بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
مقالات ومضامین مفتی محمد خالد سیف اللّٰہ قاسمی

تازہ مضامین

علماء : اُمت کی فکری، روحانی، اخلاقی اور سماجی رہنمائی کے ستون ہیں

اسلام ایک کامل اور جامع دین ہے جو نہ صرف فرد کی روحانیت، عبادات اور رسومات کی صحیح رہنمائی فراہم کرتا ہے، بلکہ اس کا دائرہ وسیع ہو کر زندگی کے تمام پہلوؤں پر محیط ہے۔ دین اسلام میں ہر شعبے کے بارے میں وضاحت سے ہدایات موجود ہیں اور اس کے اصول انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہیں۔ اس کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ستون وہ ’’علماء‘‘ ہیں جو دین کے صحیح فہم کے حامل ہیں اور جو امت کی فکری، روحانی، اخلاقی اور سماجی رہنمائی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

قرآن اور حدیث میں بار بار علماء کا ذکر آیا ہے اور ان کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے انہیں ’’اَلْعُلَمَاءُ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ‘‘ یعنی انبیاء کے وارث قرار دیا۔ یہ بات صرف عالمِ دین کی نہیں بلکہ ایک ایسے فرد کی ہے جو دین کے حقیقی نمائندہ ہوتے ہوئے امت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتا ہے۔

علماء --- اُمت کی فکری، روحانی، اخلاقی اور سماجی رہنمائی کے ستون ہیں
 علماء --- اُمت کی فکری، روحانی، اخلاقی اور سماجی رہنمائی کے ستون ہیں

علماء کی فکری رہنمائی

علماء کا فکری مشن

اسلام میں فکر کا بے حد اہم مقام ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بار بار تفکر اور تدبر کی دعوت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ (الزمر: 9)

’’کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟‘‘

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ علم کا مقام انسان کی زندگی میں کیا ہے اور اس کا فائدہ کس طرح سے ملتا ہے۔  یہاں پر علم سے مراد صرف دنیاوی یا ظاہری علم نہیں بلکہ وہ علم ہے جو انسان کو اللہ کے راستے پر چلنے کی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہی علمِ دین ہے جس کے ذریعے انسان اپنی زندگی کو متوازن بنا سکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ۔‘‘

’’جس کے ساتھ اللہ خیر کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے۔‘‘

علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس علم کی گہرائی کو عوام تک پہنچائیں، تا کہ لوگ اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق گزار سکیں، اس کے بہت سے طریقے ہیں، مثلاً دینی مسائل کی وضاحت کرنا، نئے فتنوں اور اختلافات کا جواب دینا، اجتہادی مسائل پر رہنمائی فراہم کرنا اور معاشرتی مسائل میں علمی تجزیہ پیش کرنا وغیرہ۔

علماء کا یہ فکری مشن معاشرے میں استحکام لائے گا اور اس طرح لوگ گمراہی میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہیں گے۔

علماء کی روحانی رہنمائی

روحانیت اور تزکیہ نفس

روحانیت انسان کی ذات کا ایک انتہائی اہم پہلو ہے اور اسلام میں اس کی خاص اہمیت ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا (الشمس: 9)

’’بے شک وہ کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا۔‘‘

علماء کا کردار اس تزکیہ نفس کی تکمیل میں اہم ہے۔ اللہ کا فرمان ہے:

يُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ (البقرہ: 129)

’’وہ ان کا تزکیہ کرتے ہیں اور کتاب و حکمت سکھاتے ہیں۔‘‘

روحانیت کا سفر صرف عبادات تک محدود نہیں ہوتا بلکہ انسان کی زندگی کے ہر شعبے میں یہ اثر انداز ہوتی ہے۔ علماء نہ صرف عبادات کی اہمیت بتاتے ہیں بلکہ وہ فرد کو مراقبہ اور ذکر کی اہمیت سکھاتے ہیں، صبر، توکل اور یقین کی تعلیم دیتے ہیں اور اللہ کی رضا کی کوشش میں توازن پیدا کرنے کی راہنمائی کرتے ہیں۔ اگر علماء نہ ہوں، تو روحانیت کا اثر کمزور ہو سکتا ہے اور انسان دنیاوی زندگی میں مشغول ہو کر اللہ کی یاد سے غافل ہو سکتا ہے۔

