بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تحریر لوڈ ہو رہی ہے...

ہندوستان میں مدارس کا کردار، آئینی حیثیت اور بے بنیاد الزامات کی حقیقت

ہندوستان ایک ایسا عظیم جمہوری ملک ہے جس کی بنیاد مذہبی آزادی، ثقافتی تنوع اور آئین کی بالادستی پر قائم ہے۔ اس ملک کا آئین ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، اپنی مذہبی تعلیم کے مراکز قائم کرنے اور اپنی تہذیبی و تعلیمی شناخت کو محفوظ رکھنے کا بنیادی حق دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں نے اپنے اپنے تعلیمی، مذہبی اور سماجی ادارے قائم کیے ہیں، جنہیں آئین کی مکمل حفاظت حاصل ہے۔


ہندوستان میں مدارس کا کردار، آئینی حیثیت اور بے بنیاد الزامات کی حقیقت

مسلمانوں کے دینی تعلیمی مراکز، یعنی مدارس، بھی اسی آئینی حق کے تحت قائم ہیں۔ مدارس محض درس گاہیں نہیں بلکہ اخلاق، کردار، روحانیت، خدمتِ خلق اور دینی علوم کے مراکز ہیں۔ ان اداروں نے صدیوں سے ایسے افراد تیار کیے ہیں جنہوں نے معاشرے میں امن، رواداری، دیانت داری اور انسانی اقدار کو فروغ دیا ہے۔ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں بھی متعدد علماء اور مدارس سے وابستہ شخصیات نے نمایاں کردار ادا کیا، جس کا اعتراف تاریخ کے مستند صفحات میں موجود ہے۔

آج بھی ہزاروں مدارس ایسے علاقوں میں تعلیم کی خدمت انجام دے رہے ہیں جہاں غریب اور پسماندہ طبقے کے بچوں کے لیے معیاری تعلیم کے وسائل محدود ہیں۔ مدارس میں قرآن، حدیث، فقہ، عربی زبان اور اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ متعدد اداروں میں عصری مضامین بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ ان اداروں کا بنیادی مقصد بااخلاق، ذمہ دار اور قانون پسند شہری تیار کرنا ہے۔

افسوس کا مقام ہے کہ وقتاً فوقتاً بعض سیاسی شخصیات، مصنفین یا عوامی زندگی سے وابستہ افراد مدارس کے بارے میں ایسے بیانات دیتے ہیں جن میں انہیں شدت پسندی یا دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس نوعیت کے عمومی الزامات نہ صرف بے بنیاد ہوتے ہیں بلکہ وہ لاکھوں طلبہ، اساتذہ اور دینی خدمت انجام دینے والے افراد کی عزت و وقار کو بھی مجروح کرتے ہیں۔ اگر کسی فرد یا ادارے پر قانون شکنی کا کوئی الزام ہو تو اس کی جانچ اور فیصلہ قانون کے مطابق ہونا چاہیے، لیکن پورے نظامِ مدارس یا کسی مذہبی طبقے کو اجتماعی طور پر موردِ الزام ٹھہرانا انصاف، آئینی مساوات اور اخلاقی ذمہ داری کے خلاف ہے۔

اسی طرح کسی بھی ادیب، دانشور یا عوامی شخصیت کی طرف سے مدارس یا کسی مذہبی ادارے کے بارے میں تحقیر آمیز یا اشتعال انگیز زبان استعمال کرنا ایک مہذب اور کثرت پسند معاشرے کے شایانِ شان نہیں۔ اختلافِ رائے ہر جمہوریت کا حسن ہے، لیکن اختلاف کو نفرت، تمسخر یا عمومی الزام تراشی کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ دلیل کا جواب دلیل سے دیا جانا چاہیے، نہ کہ تعمیم، اشتعال انگیزی یا نفرت انگیز بیانات سے۔

ہندوستان کا آئین ہر مذہب کے پیروکاروں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنے مذہبی اور تعلیمی ادارے قائم کریں اور ان کا انتظام کریں، بشرطیکہ وہ ملک کے قوانین کی پابندی کریں۔ جس طرح ہندو، سکھ، عیسائی، بدھ، جین اور دیگر مذاہب کے تعلیمی و مذہبی اداروں کو اپنے عقائد کے مطابق کام کرنے کی آزادی حاصل ہے، اسی طرح مسلمانوں کے مدارس بھی اسی آئینی تحفظ اور مساوی احترام کے مستحق ہیں۔ جمہوری معاشرے میں کسی ایک مذہب کے اداروں کو نشانہ بنانا یا ان کے بارے میں عمومی منفی تاثر پیدا کرنا آئینی مساوات اور سماجی ہم آہنگی دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ مدارس کے لاکھوں فارغین مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ مساجد میں امامت و خطابت، دینی تعلیم، سماجی اصلاح، رفاہی خدمات، مصالحتی کردار، اخلاقی تربیت اور انسان دوستی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ قدرتی آفات اور انسانی بحرانوں کے مواقع پر بھی متعدد دینی ادارے اور ان کے وابستگان امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ اس لیے مدارس کو صرف تعصبات یا سیاسی بیانیوں کی بنیاد پر دیکھنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مدارس کے بارے میں گفتگو حقائق، تحقیق اور ذمہ دارانہ انداز میں کی جائے۔ اگر کسی تعلیمی ادارے میں بہتری کی ضرورت ہو تو اس پر تعمیری مکالمہ ہونا چاہیے، لیکن پورے نظام کو بدنام کرنا نہ علمی دیانت ہے اور نہ ہی جمہوری اقدار کے مطابق۔

ہندوستان کی اصل طاقت اس کی گنگا جمنی تہذیب، مذہبی رواداری اور آئینی مساوات میں پوشیدہ ہے۔ اس طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر مذہب کے ماننے والوں کے عقائد، عبادت گاہوں اور تعلیمی اداروں کا یکساں احترام کیا جائے۔ نفرت انگیز بیانات، اجتماعی الزام تراشی اور مذہبی منافرت نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ ملک کے آئینی اور جمہوری تشخص کو بھی کمزور کرتی ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ مدارس ہندوستان کی تعلیمی و مذہبی روایت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ان کے بارے میں کوئی بھی رائے حقائق، قانون اور انصاف کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے، نہ کہ تعصب یا سیاسی اختلاف پر۔ ایک مضبوط، پرامن اور ترقی یافتہ ہندوستان اسی وقت ممکن ہے جب تمام شہریوں اور تمام مذہبی اداروں کے آئینی حقوق کا احترام کیا جائے اور اختلافِ رائے کو شائستگی، انصاف اور باہمی احترام کے دائرے میں رکھا جائے۔

***