قاری شبیر احمد صاحب کی رحلت پر چند تعزیتی کلمات
بعض شخصیات سے ہماری ملاقات کبھی نہیں ہوتی، مگر ان کے علم، کردار اور خدمات کی خوشبو اس طرح ہم تک پہنچتی رہتی ہے کہ وہ اجنبی نہیں رہتیں۔ پھر جب ان کے رخصت ہونے کی خبر آتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارے اپنے حلقے کا کوئی شناسا اچانک ہم سے بچھڑ گیا ہو۔
سوشل میڈیا کے توسط سے یہ نہایت غم ناک اور افسوس ناک خبر موصول ہوئی کہ مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ کے سابق مہتمم جناب قاری شبیر احمد صاحب اس دارِ فانی سے رخصت ہوکر اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
یہ خبر سنتے ہی دل پر رنج و الم کی ایک کیفیت طاری ہوگئی۔ موت اگرچہ ایک اٹل حقیقت ہے؛ ہر ذی روح کو اس کا ذائقہ چکھنا ہے اور ہر آنے والے کو ایک نہ ایک دن یہاں سے رخصت ہونا ہے، لیکن بعض شخصیات کی رحلت محض ایک فرد کی جدائی نہیں ہوتی، بلکہ ان کے جانے سے ایک پورا حلقۂ علم و تربیت سوگوار ہوجاتا ہے اور ایک ایسا خلا محسوس ہونے لگتا ہے جسے پُر ہونے میں ایک مدت درکار ہوتی ہے۔
راقم کو جناب قاری شبیر احمد صاحب سے بالمشافہ ملاقات کا شرف کبھی حاصل نہیں ہوسکا۔ نہ کبھی ان کی مجلس میں بیٹھنے کا موقع ملا اور نہ براہِ راست ان سے استفادے کی سعادت نصیب ہوئی؛ لیکن بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن سے تعارف کے لیے ملاقات ضروری نہیں ہوتی۔ ان کا کام، ان کی خدمات، ان کے شاگرد اور ان سے وابستہ لوگوں کی زبان پر آنے والے تذکرے ہی ان کی شخصیت کا تعارف بن جاتے ہیں۔ قاری شبیر احمد صاحب بھی راقم کے لیے ایسی ہی ایک شخصیت تھے۔
آپ ایک نہایت معروف و مشہور دینی ادارے مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ سے ایک طویل عرصے تک بحیثیت ناظم و مہتمم وابستہ رہے۔ اس ادارے سے تعلق رکھنے والے افراد، اساتذہ اور طلبہ کی معرفت وقتاً فوقتاً آپ کی گوناگوں خوبیوں، انتظامی صلاحیتوں، دینی خدمات اور حسنِ کردار کا ذکر سننے کو ملتا رہا۔ یوں بالمشافہ ملاقات نہ ہونے کے باوجود آپ کی شخصیت اجنبی محسوس نہیں ہوتی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ آج آپ کے انتقال کی خبر سن کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارے اپنے حلقے اور اپنے درمیان کی کوئی جانی پہچانی شخصیت اچانک ہم سے جدا ہوگئی ہو۔ گویا وہ شخص، جسے آنکھوں نے قریب سے نہیں دیکھا تھا، اپنے علمی و دینی اثرات اور لوگوں کی زبان سے سنے ہوئے اوصاف کے ذریعے مدت سے ہمارے درمیان موجود تھا—اور آج اچانک اس کی عدم موجودگی کا احساس دل کو غم زدہ کر رہا ہے۔
اہلِ علم اور خادمانِ دین کی زندگی کا اصل سرمایہ شاید یہی ہوتا ہے کہ ان کی ذات کا فیض ان کی اپنی زندگی تک محدود نہیں رہتا۔ وہ اپنے شاگردوں، اپنے اداروں، اپنی دینی و تعلیمی خدمات اور اپنے حسنِ عمل کے ذریعے لوگوں کے دلوں اور یادوں میں زندہ رہتے ہیں۔ انسان دنیا سے چلا جاتا ہے، مگر اس کے بوئے ہوئے علمی و تربیتی بیج مدتوں ثمر آور ہوتے رہتے ہیں۔
قاری شبیر احمد صاحب کی رحلت یقیناً ان کے اہلِ خانہ، متعلقین، شاگردوں اور مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ سے وابستہ تمام افراد کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔ اس غم کی گھڑی میں ہم سب ان کے اہلِ خانہ، اعزہ و اقارب، شاگردوں اور متعلقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی تمام دینی، علمی اور تعلیمی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی بشری لغزشوں اور کوتاہیوں کو درگزر فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، منازلِ آخرت کو آسان فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔
اللہ رب العزت ان کے اہلِ خانہ، پسماندگان، شاگردوں، متعلقین اور مدرسے سے وابستہ تمام افراد کو اس عظیم صدمے پر صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم عطا فرمائے، اور مرحوم نے دین و علم کی جو شمع روشن رکھنے میں اپنی زندگی صرف کی، اسے آنے والی نسلوں کے لیے بھی روشن و تاباں رکھے۔ آمین یا رب العالمین
---
تعزیتی پیغام
قاری شبیر احمد صاحب سے بالمشافہ ملاقات کی سعادت اگرچہ کبھی نصیب نہ ہوسکی، مگر ان کی رحلت کی خبر نے دل کو گہرے طور پر متاثر کیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کسی صاحبِ علم و خدمت کی پہچان صرف ذاتی ملاقات کی محتاج نہیں ہوتی؛ اس کے شاگرد، متعلقین، خدمات اور لوگوں کے دلوں میں موجود اس کی نیک یادیں بھی اس کا تعارف بن جاتی ہیں۔
میں اپنی جانب سے قاری شبیر احمد صاحب کے اہلِ خانہ، اعزہ و اقارب، شاگردوں، متعلقین اور بالخصوص مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ کے تمام اساتذہ و طلبہ کی خدمت میں دلی تعزیت پیش کرتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ اس سانحۂ ارتحال پر سبھی متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، مرحوم کی دینی و علمی مساعی کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے اور ان کی مغفرت فرما کر اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔
دعاگو و غم گسار: راقم الحروف محمد خالد سیف اللہ قاسمی استاذ حدیث جامعہ عائشہ صدیقہؓ نورچک، بسفی، مدھوبنی، بہار