علماء کی اخلاقی رہنمائی

اسلامی اخلاقیات اور علماء کا کردار

اسلام کی بنیاد مضبوط اخلاقیات پر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَکَارِمَ الأَخْلَاقِ۔‘‘

’’مجھے اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔‘‘

یہ حدیث اس بات کا ثبوت ہے کہ اخلاقی تعلیمات اسلام کا ایک بنیادی جزو ہیں۔ علماء اسی پر عمل کرتے ہوئے معاشرے میں اخلاقی سلیقہ، ادب اور حسنِ سلوک کی تعلیم دیتے ہیں۔ اخلاقی رہنمائی میں علماء کا کردار میں سچ بولنا اور جھوٹ سے بچنا، عدل و انصاف کی تعلیم دینا، وعدہ پورا کرنا اور وفاداری کی اہمیت کو اجاگر کرنا، والدین، پڑوسیوں اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا اور بردباری، حیا اور مضبوط عزم کی نشوونما کرنا وغیرہ ہے۔

علماء کے ذریعے ہی ہم انسانی عزت، اخلاقی جرات اور دوسروں کی مدد جیسے بنیادی اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔

علماء کی سماجی رہنمائی

علماء کا سماجی کردار

اسلام صرف عبادات اور روحانیت تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی نظام فراہم کرتا ہے، جس میں معاشرتی عدل، انسانی حقوق، اور معاشی فلاح شامل ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ‘‘ (النساء: 135)

’’ہمیشہ انصاف کے قائم کرنے والے بنو۔‘‘

علماء کی سماجی رہنمائی میں اہم پہلو درج ذیل ہیں:

سماجی انصاف اور عدل

اسلام میں عدل کا قیام ایک اہم مقصد ہے۔ علماء اس بات پر زور دیتے ہیں کہ معاشرتی انصاف کا راستہ اسی وقت ممکن ہے جب فرد فرد کے حقوق کا احترام کیا جائے اور ظلم و ناانصافی کا خاتمہ کیا جائے۔

خاندانی نظام کی اصلاح

اسلام میں خاندان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ علماء نکاح، طلاق، وراثت اور دیگر معاشی معاملات میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں تاکہ خاندان کا نظام مضبوط اور متوازن رہے۔

معاشی رہنمائی

اسلام میں سود، غیبت، دھوکہ دہی اور بدعنوانی کی اجازت نہیں ہے۔ علماء اس بات پر زور دیتے ہیں کہ معاشی معاملات حلال طریقے سے چلائے جائیں اور لوگوں کو صحیح طور پر زکوٰۃ اور صدقات دینے کی تعلیم دی جاتی ہے۔

فتنوں سے بچاؤ

فتنوں اور افکار کے بارے میں علماء کی رہنمائی نہایت ضروری ہے۔ موجودہ دور میں مختلف نظریاتی فتنوں جیسے لبرل ازم، سیکولرازم اور دیگر بے دین تحریکوں کا مقابلہ کرنا علماء کی ذمہ داری ہے۔

امن و اتحاد کا قیام

قرآن نے مسلمانوں کو بھائیوں کی طرح زندگی گزارنے کی ہدایت دی ہے: ’’إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ‘‘ (الحجرات: 10) علماء مسلمانوں کے درمیان وحدت اور ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں، تاکہ معاشرہ امن و سکون کی حالت میں رہے۔

علماء کا کردار فتنوں کے دوران

اسلامی تاریخ میں مختلف اوقات میں فتنوں اور مشکلات کا سامنا آیا ہے، چاہے وہ سیاسی، فکری، یا نظریاتی فتنہ ہو۔ ان فتنوں کا مقابلہ کرنے میں علماء کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔ یہ فتنہ ہو سکتا ہے: غلو، تکفیر، غیر اسلامی نظریات، سیاسی فساد، یا پھر مغربی سیکولرازم جیسی تحریکوں کا اثر۔ ان تمام مسائل میں علماء نے ہمیشہ اپنے علم اور بصیرت کی مدد سے امت کو صحیح راستے کی طرف رہنمائی فراہم کی۔

