"شبِ قدر" کائنات کی تمام راتوں میں سب سے بہترین اور عظیم الشان رات ہے۔ اللّٰہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے اسی مبارک شب میں قرآنِ مجید نازل فرمایا۔ ربِ ذوالجلال نے خود ہمیں اس کی عظمت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک رات "ہزار مہینوں" سے بہتر ہے، یہ سراپا برکت ہے اور اسی میں تمام حکمت والے معاملات کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ جیسا کہ سورۃ الدخان کے آغاز میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
حم وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ أَمْرًا مِّنْ عِندِنَا إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ [الدخان:1-6]
ترجمہ: حٰمٓ! اس واضح کتاب کی قسم کہ ہم نے اس کو ایک برکت والی رات میں اُتارا ہے؛ (کیوں کہ) ہم خبر دار کرنے والے ہیں، اس رات میں ہمارے ہی حکم سے ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ کیا جاتا ہے، یقینًا ہم ہی (آپ کو) پیغمبر بنانے والے ہیں، جو آپ کے پروردگار کی رحمت ہے، یقیناً اللّٰہ بہت سننے والے اور جاننے والے ہیں۔
اسی طرح سورۃ القدر میں اس رات کی منزلت بیان کرتے ہوئے اللّٰہ عزوجل نے فرمایا:
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [القدر:1-5]
ترجمہ: ہم نے قرآن کو شبِ قدر میں اُتارا ہے، اور آپ کو معلوم ہے کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جس میں فرشتے اور روح القدس (جبرئیلؑ) اپنے رب کی اجازت سے ہر حکم کو لے کر اُترتے ہیں، یہ رات سراپا سلامتی ہے، جو صبح ہونے تک رہتی ہے۔
یہ پوری سورت اس حقیقت کی شاہد ہے کہ اس ایک رات کی جانے والی عبادت، ہزار مہینوں کی راتوں کی عبادت سے افضل و برتر ہے۔ یہ اللّٰہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر خاص رحمت اور ایک ایسا عظیم احسان ہے جس کا شکر ادا کرنا انسانی بس سے باہر ہے۔ اس لیے مسلمانوں کے لیے یہ نہایت موزوں ہے کہ وہ اس رات کی قدر کریں اور خود کو مکمل طور پر عبادت کے لیے وقف کر دیں۔
![]() |
| شبِ قدر: فضیلت، اہمیت اور پیغامِ سعادت |
حصولِ مغفرت اور فضیلتِ قیام
رسول اللّٰہ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے اس رات کے اجر کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا:
«مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» [البخاري: 7060]
ترجمہ: جس نے ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے (خلوصِ دل کے ساتھ) شبِ قدر میں قیام کیا (عبادت کی)، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے گئے۔
واضح رہے کہ اس رات کے قیام اور عبادت میں نماز، ذکرِ الٰہی، دعا، تلاوتِ قرآن اور دیگر تمام نیک اعمال شامل ہیں۔
تلاشِ شبِ قدر اور معمولِ نبوی ﷺ
رسول اللّٰہ ﷺ نے ہمیں ہدایت فرمائی کہ یہ مبارک رات رمضان کے آخری عشرے میں آتی ہے اور اس کے پچھلے پہر یا طاق راتوں میں اس کا امکان دیگر راتوں سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ آپ ﷺ کا فرمانِ مبارک ہے:
«الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، الْتَمِسُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ» [صحيح البخاري]
ترجمہ: اسے رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو اور ہر طاق رات میں تلاش کرو۔
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ رات عشرہِ اخیرہ کی راتوں میں گردش کرتی رہتی ہے اور ہمیشہ کسی ایک مخصوص رات (جیسے صرف 27 ویں) میں مقید نہیں ہوتی۔ یہ 21 ویں، 23 ویں، 25 ویں، 27 ویں (جس کا امکان زیادہ ہے)، 29 ویں یا کبھی جفت (جوڑے عدد) والی راتوں میں بھی ہو سکتی ہے۔ لہٰذا جو شخص پورے آخری عشرے کی تمام دس راتیں ایمان اور احتساب کے ساتھ عبادت میں گزارے گا، وہ یقیناً اس خیرِ کثیر کو پا لے گا اور اس انعام کا مستحق ٹھہرے گا جس کا اللّٰہ نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللّٰہ ﷺ ان آخری دس راتوں میں عبادت کا وہ خاص اہتمام فرماتے تھے جو عام دنوں میں نہیں ہوتا تھا:
