3 ستمبر 2026ء بروز جمعرات علم و حکمت اور دعوت کے میدان سے وابستہ افراد کے لیے شدید دکھ اور ملال کا دن ثابت ہوا، جب یہ غم ناک خبر موصول ہوئی کہ محترم حضرت مولانا امین احمد چترویدی صاحبؒ اس دارِ فانی سے کوچ کر کے دارِ بقا کی طرف رخصت ہو گئے۔ إنّا للّٰہ وإنّا إلیہ راجعون۔ اللّٰہ تعالیٰ حضرت کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے۔
حضرتؒ کے دعوت کے موضوع پر بڑے قیمتی محاضرات ہوا کرتے تھے۔ جب ناچیز المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد میں زیر تعلیم تھا تو حضرت کے محاضرات سے استفادہ کا موقع میسر ہوا تھا۔ وہ محاضرات اتنے جامع، فکر انگیز اور قیمتی ہوا کرتے تھے کہ ان سے علم و بصیرت کے نئے ابواب وا ہوتے تھے۔ دعوتِ دین کے سلسلے میں ان کی فکر، منہج اور نصیحتیں آج بھی دل و دماغ میں تر و تازہ ہیں۔
ان علمی استفادوں کے علاوہ حضرت کی شفقت کا ایک خاص واقعہ ہمیشہ یادگار رہے گا۔ المعہد العالی الاسلامی میں دورِ طالب علمی کے دوران ہی ایک مرتبہ حضرت مولانا رحمہ اللّٰہ اور ان کے صاحبزادے، محترم مولانا ضیاء الامین صاحب (جو اس وقت معہد میں طالب علم تھے) کے ساتھ حیدرآباد کے مختلف تاریخی و مشہور مقامات کی سیاحت کا موقع ملا۔ سفر کے دوران حضرت کا اخلاق، شفقت اور کسرِ نفسی دیکھ کر دل ان کی محبت سے بھر گیا۔
حضرت مولانا امین احمد چترویدی صاحبؒ کی رحلت نہ صرف ان کے اہل و عیال بلکہ ان کے تمام تلامذہ، مستفیدین اور علمی و دعوتی حلقوں کے لیے ایک بڑا اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
دعا ہے کہ اللّٰہ رب العزت حضرت رحمہ اللّٰہ کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کی علمی و دعوتی خدمات کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے، اور ان کے صاحبزادے مولانا ضیاء الامین صاحب سمیت تمام پس ماندگان اور متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
