ہوجائے، لیکن ایک علمی مقابلے میں شریک طالب علم کو پہلے کتابیں کھولنی پڑتی ہیں، واقعات پڑھنے پڑتے ہیں، تاریخ اور پس منظر سمجھنا پڑتا ہے، سوالات کے ممکنہ جوابات تلاش کرنے پڑتے ہیں اور پھر انہیں ذہن نشین بھی کرنا پڑتا ہے۔ یوں ایک مقابلے کی تیاری کے بہانے سیرتِ رسول ﷺ کے بے شمار گوشے اس کے ذہن میں محفوظ ہوجاتے ہیں۔ یہی اس طرزِ پروگرام کی سب سے بڑی علمی اور تربیتی خوبی ہے۔

بالخصوص اسکولی عمر کے بچوں میں سیرتِ نبوی ﷺ کے مطالعے کا شوق پیدا کرنا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ آج کی نئی نسل معلومات کے بے پناہ ہجوم میں زندگی گزار رہی ہے۔ اس کے سامنے نت نئے کردار، تصورات اور نمونے پیش کیے جارہے ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کے دلوں میں رسول اللہ ﷺ کی محبت راسخ ہو اور آپ ﷺ کی ذات ان کے لیے حقیقی اسوۂ حسنہ بنے، تو ہمیں سیرت کو ان کے تعلیمی اور تربیتی ماحول کا زندہ حصہ بنانا ہوگا۔ کوئز، مطالعۂ سیرت، تقریری مقابلے، تحریری مسابقے اور عملی تربیتی سرگرمیاں اس مقصد کے حصول کے مؤثر ذرائع بن سکتی ہیں۔

دارالسلام ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ کا یہ اقدام اسی سمت میں ایک قابلِ قدر کوشش ہے۔ یہاں محبتِ رسول ﷺ کو محض جذباتی اظہار تک محدود نہیں رکھا گیا، بلکہ اسے مطالعہ، علم، فہم اور تربیت سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ یہی وہ طرزِ فکر ہے جسے ہمارے دیگر تعلیمی اداروں میں بھی فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

اس خوب صورت، علمی اور بامقصد پروگرام کی ایک خوش آئند خصوصیت یہ بھی تھی کہ دارالسلام ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے مختلف میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے معززین کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازات سے نوازا گیا۔ یہ روایت بجائے خود قابلِ تحسین ہے کہ جو افراد علم، تحقیق، تعلیم اور سماجی و دینی خدمات میں اپنی صلاحیتیں صرف کر رہے ہوں، ان کی خدمات کی قدر افزائی کی جائے اور نئی نسل کے سامنے انہیں بطور نمونہ پیش کیا جائے۔

اس موقع پر مجھ نااہل کو بھی ‘‘ایوارڈ برائے علمی و تحقیقی خدمات’’ سے سرفراز کیا گیا۔ بلاشبہ یہ میرے لیے باعثِ مسرت ہونے کے ساتھ باعثِ تشکر بھی تھا؛ تاہم میں اسے اپنی کسی علمی استحقاق یا غیر معمولی خدمت کا صلہ سمجھنے کے بجائے اپنے رفیقِ درس، محترم مولانا بختیار ثاقب قاسمی صاحب کی ذرّہ نوازی، حسنِ ظن اور محبت کا مظہر سمجھتا ہوں۔ اہلِ محبت کی نگاہ کبھی کبھی ذرّے میں بھی آفتاب تلاش کرلیتی ہے؛ سو یہ اعزاز میرے لیے اپنی خدمات پر اطمینان کا پروانہ نہیں، بلکہ علم و تحقیق کے میدان میں جستجو کے ساتھ آگے بڑھنے کی ایک تحریک ہے۔

اس محبت، حسنِ ظن اور حوصلہ افزائی پر میں محترم مولانا بختیار ثاقب قاسمی صاحب اور دارالسلام ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ کا تہِ دل سے شکر گزار ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس اعزاز کو میرے لیے تفاخر کے بجائے تواضع، احساسِ ذمہ داری اور علمی خدمت کا ذریعہ بنائے اور جو حسنِ ظن اہلِ ادارہ نے قائم کیا ہے، اس پر پورا اترنے کی توفیق عطا فرمائے۔

دارالسلام ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ، چھتون، دربھنگہ میں سیرت النبی ﷺ کوئز پروگرام کے موقع پر جناب مولانا بختیار ثاقب قاسمی صاحب مولانا محمد خالد سیف اللہ قاسمی استاذ حدیث جامعہ عائشہ صدیقہ نورچک کو ایوارڈ برائے علمی وتحقیقی خدمات سے سرفراز کرتے ہوئے۔

اس خوب صورت، علمی اور بامقصد پروگرام کے انعقاد پر دارالسلام ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ کے بانی (Founder) محترم مولانا بختیار ثاقب قاسمی صاحب، ادارے کے تمام اساتذہ، منتظمین اور کارکنان دلی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ بالخصوص وہ طلبہ و طالبات قابلِ تحسین ہیں جنہوں نے محنت و شوق سے سیرتِ رسول ﷺ کا مطالعہ کیا اور اپنی غیر معمولی تیاری سے اس پروگرام کو حقیقی معنوں میں کامیاب بنایا۔

اللہ تعالیٰ اس ادارے کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، اس کی دینی، علمی اور تعلیمی خدمات کو شرفِ قبول بخشے اور یہاں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو علم و عمل، اخلاق و کردار اور محبتِ رسول ﷺ کی دولت سے مالا مال فرمائے۔

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ربیع الاول کی یہ سرگرمیاں ہمارے لیے صرف ایک سالانہ یادگار بن کر نہ رہ جائیں، بلکہ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کو پڑھنے، سمجھنے، اپنانے اور نئی نسل تک پہنچانے کے ایک مستقل سفر کا نقطۂ آغاز بنیں۔ یہی محبتِ رسول ﷺ کا سب سے روشن، بامعنی اور نتیجہ خیز اظہار ہے۔

***