فتنہ تکفیر کا مقابلہ

تکفیر کا مسئلہ تاریخ اسلام میں ہمیشہ رہا ہے، اور علماء نے اس فتنہ کے بارے میں واضح طور پر فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کی تکفیر کرنا انتہائی نازک اور محتاط عمل ہے۔ علماء نے اس مسئلے میں انبیاء کی تعلیمات اور قرآن و سنت کی روشنی میں واضح کیا کہ مسلمان کو ایمان سے خارج کرنے کے لیے مضبوط دلائل اور قطیعت کی ضرورت ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا، پھر وہ کافر نہیں ہوتا، بلکہ وہ خود کافر ہو جاتا ہے، اگر وہ واقعی کافر نہ ہو۔‘‘ (صحیح بخاری) یہ حدیث ہمیں اس بات کا درس دیتی ہے کہ فتویٰ دینے میں احتیاط کی ضرورت ہے، اور علماء کا کردار اس فتنے کے مقابلے میں انتہائی اہم ہوتا ہے۔

غیر اسلامی نظریات کا مقابلہ

علماء نے ہمیشہ غیر اسلامی نظریات اور فتنوں کا مقابلہ کیا ہے۔ یہ فتنہ مختلف دور میں لبرل ازم، سیکولرازم، کمیونزم، یا دہریت کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ علماء نے اسلام کے بنیادی اصولوں اور دلائل سے ان نظریات کا رد کیا۔ انہوں نے لوگوں کو یہ سمجھایا کہ اسلامی معاشرت اور نظام زندگی سے بہتر کوئی نظریہ نہیں ہے اور ان کی رہنمائی سے لوگ غیر اسلامی خیالات سے بچ پائے۔

علماء کا کردار فکری اختلافات میں

اسلامی تاریخ میں ہمیشہ مختلف فکری اختلافات سامنے آتے رہے ہیں، اور ان اختلافات کو صحیح طریقے سے حل کرنے میں علماء کا کردار اہم رہا ہے۔ خاص طور پر فقہ، عقائد اور اجتہاد کے مسائل میں علماء نے اپنی علمی بصیرت سے امت کی رہنمائی کی۔

فقہ اور اجتہاد

اسلامی فقہ میں مختلف مذاہب کے علماء کے درمیان اجتہادی اختلافات موجود ہیں، جیسے حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی۔ علماء نے اس بات کو واضح کیا کہ یہ اختلافات اجتہاد کی بنیاد پر ہیں، اور یہ اختلافات امت کے لیے رحمت ہیں، بشرطیکہ یہ اختلافات حدود سے باہر نہ جائیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’وَإِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ‘‘ (فاطر: 28)

’’اللہ سے ڈرتے وہی ہیں اس کے بندوں میں جن کو سمجھ ہے۔‘‘

یہ آیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ علماء ان فکری اختلافات کو حل کرنے کے لیے علمی بنیاد پر گفتگو کرتے ہیں اور اختلافات میں بھی اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

عقائد کا تحفظ

علماء نے ہمیشہ عقیدۂ توحید، رسالت اور آخرت کے عقائد کی حفاظت کی ہے۔ وہ فرقہ واریت اور عقائد کی تحریف کو روکنے کے لیے مسلمانوں کو صحیح فہم فراہم کرتے ہیں تاکہ لوگ اہل سنت والجماعت کے عقائد پر ثابت قدم رہیں۔

عالمی سطح پر علماء کا کردار

علماء نہ صرف اپنے مقامی علاقوں میں بلکہ عالمی سطح پر بھی امت کی رہنمائی کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر اسلامی بین الاقوامی تعلقات، مسلم اقلیتوں کے حقوق اور عالمی مسائل پر علماء کی رہنمائی اہمیت رکھتی ہے۔ مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر علماء نے ہمیشہ دین اسلام کی صحیح تصویر پیش کی اور مسلمانوں کے مسائل کو اجاگر کیا۔

اسلامی اتحاد کا قیام

علماء نے عالمی سطح پر اسلامی اتحاد کو فروغ دیا ہے۔ مختلف ممالک میں مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لیے علماء نے مشترکہ فورمز تشکیل دیے اور عالمی سطح پر مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے آواز بلند کی۔ مثال کے طور پر مسلمانوں کی سیاسی آزادی، یمن، فلسطین، کشمیر، اور روہنگیا جیسے مسائل پر علماء نے عالمی سطح پر آواز اٹھائی ہے۔

تعلیمی و ثقافتی پروگرامز

علماء نے عالمی سطح پر مسلمانوں کے تعلیمی و ثقافتی ترقی کے لیے مختلف تعلیمی ادارے قائم کیے، تاکہ جدید دنیا میں بھی مسلمان اپنے مذہب کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزار سکیں۔ یہ ادارے نہ صرف علمی و دینی تعلیم دیتے ہیں بلکہ ثقافتی تبادلے اور بین الاقوامی تعلقات میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

