بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

صدقہ: حقیقت، احکام اور ثمرات (ایک جامع علمی مطالعہ)

صدقہ کا مفہوم اور ایمانی بنیاد

صدقہ کا لغوی مادہ ’’صدق‘‘ ہے، جس کے معنی سچائی کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں اللّٰہ کی رضا کے لیے اپنا مال یا نفع بخش عمل دوسروں کے لیے وقف کرنا صدقہ کہلاتا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بندہ اپنے دعویٰ ایمان میں سچا ہے؛ کیوں کہ انسان کو اپنا مال جان سے عزیز ہوتا ہے اور عزیز چیز کو اللّٰہ کے لیے قربان کرنا ہی سچائی ہے۔

صدقہ: حقیقت، احکام اور ثمرات (ایک جامع علمی مطالعہ)
صدقہ: حقیقت، احکام اور ثمرات (ایک جامع علمی مطالعہ)

اللّٰہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

﴿لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ (آل عمران: 92)

ترجمہ: تم ہرگز نیکی (کے اعلیٰ درجے) کو نہیں پا سکتے جب تک کہ تم اپنی پسندیدہ چیزوں میں سے (اللّٰہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو، اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو اللّٰہ اُسے خوب جاننے والا ہے۔

اس میں اللّٰہ کی طرف سے بندوں کو ترغیب ہے کہ وہ نیکی کے کاموں میں خرچ کریں، چنانچہ فرمایا : ﴿لَن تَنَالُوا الْبِرَّ ﴾ ”تم ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے“ یعنی تم کبھی ’’بر“ حاصل نہیں کرسکو گے۔” بر“ میں ہر قسم کے نیکی اور ثواب کے کام شامل ہیں جو کرنے والے کو جنت میں پہنچاتے ہیں۔ ﴿حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ ”جب تک تم ان چیزوں میں سے جو تمہیں عزیز ہیں (اللّٰہ کی راہ میں) صرف نہ کرو گے۔“ یعنی جب تم مال کی محبت پر اللّٰہ کی محبت کو ترجیح دیتے ہوئے اللّٰہ کی رضامندی کے کاموں میں مال خرچ کرو گے تو اس سے ثابت ہوگا کہ تمہارا ایمان سچا ہے اور تمہارے دلوں میں نیکی اور تقویٰ موجود ہے۔ اس میں عمدہ اشیاء خرچ کرنا بھی شامل ہے اور خود ضرورت مند ہوتے ہوئے ضرورت کی چیز اللّٰہ کی راہ میں دے دینا بھی اور صحت کی حالت میں خرچ کرنا بھی۔

سیدنا انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ  تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللّٰہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے، اُنہوں نے عرض کیا کہ اے اللّٰہ کے رسول ﷺ! مجھے اپنے تمام باغات میں سے بئرحاء کا باغ سب سے زیادہ محبوب ہے۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بئرحاء تو فنا ہونے والا مال ہے (جبکہ اس کا اجر باقی رہیگا) یا فرمایا کہ بئر حاء بڑا نفع بخش باغ ہے۔“ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں اس باغ کے ذریعے سے اللّٰہ تعالیٰ کا قرب چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اپنے قرابت داروں میں تقسیم کردو۔“ چنانچہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللّٰہ عنہ نے اپنے قرابت داروں کو اس باغ کے باغیچے تقسیم کر دیئے۔ (صحيح ابن خزيمہ)

رسول اللّٰہ ﷺ نے اس کی اہمیت واضح کرتے ہوئے فرمایا:

«وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ» (صحیح مسلم)

ترجمہ: اور صدقہ (ایمان کی) دلیل ہے۔

صدقہ انسان کی سچائی، ایمان، اخلاص اور اللّٰہ پر بھروسے کی دلیل ہوتا ہے، جو اللّٰہ کے لیے دیتا ہے وہ اپنی محبتِ الٰہی کو ثابت کرتا ہے۔ صدقہ بندے کے ایمان اور اس کی خیر خواہی کی عملی شہادت ہے۔

صدقہ کی اقسام اور درجہ بندی

اسلام نے صدقہ کے دائرہ کار کو اس قدر وسیع رکھا ہے کہ ایک غریب انسان بھی اس کی فضیلت سے محروم نہیں رہتا، چنانچہ اسلامی شریعت میں صدقہ کی تقسیم ضرورت اور اہمیت کے لحاظ سے مختلف درجات میں کی گئی ہے:

صدقۂ واجبہ (فرض صدقات)

یہ وہ صدقات ہیں جو فرض یا واجب ہیں، جن کا ادا کرنا شرعاً لازم ہے، ان کا منکر کافر اور تارک گناہگار ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک زکوٰۃ ہے، اللّٰہ نے اسے نماز کے ساتھ جوڑ کر بیان فرمایا ہے:

﴿وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ

ترجمہ: اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔

زکوٰۃ اسلام کا تیسرا اہم رکن ہے اور صاحبِ نصاب مسلمان (عاقل و بالغ) پر فرض عین ہے، یہ سال میں ایک بار مالِ تجارت، سونا، چاندی یا نقدی پر واجب ہوتی ہے، یعنی جس کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا ان کی مالیت کے برابر نقدی یا تجارت کا سامان موجود ہو اور اس پر ایک سال گزر جائے تو ڈھائی فیصد (2.5%) کی شرح سے اس کی زکوٰۃ ادا کرنا اس پر واجب ہے، اور اِس کا مقصد معاشرتی فلاح اور غرباء و مستحقین کی مدد ہے۔

دوسرا صدقۂ فطر ہے، رسول اللہ ﷺ نے اسے روزوں کی پاکیزگی کے لیے مقرر فرمایا ہے:

«فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَةً لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ» (سنن ابی داؤد)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے زکوٰۃ الفطر (صدقۂ فطر) کو روزے دار کے لیے لغویات اور بے ہودہ باتوں سے پاکی اور مسکینوں کے کھانے کا انتظام کرنے کے لیے فرض قرار دیا۔

جو مسلمان اتنا مال دار ہے کہ اس پر زکاۃ واجب ہے یا اس پر زکاۃ واجب نہیں، لیکن قرض اور ضروری اسباب سے زائد اتنی قیمت کا مال یا اسباب اس کی ملکیت میں موجود ہے جس کی مالیت ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو اس پر عیدالفطر کے دن صدقہ دینا واجب ہے، چاہے وہ تجارت کا مال ہو یا تجارت کا مال نہ ہو، چاہے اس پر سال گزر چکا ہو یا نہ گزرا ہو۔ اس صدقہ کو صدقۂ فطر کہتے ہیں۔

جس طرح مال دار ہونے کی صورت میں مردوں پر صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے اسی طرح اگر عورت مال دار صاحب نصاب ہے یا اس کی ملکیت میں قرضہ اور ضروری اسباب سے زائد اتنی قیمت کا مال وغیرہ ہے جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے، مثلاً اس کے پاس زیور ہے جو والدین کی طرف سے ملا ہے یا شوہر نے نصاب کے برابر زیور عورت کو بطور ملکیت دیا ہے، یا مہر میں اتنا زیور ملا جو نصاب کے برابر ہے تو عورت کو بھی اپنی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے، ہاں اگرشوہر اس کی طرف سے اسے بتاکر ادا کردے تو ادا ہوجائے گا۔

مال دار عورت پر اپنا صدقۂ فطر ادا کرنا تو واجب ہے، لیکن اس پر کسی اور کی طرف سے ادا کرنا واجب نہیں، نہ بچوں کی طرف سے نہ ماں باپ کی طرف سے، نہ شوہر کی طرف سے۔

البتہ مال دار آدمی کے لیے صدقۂ فطر اپنی طرف سے بھی ادا کرنا واجب ہے، اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے بھی، نابالغ اولاد اگر مال دار ہو تو ان کے مال سے ادا کرے اور اگر مال دار نہیں ہے تو اپنے مال سے ادا کرے۔ بالغ اولاد اگر مال دار ہے تو ان کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا باپ پر واجب نہیں، ہاں اگر باپ ازخود ادا کردے گا تو صدقۂ فطر ادا ہوجائے گا۔

صدقۂ جاریہ (پائیدار صدقہ)

ایسی نیکی جس کا فائدہ طویل عرصے تک رہے اور مرنے کے بعد بھی ثواب ملتا رہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ» (صحیح مسلم)