«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ»
ترجمہ: رسول اللّٰہ ﷺ آخری عشرے میں جتنی محنت کرتے تھے اور دنوں میں اتنی محنت نہیں کرتے تھے۔
نیز آپؓ فرماتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا، تو آپ ﷺ رات بھر بیدار رہتے، گھر والوں کو جگاتے اور پوری تندہی سے عبادت میں جٹ جاتے۔
«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَحْيَا اللَّيْلَ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ وَجَدَّ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ» [صحيح مسلم]
ترجمہ: جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی اکرم ﷺ رات کو جاگتے، اپنے گھر والوں کو جگاتے اور کمر کس لیتے۔ (کمر کس لینے سے مراد یا تو عبادت کے لیے انتہائی محنت کرنا ہے یا ازواجِ مطہرات سے علیحدگی اختیار کر کے تنہائی میں رب سے لو لگانا ہے)۔
اسی عشرے میں آپ ﷺ اکثر اعتکاف بھی فرمایا کرتے تھے۔ قرآن کہتا ہے: «لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» (ترجمہ: یقیناً تمہارے لیے رسول اللّٰہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے)۔
مسنون دعا
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللّٰہ کے رسول ﷺ! اگر مجھے شبِ قدر کا علم ہو جائے تو میں کیا دعا مانگوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کہو:
«اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي» [سنن الترمذي]
ترجمہ: اے اللّٰہ! تو معاف کرنے والا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے، لہٰذا مجھے معاف فرما دے۔
صحابہ کرامؓ اور صالحینِ امت ہمیشہ ان دس راتوں کی بے حد تعظیم کرتے اور ان میں خیر کے کاموں میں سبقت لے جاتے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے نبی ﷺ، صحابہؓ اور اسلاف کی پیروی کرتے ہوئے ان راتوں کو غفلت میں نہ گزاریں، بلکہ تلاوت، ذکر، استغفار اور توبہ میں مشغول رہیں تاکہ اللہ کے اجر کے مستحق بنیں۔
کبیرہ گناہوں سے بچنے کی شرط
یاد رہے کہ مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ ان لوگوں کے لیے ہے جو کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتے ہیں، جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِن تَجْتَنِبُواْ كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا [النساء:31]
ترجمہ: اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچو گے جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے، تو ہم تم سے تمہارے چھوٹے گناہ مٹا دیں گے اور تمہیں (عزت کے مقام) جنت میں داخل کریں گے۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ، مُكَفِّرَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِرُ» [صحيح مسلم]
ترجمہ: پانچوں وقت کی نمازیں، ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک ان دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے۔
توبہ میں استقامت اور ایک اہم تنبیہ
ایک اہم بات جس سے باخبر رہنا ضروری ہے وہ یہ کہ بعض لوگ صرف رمضان میں نیک بنتے ہیں اور پچھلے گناہوں پر توبہ کرتے ہیں، لیکن جوں ہی رمضان گزرتا ہے، وہ پھر سے انہی برے اعمال کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔ یہ ایک سنگین صورتحال اور بڑا خطرہ ہے۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت پر قائم رہے اور گناہوں کو مستقل چھوڑنے کا عزم کرے، کیونکہ اللہ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا:
وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ [الحجر:99]
ترجمہ: اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہیں موت (کا یقین) آ جائے۔