علماء اور جدید دور کے چیلنجز

علماء کے سامنے جدید دور میں کئی نئے چیلنجز ہیں، خاص طور پر مغربی تہذیب، سوشل میڈیا اور معلومات کے بہاؤ کی صورت میں۔ ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے علماء نے خود کو جدید سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی اور میڈیا کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ہے۔

سوشل میڈیا اور میڈیا کا اثر

سوشل میڈیا اور میڈیا نے مسلمانوں کے فکری و نظریاتی رویے پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ علماء نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلمان ان ذرائع ابلاغ کا صحیح استعمال کریں اور انہیں دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق استعمال کریں۔

مغربی اثرات کا مقابلہ

مغربی تہذیب کی آمد کے ساتھ، علماء نے مسلمانوں کو اپنے مذہبی شناخت اور اسلامی اقدار کی حفاظت کرنے کی تاکید کی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو یہ سکھایا کہ مغربی فکر کے اثرات کو اسلامی اصولوں کی روشنی میں پرکھا جائے۔

خلاصۂ کلام

علماء اُمت کے فکری، روحانی، اخلاقی اور سماجی رہنمائی کے ستون ہیں۔ ان کا کردار امت کی ترقی، ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی اور دین کی حفاظت کے لیے بہت اہم ہے۔ قرآن و حدیث میں علماء کے کردار کو واضح کیا گیا ہے اور ان کی اہمیت کو مسلمہ قرار دیا گیا ہے۔

علماء نے ہر دور میں اپنی علم و بصیرت سے امت کی رہنمائی کی ہے، چاہے وہ فکری اختلافات ہوں، روحانی تربیت، اخلاقی اصلاحات یا سماجی ترقی۔ ان کے بغیر امت اسلامی کی فلاح و بہبود کا تصور ممکن نہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں علماء کی قدر کرنے، ان کی رہنمائی پر عمل کرنے اور دین کی صحیح فہم حاصل کرنے کی توفیق دے۔

---

2025 کا احتساب اور 2026 کی تعمیر (ایک اسلامی فکری و عملی پیغام)

وقت انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ جو وقت گزر جاتا ہے وہ واپس نہیں آتا، مگر وہ اپنے پیچھے ہمارے اعمال، رویے اور اثرات چھوڑ جاتا ہے۔ اسلام ہمیں وقت کے بہاؤ کو نظر انداز کرنے کے بجائے اس کا شعوری محاسبہ اور مثبت استعمال سکھاتا ہے۔

اسی تناظر میں 2025 کا احتساب اور 2026 کی تعمیر محض سالوں کی تبدیلی نہیں بلکہ سوچ، کردار اور سمت کی تبدیلی کی دعوت ہے۔



2025 کا احتساب اور 2026 کی تعمیر  ||  ایک اسلامی فکری و عملی پیغام
2025 کا احتساب اور 2026 کی تعمیر
(ایک اسلامی فکری و عملی پیغام)


وقت کی قدر: قرآن کی روشنی میں

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں وقت کی قسم کھا کر فرماتا ہے:

"وَالۡعَصۡرِۙ‏، اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِىۡ خُسۡرٍۙ‏"

یہ آیت واضح پیغام دیتی ہے کہ اگر انسان وقت کو ایمان، نیک عمل، حق اور صبر کے ساتھ نہ گزارے تو وہ خسارے میں ہے۔ سال کا اختتام ہمیں یہ سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے:

کیا ہم واقعی فائدے میں ہیں یا خسارے میں؟


2025 کا احتساب: خود سے مکالمہ

حضرت عمر فاروقؓ کا قول ہے:

“اپنا محاسبہ خود کر لو، اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے۔”

احتساب کا مطلب صرف غلطیوں کو گننا نہیں بلکہ پوری زندگی پر ایک دیانت دار نظر ڈالنا ہے۔