ترجمہ: جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، یا ایسا علم جس سے نفع اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔

یہ حدیثِ نبوی ﷺ انسان کے لیے موت کے بعد بھی اعمالِ صالحہ کا ثواب جاری رکھنے کا عظیم نسخہ ہے۔ انسان کی موت کے بعد اعمال ختم ہو جاتے ہیں، لیکن یہ تین چیزیں اس کے لیے نیکیوں کا سلسلہ جاری رکھتی ہیں۔

صدقہ جاریہ (Ongoing Charity) ایسی نیکی ہے جس کا فائدہ طویل عرصے تک رہے، جیسے مساجد، ہسپتال، کنویں بنوانا، یا درخت لگانا، اس کا ثواب مسلسل ملتا رہتا ہے۔ یہ اعمال انسان کی قبر کی زندگی کو روشن اور آسان بنا دیتے ہیں۔

خلاصہ یہ کہ یہ حدیث مسلمانوں کو ترغیب دیتی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ایسے مستقل اعمال چھوڑ کر جائیں جن کا فائدہ ان کے بعد بھی دنیا کو پہنچتا رہے اور ان کا ’’نامۂ اعمال‘‘ قیامت تک کھلا رہے۔

صدقہ کے آداب اور شرائط

صدقہ کی قبولیت کے لیے چند اہم شرائط ہیں، جن کے بغیر وہ محض ایک دنیاوی خیرات بن کر رہ جاتا ہے:

اخلاص اور دکھاوے سے پرہیز

اخلاص کا مطلب ہر نیک عمل کو صرف اللہ کی رضا کے لیے خالص کرنا ہے، جبکہ دکھاوا (ریا کاری) عبادت کو برباد اور شرکِ اصغر کا باعث بنتا ہے۔ دکھاوے سے بچنے کے لیے نیت کی اصلاح، چھپ کر عبادت کرنے اور شہرت کی خواہش کو چھوڑنے کی ضرورت ہے، تاکہ اعمال مقبول ہوں۔

ارشاد باری تعالی ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ (البقرة: 264)

ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور تکلیف دے کر ضائع نہ کرو۔

اعمال میں خلوت (تنہائی) کو اختیار کرنا، اپنی نیتوں کا محاسبہ کرنا اور شہرت و نمائش سے دوری اختیار کرنا ریا کاری سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے۔

دکھاوے سے بچنے کا واحد حل یہ ہے کہ انسان اپنے ہر عمل میں صرف اللہ کی خوشنودی تلاش کرے، نہ کہ لوگوں کی تعریف۔

حلال کمائی کا ہونا

اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ چیز قبول فرماتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا» (صحیح مسلم)

ترجمہ: بیشک اللہ پاک ہے اور وہ صرف پاکیزہ (حلال) چیز ہی قبول فرماتا ہے۔

اس حدیثِ نبوی ﷺ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور افعال ہر قسم کے عیب اور ناپاکی سے پاک ہیں۔ اس لیے، اللہ تعالیٰ صرف حلال، جائز اور پاکیزہ کمائی، نیک اعمال اور سچے عقائد کو قبول فرماتا ہے۔ حرام کمائی، جیسے رشوت، سود، چوری یا ظلم سے حاصل کردہ مال سے کیا گیا صدقہ یا نیکی اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوتی۔ حرام کھانے والے کی دعا بھی قبول نہیں ہوتی۔ مختصراً، یہ حدیث اس بات پر زور دیتی ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں مقبولیت کے لیے مال، عمل اور نیت کا پاکیزہ ہونا ضروری ہے۔

پوشیدگی کا اہتمام

اگرچہ علانیہ دینا جائز ہے، مگر چھپا کر دینا اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ ۖ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ (البقرة: 271)

ترجمہ: اگر تم صدقات کو ظاہر کر کے دو تو یہ بھی اچھا ہے، اور اگر تم انہیں چھپاؤ اور فقیروں کو دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔

آیت کا مفہوم یہ ہے کہ”اگر تم صدقے خیرات کو ظاہر کرو۔“ یعنی علانیہ خیرات کرو، جبکہ اس کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہو” تو وہ بھی اچھا ہے۔“؛ کیونکہ اس سے مقصود حاصل ہوجاتا ہے۔” اور اگر تم اسے پوشیدہ مسکینوں کو دے دو، تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔“ اس میں یہ نکتہ ہے کہ غریب آدمی کو پوشیدہ طور پر صدقہ دینا، ظاہر کر کے دینے سے افضل ہے؛ لیکن جب غریبوں کو صدقات نہ دیے جا رہے ہوں تو اس آیت میں اشارہ ہے کہ اس صورت میں پوشیدہ طور پر صدقہ کرنا ظاہر کرنے سے افضل نہیں۔ یعنی اس کا دار و مدار مصلحت اور فائدے پر ہے۔ اگر اس کے ظاہر کرنے سے ایک دینی حکم کی اشاعت ہوتی ہو اور امید ہو کہ دوسرے لوگ بھی یہ نیک کام کرنے لگیں گے، تو چھپانے کی نسبت ظاہر کر کے دینا افضل ہوگا۔

مستحقینِ صدقہ (کس کا حق زیادہ ہے؟)

مستحقینِ صدقہ (واجبہ و فطرہ) وہ غریب، محتاج اور ضرورت مند افراد ہیں جو صاحبِ نصاب نہ ہوں، یعنی ان کے پاس ضروریاتِ اصلیہ کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کا سونا/چاندی یا نقدی نہ ہو۔

مستحقینِ صدقہ کے سلسلے میں قرآن و حدیث نے ترجیحات طے کی ہیں؛ تاکہ معاشرے کا نظام مربوط رہے۔

رشتہ دار: اس کو دینے میں دو گنا اجرو ثواب ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ: صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ» (جامع ترمذی)

ترجمہ: مسکین کو صدقہ دینا ایک صدقہ ہے، اور رشتہ دار کو دینا دو (نیکیاں) ہیں: ایک صدقہ اور دوسرا صلہ رحمی۔

مفلس ومحتاج قرابت دار اپنے قرب کی وجہ سے زیادہ مستحق ہے، لہٰذا اسے دینے میں دگنا ثواب ہے۔ صدقے کا بھی اور صلہ رحمی کا بھی، مگر جس قرابت دار کے اخراجات کی ذمہ داری زکاۃ دینے والے پر ہے، اسے وہ زکاۃ نہیں دے سکتا، مثلاً: بیوی، بچے، ماں، باپ۔ البتہ بہن بھائیوں کو، جو الگ رہتے ہوں، زکاۃ دے سکتا ہے۔

یتامیٰ اور بیوائیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا» (صحیح البخاری)

ترجمہ: میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے (اور آپ ﷺ نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی سے اشارہ فرمایا)۔

الغرض رشتہ داروں، علمائے کرام، طلبہٴ عظام مقروض اور سخت ضرورت مند لوگوں کو دیگر مستحقین زکاة پر مقدم رکھنا افضل وبہتر ہے۔

صدقہ کے فوائد اور ثمرات

صدقہ کے روحانی، مادی اور اخروی فوائد اور ثمرات بے حساب ہیں، صدقہ اسلام میں ایک اہم ترین نیکی ہے جو اللہ کی رضا، بلاؤں سے حفاظت، رزق میں برکت، گناہوں کی معافی، اور قیامت کے دن سائے کا باعث بنتا ہے۔ یہ نہ صرف مال کی حفاظت کرتا ہے بلکہ دل کو سکون دیتا ہے اور عذاب قبر و جہنم سے بچاتا ہے۔

مال میں برکت اور اضافہ

صدقہ مال اور رزق میں برکت کا سبب ہے، لہٰذا یہ گمان کہ صدقہ کرنے سے مال گھٹ جائے گا، یہ شیطانی دھوکہ اور نفسانی وسوسہ ہے، شیطان دل میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ صدقہ سے مال گھٹ جائے گا، اللہ کہتا ہے: میں بڑھاؤں گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ (البقرة: 276)

ترجمہ: اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔

مصیبتوں اور بیماریوں سے بچاؤ

صدقہ بیماریاں اور مصیبتیں ٹالتا ہے، کیونکہ یہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا عمل ہے جو انسان کو مشکلات سے بچاتا ہے۔ صدقہ کے ذریعہ سے بلاؤں کاٹلنامختلف احادیث میں منقول ہے، جیساکہ صحیح الجامع میں ہے:

«دَاوُوا مَرْضَاكُمْ بِالصَّدَقَةِ» (صحیح الجامع)

ترجمہ: اپنے مریضوں کا علاج صدقہ کے ذریعے کرو۔

اور حضرت انسؓ سے مرفوعاً روایت ہے:

«ما عولج مريض بدواء أفضل من الصدقة» (المقاصد الحسنة، ص: 309)

ترجمہ: کسی بیمار کے علاج کے لیے صدقے سے بہتر کوئی دوا نہیں ہے۔

یہ کلام نبوی ﷺ کے مفہوم پر مبنی ہے، جو بتاتا ہے کہ مادی ادویات کے ساتھ ساتھ صدقہ (خیرات) روحانی اور جسمانی شفا کا ایک انتہائی مؤثر ذریعہ ہے، جو بیماریوں اور آفات کو ٹالتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ طبی علاج کے ساتھ صدقہ کرنا شفا کی امید کو بڑھاتا ہے اور اللہ کی رحمت کو متوجہ کرتا ہے اور یہ کہ مادی علاج (دوا) کے ساتھ ساتھ صدقہ کرنا بیمار کی جلد صحت یابی کے لیے ایک عظیم روحانی نسخہ ہے۔

غضبِ الٰہی اور بری موت سے حفاظت

اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے گناہوں کی وجہ سے آنے والا اللہ کا غضب ختم ہوتا ہے اور انسان اچانک یا عبرت ناک موت جیسی آفتوں سے محفوظ رہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إن الصدقة لتطفئ غضب الرب وتدفع عن ميته السوء» (سنن الترمذی)

ترجمہ: صدقہ اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرتاہے اور بری موت سے بچاتاہے۔

یہ حدیث ہمیں ترغیب دیتی ہے کہ آفات سے بچنے اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے صدقہ و خیرات کو معمول بنائیں۔

قیامت کے دن کا سایہ

وہ دن جب کوئی سایہ نہ ہوگا، صدقہ بندے کا سائبان بنے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«كُلُّ امْرِئٍ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ حَتَّى يُفْصَلَ بَيْنَ النَّاسِ» (مسند احمد)

ترجمہ: ہر آدمی (قیامت کے دن) اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے۔

یہ حدیث صدقہ کی فضیلت اور اہمیت کو بیان کرتی ہے اور مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ خیرات کرنے کی ترغیب دیتی ہے، تاکہ وہ آخرت کے دن اللہ کے سائے میں رہ سکیں۔ قیامت کے ہولناک دن، جب سورج قریب ہوگا، انسان کی دی گئی صدقہ و خیرات اسے گرمی اور پریشانی سے بچائے گی اور اس کے لیے سایہ اور تحفظ کا ذریعہ بنے گی۔

صدقہ اور جدید دور

جدید دور میں صدقہ کے تقاضے بدل گئے ہیں۔ اب محض روٹی کھلا دینا کافی نہیں، بلکہ معاشرے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ضروری ہے۔ جیسے کہ تعلیمی تعاون مثلاً کسی غریب بچے کو تعلیم دلوانا تاکہ وہ نسلوں کی غربت مٹا سکے۔ طبی سہولیات مثلاً ہسپتالوں میں آلات یا ادویات فراہم کرنا۔ پانی کا انتظام مثلاً واٹر فلٹریشن پلانٹ لگانا، جو کہ بہترین صدقہ ہے:

«أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: سَقْيُ الْمَاءِ» (سنن نسائی)

ترجمہ: کون سا صدقہ سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پانی پلانا۔

خلاصہ کلام

صدقہ وہ بیج ہے جو زمین پر بویا جاتا ہے مگر اس کا پھل عرشِ الٰہی کے سائے میں ملتا ہے۔ یہ بخل کی زنجیریں توڑنے اور انسانیت سے محبت کرنے کا نام ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ ہم پر رحم کرے، تو ہمیں اس کے بندوں پر خرچ کرنا ہوگا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنفُسِكُمْ (البقرة: 272)

ترجمہ: اور تم جو کچھ بھی بھلائی (مال) خرچ کرتے ہو، وہ تمہارے اپنے ہی فائدے کے لیے ہے۔

***