اور مزید ارشاد فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ [آل عمران:102]
ترجمہ: اے ایمان والو! اللّٰہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔
استقامت اختیار کرنے والوں کے لیے ربِ کریم کا انعام بہت بڑا ہے:
إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ استَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ [فصلت:30-32]
ترجمہ: بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللّٰہ ہے، پھر وہ ثابت قدم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوں گے اور کہیں گے کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو، بلکہ خوشخبری سنو اس جنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ دنیا اور آخرت میں ہم تمہارے ساتھی ہیں۔ اس میں تمہارے لیے وہ سب کچھ ہوگا جو تمہارا جی چاہے گا اور جو تم طلب کرو گے۔ یہ بخشنے والے مہربان (خدا) کی طرف سے مہمانی کے طور پر ہو گا۔
ان آیات کا مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ اللّٰہ پر ایمان لانے اور خلوصِ دل سے اس کی عبادت کرنے کے بعد اس پر ڈٹ جاتے ہیں، انہیں موت کے وقت فرشتے خوف اور غم سے نجات کی نوید دیتے ہیں۔ انہیں جنت کی خوشخبری سنائی جاتی ہے کیونکہ انہوں نے اللّٰہ کی اطاعت میں ثابت قدمی دکھائی، نافرمانیوں کو ترک کیا اور مخلصانہ زندگی گزاری۔
قرآنِ پاک کی بہت سی آیات اسی بات پر زور دیتی ہیں کہ حق پر جمے رہنا ضروری ہے اور نافرمانی پر اصرار کرنا ہلاکت کا باعث ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَسَارِعُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاء وَالضَّرَّاء وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُواْ فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُواْ أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُواْ اللّهَ فَاسْتَغْفَرُواْ لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ اللّهُ وَلَمْ يُصِرُّواْ عَلَى مَا فَعَلُواْ وَهُمْ يَعْلَمُونَ أُوْلَئِكَ جَزَآؤُهُم مَّغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَجَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ [آل عمران: 133-136]
ترجمہ: اور دوڑو (مسابقت کرو) اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین (کے پھیلاؤ) جتنی ہے، جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ (133) (یہ وہ لوگ ہیں) جو خوشحالی اور تنگدستی (ہر حال) میں خرچ کرتے ہیں، غصے کو پی جانے والے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دینے والے ہیں، اور اللّٰہ نیکی کرنے والوں (محسنین) سے محبت فرماتا ہے۔ (134) اور وہ لوگ کہ جب کوئی فحش کام کر بیٹھیں یا اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں — اور اللّٰہ کے سوا گناہوں کو کون بخش سکتا ہے؟ — اور وہ اپنے کیے پر جان بوجھ کر اصرار نہیں کرتے (یعنی ضد نہیں کرتے)۔ (135) یہی وہ لوگ ہیں جن کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور (نیک) عمل کرنے والوں کا کیا ہی اچھا اجر ہے! (136)
ان آیات کے اہم نکات
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے "متقین" (پرہیزگاروں) کی چند نہایت خوبصورت صفات بیان فرمائی ہیں:
(۱) سخاوت: صرف مالداری میں نہیں بلکہ مشکل وقت میں بھی اللّٰہ کی راہ میں دینا۔
(۲) ضبطِ نفس: غصے پر قابو پانا اور انتقام کی طاقت رکھنے کے باوجود معاف کر دینا۔
(۳) رجوع الی اللّٰہ: گناہ ہو جانے کی صورت میں فوراً توبہ کرنا اور اس پر قائم نہ رہنا۔
آخر میں ہم اللّٰہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو ان مبارک راتوں میں ان اعمال کی توفیق عطا فرمائے جن سے وہ راضی ہوتا ہے اور ہمیں نفس کے شر اور اعمال کی برائیوں سے محفوظ رکھے۔ بے شک وہ نہایت فیاض، کریم اور مہربان ہے۔