ہم خود سے کیا سوال کریں؟

  • کیا ہمارا اللہ سے تعلق مضبوط ہوا یا کمزور؟

  • کیا ہماری نماز، دعا اور قرآن سے وابستگی بڑھی؟

  • کیا ہمارے اخلاق بہتر ہوئے یا ہم مزید سخت ہو گئے؟

  • کیا ہم نے دوسروں کے حقوق کا خیال رکھا؟

  • کیا ہم نے وقت، زبان اور صلاحیتوں کا درست استعمال کیا؟

یہ سوالات انسان کو جھنجھوڑتے ہیں، مگر یہی جھنجھوڑ اصلاح کا نقطۂ آغاز بنتا ہے۔


توبہ: احتساب کا سب سے حسین تحفہ

اسلام مایوسی کا دین نہیں۔ اگر کوتاہی ہو بھی جائے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو"

سچی توبہ انسان کو ماضی کے بوجھ سے آزاد کر دیتی ہے اور مستقبل کو روشن کر دیتی ہے۔

اگر 2025 کا حاصل سچی توبہ بن جائے تو یہی 2026 کی کامیاب تعمیر کی بنیاد ہے۔


2026 کی تعمیر: اصلاح کے بعد تشکیل

اسلام میں تعمیر صرف عمارتوں کی نہیں بلکہ انسان کی شخصیت، کردار اور فکر کی ہوتی ہے۔

2026 میں ہمیں کیا تعمیر کرنا ہے؟

1. ایمان کی مضبوطی

مضبوط ایمان ہی مضبوط فیصلے اور پاکیزہ کردار پیدا کرتا ہے۔

2. علم اور شعور

دینی علم کے ساتھ دنیاوی علم، دونوں نیتِ خیر کے ساتھ ہوں تو عبادت بن جاتے ہیں۔

3. مستقل نیک اعمال

چھوٹے مگر مستقل اعمال اللہ کو زیادہ پسند ہیں۔

جوش نہیں، استقامت اصل کامیابی ہے۔

4. اخلاقی کردار

سچائی، برداشت، حیا، دیانت اور رحم—یہی وہ خوبیاں ہیں جو فرد اور معاشرے دونوں کو سنوارتے ہیں۔


فرد سے معاشرہ: اجتماعی تعمیر

اسلام فرد کی اصلاح کو معاشرے سے جدا نہیں کرتا۔

  • بہتر فرد → بہتر خاندان

  • بہتر خاندان → بہتر معاشرہ

  • بہتر معاشرہ → مضبوط امت

2026 کی تعمیر کا مطلب ہے:

  • نفرت کے بجائے خیر خواہی

  • شکایت کے بجائے خدمت

  • انتشار کے بجائے اتحاد


دنیا اور آخرت: توازن کا راستہ

اسلام ہمیں دنیا سے فرار نہیں سکھاتا اور نہ ہی آخرت سے غفلت۔ اصل کامیابی توازن میں ہے:

"اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی"

اختتامیہ

2025 کا احتساب ہمیں جھکنا سکھاتا ہے،

2026 کی تعمیر ہمیں سنبھل کر آگے بڑھنا سکھاتی ہے۔

اگر ہم:

  • احتساب کو سچا بنا لیں

  • توبہ کو نصیب بنا لیں

  • تعمیر کو مقصد بنا لیں

تو ان شاء اللہ ہم آنے والا سال صرف نیا نہیں بلکہ بہتر بنا سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے وقت کا درست محاسبہ کرنے اور آنے والے سال کو ایمان، عمل اور خیر کے ساتھ تعمیر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

مقالات ومضامین

خوش آمدید، یہاں آپ کی آمد ہمارے لیے باعثِ افتخار ہے۔ یہ بلاگ فکر، تہذیب، اور معاشرت کے مختلف پہلوؤں کا آئینہ ہے۔ اگر کوئی تحریر دل کو چھو جائے، سوچ کو مہمیز دے یا نظر کو نیا زاویہ عطا کرے تو یہی اس بلاگ کی اصل کامیابی ہے۔ خوش رہیے، پڑھتے رہیے، اور اظہارِ رائے سے ضرور نوازئے۔ آپ کی رائے ہمارے لیے رہنمائی، اور آپ کی موجودگی حوصلہ افزائی کا باعث ہوگی۔ مفتی محمد خالد سیف اللّٰہ قاسمی ابن محمد جہانگیر اُسراہی، استاذ جامعہ عائشہ صدیقہؓ نورچک

مفتی محمد خالد سیف اللّٰہ قاسمی

استاذ، جامعہ عائشہ صدیقہ نورچک، بسفی، مدھوبنی، بہار۔ علمی، دینی، ادبی اور تحقیقی مضامین کے مصنف۔

مزید تعارف پڑھیں →